ڈرپوک ,کمزور دل

ڈرپوک ,کمزور دل

میں ھمیشہ سے ھی بہت چھوٹا ,ڈرپوک ,کمزور دل ,جلد رودینے والا انسان ھوں, ایسے ھی زندگی گزارتا آیا ھوں بجلی کا گرجنا اور آندھیوں کا آنا اندھیرے راستے اور قبرستان ھمیشہ ھی میرے ڈر کی وجہ بنے میں ڈرتے ھوئے اپنے والدین سے لپٹ جاتا تھا اور کچھ کہہ نہیں پاتا تھا پھر ان دونوں نے مجھے بہادر بنانے کا سوچ لیا اور دونوں قبرستان میں جا بسے اب مجھے ڈر نہیں لگتا بھلا ماں باپ کے گھر جا کر کون ڈرتا ھے اور میں ایک بہادر انسان بن گیا مجھے یاد ھے سکول میں جب پہلی دفعہ مقرر کے طور پر نام آیا تو راہنمائی کے لیے دو ساتھی عمار مسعود اور صاحبزادہ نعیم ساتھ تھے دونوں ھی اپنے وقت کے بہترین مقرر تھے اور یوں مقرر بننے کا یہ عمل شروع ھوا اور سلسلہ چل نکلا اعتماد بڑھنا شروع ھوا اور بڑھتا گیا چھٹی جماعت میں انگریزی زبان سے واقفیت شروع ھوئی پر غیر بھی کبھی اپنے ھوئے ھیں اسی طرح یہ زبان بھی اپنی نہ ھوئی کچھ غصہ بھی تھا وائسرائے پر جو اس نے پاکستان کی تکمیل اور تشکیل میں زیادتیاں کیں اس لیے نہیں بنی اور ھم اس زبان سے واقف نہ ھوسکے بھلا ھو استاد محترم خالد صاحب مرحوم کا جنھوں نے پوری کوشش کی یہ زبانِ فرنگی ھمیں سکھادی جائے یا یاد کرادی جائے کہتے تھے بہت آسان زبان ھے کہو ٹو گیٹ ھر together بہت آسان ھے ڈرنا نہیں کہو شاباش ٹو گیٹ ھر یوں یہ لفظ یاد ھوا پھر فرمانے لگے کہو پائی جی آن pigeon کیابنا کبوتر یوں جناب زبان فرنگی خنزیر کھانے والوں کی پلیت زبان ھمیں یاد کرائی گئ اور آٹھویں جماعت کے پرچوں سے پہلے ھماری تعلیمی کمزوری کو دیکھتے ھوئے والد صاحب نے ھمیں گھر پر استاد رکھ دئیے اور سکول سے وابسطہ ٹیوشن سینٹر سے ھٹا لیاگیا جس سے پڑھائی قدرے بہتر ھوئی لیکن ھمیں ٹیوشن چھوڑنے کے جرم میں انگریزی زبان میں فیل کردیا گیا تھا میں بھی وقت کا بہت بڑا فسادی ڈال دیا فساد استاد نے کہا محنت ھماری پیسے کوئی اور کمائے ممکن نہیں تب پتہ چلا کہہ مملکت پاکستان ایک عظیم ڈاکٹر اور سائنسدان سے محروم ھوگیا کیونکہ انگریزی میں فیل طلبہ سائنس نہیں پڑھ سکتے انکو آرٹس پڑھنا پڑھے گی یوں زبان فرنگی سے نفرت دن بہ دن بڑھتی گئی اب جنا ب دسویں جماعت اور یاد کرنی ھے ساری کتاب پر ھم نے صرف ایک نظم یاد کی جو سورۃ کوثر کی طرح سب سی چھوٹی نظم تھی, the strength of the nation اور دعا کی یا باری تعالی زندگی میں کوئی
نیک کام کیا ھے تو دعا قبول کرنا شائد نیکی چھوٹی تھی نظم تو نہیں تھی پر کچھ اشعار اسی نظم کے تھے ھم نے بھی پہلی دو لائینیں چھوڑ کر باقی لکھ دی اور مطمئن قرار پائے اوپر سے اللہ کا فضل ایک سوال کورس کے باھر سے تھا یوں سب بچوں کو پندرہ پندرہ نمبر زیادہ دئیے گئے یوں ھم پاس ھو گئے اور ھمارے دوست الیاس قریشی جن کے ایک سو چالیس نمبر تھے وہ ایک سو پچپن نمبر کے حامل ٹھرے یعنی155/150تو دوستو اس سال تعلیم کی دنیا میں دو ریکارڈ بنے ایک ھمارا پاس ھونا اور دوسرا الیاس قریشی بھائی کے 155 نمبر تاریخ دونوں عظیم شخصیات کو یاد رکھے گی میں ٹہرا اللہ کا صابر شاکر بندہ ھمیشہ خالد صاحب کا شکریہ ادا کیا نہ وہ فیل کرتے نہ میں آرٹسٹ بنتا میٹرک میں فیل ھو کر شائد کوئی بڑا آدمی بن چکا ھوتا نہ کہ نوکریاں کر رھاھوتا

Prev تراویح 
Next روزے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.