ڈسکس ھونا ھی کامیابی ھے

ڈسکس ھونا ھی کامیابی ھے
تحریر محمد اظہر حفیظ

آپ کا ڈسکس ھونا ھی آپ کی کامیابی ھے بےشک اچھے الفاظ میں ھو یا برے الفاظ میں۔ اداکارہ میرا اس فن سے بخوبی واقف ھیں اور ھر تھوڑے عرصے بعد کوئی نہ کوئی حرکت ایسی کرجاتی ھیں کہ لوگ ڈسکس کریں بے شک انکو اس کیلئے کسی بھی معیار پر گرنا پڑے۔ انکو فرق نہیں پڑتا، جان بوجھ کر غلط انگریزی بولنے سے لیکر برھنہ فلموں تک سب فارمولے آزمائے اور اپنے آپ کو کامیاب سمجھتی ھیں۔ عزت ذلت ان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ بس ڈسکس ھونا ھی کامیابی ھے ۔ اس طرح کی میرا نما کامیابیاں کئی مرد و خواتین حاصل کر چکے ھیں اور اس کے درجے بڑھاتے رھتے ھیں، مردوں میں جعلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بھی میرا ھی ھیں۔ رمضان میں شیطان بند ھوجاتا ھے اور یہ رھا ھوجاتے ھیں علماء کو گالی گلوچ سے لیکر نعوذ باللہ صحابہ کی شان میں گستاخی تک سب بہت آرام سے کر جاتے ھیں اور اگلے ھی دن انکو معافی بھی مل جاتی ھے۔ میں تو انکے بے شرم ھونے اور معافی کا خط جاری کرنے والوں پر حیران رہ جاتا ھوں، سیاست دانوں میں شیخ رشید احمد بھی مقام اداکارہ میرا حاصل کرچکے ھیں، زبان ایسی غلیظ اور متکبر کہ اللہ کی پناہ۔ انہیں سب پتہ ھے ماسوائے اپنے،ایک جھوٹے انسان کے خواب اور پیشن گوئیاں کیسے سچ ھوسکتی ھیں۔ پر شرم انکو آتی نہیں۔ اور کامیاب زندگی گزار رھے ھیں۔ کھلاڑیوں میں سرفراز نواز صاحب نے مقام اداکارہ میرا پایا اور ذلیل و رسوا ھو کر بھی اپنے آپ کو سچا اور بااصول سمجھنا ان پر ختم ھے، آج کل خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد بھی اداکارہ میرا بننے کے عمل سے گزر رھے ھیں۔ سنا تھا کیچڑ میں لڑنا سور کا پسندیدہ مشغلہ ھے اور وہ اس کا خوب مزا لیتا ھے جیتنا ھارنا اس کا مقصد نہیں ھوتا وہ مزا لیتا ھے اور آپکے کپڑے اور کردار گندے کر دیتا ھے۔ گندگی کے علاوہ ملتا کسی کو کچھ بھی نہیں ھے۔ کچھ اینکر حضرات اور انکے مہمان بھی اسی قبیل کے لوگ ھیں خاموشی پر پروگرام کرلیں وہ شور مچا مچا کر دست وگریبان ھوکر خاموشی پر پروگرام کر لیتے ھیں۔ اور اپنے آپکو کامیاب سمجھتے ھیں، اور اپنے آپ کو اداکارہ میرا ایوارڈ کے حق دار سمجھتے ھیں۔ آج ایک دھیمے مزاج کا بڑا اداکار امان اللہ خان اللہ پاس چلے گئے ۔ انکا چلے جانا ھی رولا گیا پر پیراگون سوسائٹی کی بے رحمی پر بھی رونا آیا۔ جو انکو قبر کیلئے جگہ دینے پر تیار نہیں تھے۔ پھر اداکارہ میرا ایوارڈ کے حامل فیض الحسن چوھان صاحب ایکشن میں آئے اور انکو قبر کی جگہ ملی۔
ساری زندگی لوگوں میں خوشیاں بانٹنے والا ، ھنسانے والا اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک تھا ایک باریش صاحب چوھان صاحب کو کہتے سنے گئے کہ مرنا تو سب کو ھے اور حساب بھی دینا ھے اگلے جہاں میں۔ میرے بس میں ھو تو وصیت کروں کہ مجھے امان اللہ صاحب کے پہلو میں دفنایا جائے تاکہ میرے لئے بھی آسانی ھوسکے۔ ساری زندگی مسکراھٹیں بانٹنے والا میراثی تھا ۔ اور اللہ نے جو عزت دی کئی دفعہ دل کرتا ھے دکھ دینے والا انسان بننے سے بہتر ھے کہ بندہ ایک اعلی درجے کا میراثی بن جائے۔ جس کی کوئی میراث تو ھو۔ نہ کہ ایک سڑک چھاپ بن کر لوگوں کے جہنمی اور جنتی ھونے کے فیصلے کرتا پھرے۔ وہ جو بھی صاحب تھے جو امان اللہ صاحب کو قبر کی جگہ دینے کو تیار نہیں تھے ان کو میجر صاحب کہہ کر بلانا ھماری اعلی اقدار کی حامل فوج کی توھین ھے فوج کو چاھیئے ان سے پوچھے ضرور یا پھر ان کو انکے نام سے یاد رکھا جائے عہدے سے نہیں۔
امان اللہ صاحب فن اداکاری کا بہت بڑا ادارہ تھے ۔ بہت سادگی میں بڑی بڑی باتیں کر جاتے تھے۔ بہت محب وطن انسان تھے۔ اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کریں امین۔ فیاض الحسن چوھان صاحب شکریہ وقت پر پہنچ کر قبر کی کھدائی میں مدد کرنے کا ۔ دیکھ لیں نئے پاکستان میں ایسے بڑے انسانوں کیلئے قبر کی جگہ بھی نہیں ھے۔ بس اب انکی وفات کے بعد انکی پینشن لگا کر نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دیں۔ آرٹسٹ کو عزت، دولت،شہرت بے شک نہ دیں قبر کی جگہ تو دے دیں۔ شکریہ۔ اچھا تو ھم بات کر رھے تھے خلیل الرحمن قمر صاحب کی اور ماروی سرمد صاحبہ کی ۔ کیا ان میں سے کوئی بھی امان اللہ خان صاحب جتنے قد کا انسان اور فنکار ھے ۔ دونوں ھی اداکارہ میرا ھیں جو کچھ بھی کر سکتے ھیں ڈسکس ھونے کیلئے۔ اور ڈسکس ھورھے ھیں ھمارے ھاں دن میں کئی ھزار دفعہ شٹ اپ اور الو دی پٹھی کہا جاتا ھے۔ پر یہ کچھ انوکھا ھوگیا ۔ دونوں ھی کامیاب ھوگئے اور کئے لوگ اس چنگ چی کے ساتھ لٹک کر شہرت حاصل کر رھے ھیں۔ اللہ تعالی سب کو ھی عزت دیں اور سب کی عزت محفوظ رکھیں امین۔

Prev میری مرضی
Next ماں کے بیٹے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.