گرنا، اٹھنا اور اگے بڑھنا

گرنا، اٹھنا اور اگے بڑھنا
تحریر محمد اظہر حفیظ

میری امی جان کچھ شعر اکثر پڑھا کرتیں تھیں سنایا کرتی تھیں
“گرتے ھیں شہسوار میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے “
وہ ھمیں سمجھانا چاھتی تھیں کہ کچھ کرو گے تو کامیاب یا نا کام ھوگے ۔ جب کچھ کرو گے ھی نہیں تو کیا حاصل کرو گے۔
اور دوسرا امی جان جب بھی نماز کے بعد دعا کرتیں تو انکا خیال تھا کہ میں چھوٹا ھوں کہیں پیچھے نہ رہ جاوں تو دعا کرتیں ” میرا کالو کرے قولیاں رب سدھیاں پاوے” 
میں نے اب تک جتنی بھی عمر گزاری شکر الحمدللہ مجھے دونوں چیزوں نے راھنمائی کی ۔ میں کبھی ھار کر بھی افسردہ نہیں ھوا اور زندگی میں جتنی بھی غلطیاں ھوئیں میرے رب نے سیدھی کر دیں۔
مجھے یاد ھے جب میں میٹرک میں تین مضامین میں فیل ھوا جس کا مجھے اندازہ نہیں تھا ۔ میری راتوں کی نیند اڑ گئی شاید ھی اس کے بعد میں کبھی مکمل طور پر سویا ھوں میں سوتے ھوئے بھی جاگتا ھی رھتا ھوں اس گرنے نے مجھے کبھی دوبارہ گرنے نہیں دیا۔ اور پھر میں کامیاب ھی ھوتا چلا گیا۔ لڑکیاں گرتی ھیں تو رونے لگ جاتی ھیں لڑکے گرتے ھیں تو کپڑے جھاڑ کر چل پڑتے ھیں بس دائیں بائیں دیکھتے ھیں کسی نے دیکھا تو نہیں۔ 
میری مسجد سے قرآن پڑھ کر آتا تھا تو زمین پر بیٹھنے سے ٹانگیں تھک جاتیں تھیں اور گھر آتے ھی امی جان میری ٹانگیں دباتی تھیں میرا بیٹا تھک گیا ھے۔ اسی طرح جب میری بیٹیاں تھک جاتی ھیں تو میں بھی امی جی کی طرح انکی ٹانگیں دباتا تھا۔ عبیرہ بابا جی میری ٹانگیں دبا دیں بہت تھک گئی ھوں۔ اور میں دبا دیتا ھوں جیسے میری امی جی میری ٹانگیں دبایا کرتیں تھیں۔ 
جب نیشنل کالج آف آرٹس لاھور گیا ابا جی اکثر آجاتے تھے اور مجھے اور میرے دوستوں کو کھانے پر لے جاتے ۔ ھاسٹل آتے تو پھل وغیرہ لیکر آتے۔ اب یہ کام میں بھی کرتا ھوں کچھ لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے لیکن جس طرح مجھے خوشی ھوتی تھی میرا دل کرتا ھے میری بیٹیاں بھی یہ خوشی محسوس کر سکیں۔ میرے والدین بہت نیک اور اچھے تھے اللہ انکے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کریں امین۔ میرے لیئے شاید ویسا بننا ممکن نہیں پر میں ان جیسی عادتیں اپنانے کی کوشش ضرور کرتا ھوں۔ میرے ابا جی اور امی جی سب کی مدد کرتے تھے میں بھی کوشش ضرور کرتا ھوں ۔ 
مجھے میرے والدین نے سکھایا کہ گر کر اٹھتے کیسے ھیں اور آگے کیسے بڑھتے ھیں۔ زندگی مسلسل آگے بڑھتی جارھی ھے الحمدللہ۔ اور دل مطمئن اور پرسکون ھے۔ یہ سب میرے اللہ کا مجھ پر کرم ھے اور میرے والدین کی دعائیں اور میرے بیوی بچوں کا نصیب ھے۔ شکر الحمدللہ۔
اپریل 2000 میں پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سے تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا جو اس اپریل میں 19 سال ھوگئے۔ 
پہلی کلاس میں کاظم پاشا صاحب، ساحرہ کاظمی صاحبہ سمیت کراچی کے نامور پروڈیوسرز شامل تھے دوسری کلاس لاھور میں تھی سلیم طاھر صاحب، طارق جمیل صاحب، شازیہ سکندر صاحب سمیت لاھور کے تمام پروڈیوسرز شامل تھے۔ پھر اسی طرح باقی سینٹرز پر بھی ورکشاپس کا سلسلہ شروع ھوگیا اس وقت کمپیوٹر گرافکس اور نان لینئر ایڈیٹنگ کے کورسز تھے اور اب ڈی ایس ایل آر اور ایریل فلمنگ اور نئے ٹول موضوع تھا 19 سال پہلے اللہ کا شکر ادا کرنے کیلئے کراچی میں داڑھی رکھی جب بھی شیشہ دیکھتا ھوں اللہ کا شکر ادا کرتا ھوں کہ جسنے یہ عزت بخشی اور میری ماں کی دعا کہ کالو کرے قولیاں رب سدھیاں پاوے۔ قبول نظر آتی ھے۔ 
میری ماضی کی زندگی خطاوں کے سوا کچھ نہیں ھے پر میرے رب کا کرم اور میرے والدین کی دعائیں میرے بیوی بچوں کے نصیب سب سیدھا کر دیتے ھیں شکر الحمدللہ۔ 
258 ر-ب پھرالہ تحصیل وضلع لائلپور سے نکلنے والا محمد اظہر حفیظ کہاں کہاں سے ھوکر کہاں پہنچا صرف میرا رب جانتا ھے۔ اور کوئی نہیں جانتا شاید میں خود بھی نہیں۔ 
کئی دفعہ بستر پر لیٹا سوچتا ھوں تو سب خواب لگتے ھیں ایک دیوانے کے۔ 
اور خیال آتا ھے کہ یہ سب کیسے ممکن ھے جو سب ھوا ۔ ایک لڑکا جس کو ریگل چوک اور ھال روڈ کے درمیان مال روڈ نہیں ملا کرتی تھی آج سارا جہاں گھومتا ھے اور اس کو کبھی راستے بھی یاد نہیں ھوتے ھیں پھر بھی وہ روز گھر سے نکلتا ھے شام کو یا کچھ دن بعد گھر واپس لوٹ آتا ھے۔ مجھے تو یہ سب کرم کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ بے شک میرا رب ھی ھے جو مجھے گرنے نہیں دیتا،رسوا نہیں ھونے دیتا اور جو میں سوچتا ھی ھوں بس عطا کر دیتا ھے۔ شکریہ میرے اللہ ۔ 
میری دعا ھے اللہ جی ان سب کو جزائے عظیم عطا کر جو تیرے فضل کے ساتھ ساتھ میری حوصلہ افزائی کرتے ھیں اور مجھے آگے بڑھنے میں مدد اور راھنمائی کرتے ھیں۔ انکا بھی شکریہ جو راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ھیں اور مجھے احتیاط سے چلنا سکھاتے ھیں اللہ آپ کو بھی جزائے خیر دیں امین سلامت رھیں خوش رھیں آگے بڑھتے رھیں امین۔

Prev خواب
Next پہلا روزہ

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.