گڈی گڈے دی شادی

گڈی گڈے دی شادی
تحریر محمد اظہر حفیظ

گڈی گڈے کی شادی پنجاب کا ایک روایتی کھیل ھے۔ بیٹیاں اکثر سہیلوں سے ملکر کر یہ کھیل کھیلتی ھیں اور کچھ لوگ اتنے حساس ھوتے ھیں کہ وہ گڈی کی رخصتی دیکھ کر بھی چھپ چھپ روتے ھیں شاید آپ کو نہ پتہ ھو یہ کون لوگ ھوتے ھیں۔ یہ بیٹیوں کے ماں باپ ھوتے ھیں۔ ایک طرف تو انکی پیدائش پر خوش ھوتے ھیں کہ اللہ کی رحمت آگئی اور پھر باقی زندگی ان کے اچھے نصیب کی دعا کر کر کے روتے رھتے ھیں۔ گڈی گڈے کی شادی اصل میں ریہرسل ھوتی ھے ماں باپ کیلئے کہ ذھنی طور پر تیار ھو جاو کہ جلد ھی وقت آنے والا ھے ۔جب آپ کی گڈی کی بھی شادی ھوگی۔ مجھے محسوس ھوتا ھے یہ شادیاں دیکھ دیکھ کر ماں باپ ذھنی طور پر تیار ھوجاتے ھیں۔ میرے دوست قمر نقاش بہت اچھے ڈیزائنر اور وائنلیسٹ ھیں ۔ درھم اکٹھے کرنے دبئی گئے ھوئے ھیں۔ انکی ایک بیٹی تو میری بیٹی کی کلاس فیلو ھے اور دوسری نے اس سال تھیسزز ڈسٹینگشن کے ساتھ پاس کیا ھے ۔ مجھے جب اس خوشخبری کا پتہ چلا تو کتنا ھی وقت میں روتا رھا کہ قمر پاکستان ھوتا تو کتنا خوش ھوتا پھر بیٹی ایمن کے سر پر پیار دے کر روتا رھا ۔ دلی خوشی تھی کیونکہ وہ بھی تو میری ھی بیٹی ھے بیٹیاں سب سانجھی ھوتی ھیں۔ کچھ دوستوں کو اس رونے کی وجہ سمجھ نہیں آرھی تھی یا تو یہ قمر نقاش کشمیری سمجھ سکتا ھے یا میں۔ اس بات کو سمجھنے کیلئے بیٹی کا باپ ھونا بہت ضروری ھے۔ ورنہ آپکو کیا پتہ یہ کیا خوشی ھوتی ھے۔ میرا دوست رضوان چودھری آجکل آسٹریلیا ھوتا ھے۔ بیٹی کو چننی(ڈوپٹہ) کہتا تھا۔ اکثر پوچھتا تھا اظہر بھائی میری چننیاں دی سناو کی حال چال ھے ۔ بہت اچھا لگتا تھا یہ جملہ۔ میرے اللہ نے اس سال اسد گورسی اور فرخ افضل کو بھی بیٹیوں سے نوازا اللہ ان کے اچھے نصیب کریں امین۔ اللہ سے ھمیشہ یہی دعا رھی یا باری تعالی بیٹی صرف اسی کو دینا جو اس کی قدر جانتا ھو۔ ھر کوئی اس رحمت کا حقدار نہیں ھوتا۔ بیٹی کا باپ ھونے کیلئے دل چڑیا جتنا چاھیئے ھوتا ھے۔ وہ ناراض ھوجائے تب بھی آپ نے رونا ھے آپ ناراض ھوجائیں تب بھی آپ نے رونا ھے۔ کبھی اس کے رونے پر رونا ھے اور کبھی اس کی خوشی پر رونا ھے۔ ایسے زندگی گزر رھی ھے گزر جائے گی۔ اور ایک دن اس کو رخصت کرکے رونا ھے۔باپ اس کے بچھڑنے کو نہیں روتے ۔ بلکہ اللہ روتے ھوئے کی دعا قبول کرتے ھیں۔ اللہ کو آنسو پسند ھیں۔ تو باپ اپنے دونوں ھاتھوں میں منہ کو چھپا کر روتا ھے اور اللہ سے دعا کرتا ھے یااللہ اس کے اچھے نصیب کرنا امین، کچھ دن پہلے مریم ارشد باجی اس فرض سے گزریں ھیں اور کل ضیاء کوثر بھائی اس فرض سے سبکدوش ھوئے ھیں اور فروری کے پہلے ھفتے ساجد افضل بھائی اس فریضے کو سر انجام دے رھے ھیں ۔ جلد ھماری بھی باری ھے اور آپکی بھی۔ اللہ سے دعا ھے کہ سب کی بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش رھیں امین اللہ ان کو گرم ھواوں سے بھی محفوظ رکھے امین ۔ اللہ انکی زندگی کو جنت کا نمونہ بنادیں امین۔ انکو ھمیشہ سائے میں رکھیں امین۔ آپ ھی بتائیں ۔یہ کیا بات ھوئی ۔ بابل اساں ٹر جانا اے۔ اے کوئی کرنے والی بات ھے بھلا۔

Prev سایہ
Next جی اچھا جی

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.