ھائے امی جی

ھائے امی جی
تحریر محمد اظہر حفیظ

برائے مہربانی اس تحریر کو دینی مسئلہ مت بنائیے گا۔ سادہ دلی سے پڑھیئے شاید آپ کے اندر سے بھی یہی آواز آئے، یہ ایک بیٹے کی تحریر ھے سب ماوں، بیٹوں اور بیٹیوں کے نام۔ ساری عمر گزار دی اس دشت کی سیاحی میں، بہت بڑے طبیبوں سے بھی ملے ، اعلی سے اعلی ڈاکٹروں سے بھی ملے، ھومیوپیتھک اور الیکٹرانک ھومیوپیتھک ڈاکٹرز سے بھی ملے، غذا سے علاج کرنے والوں سے بھی ملے، پیر فقیروں سے بھی ملے، اھل دانش سے بھی ملاقات رھی، سب رشتے بھی بخوبی نبھائے، بڑے بزرگوں کے بتائے دم وظیفے بھی کیئے، جم اور یوگا والوں سے بھی رابطے رھے، ھری، نیلی بوتلوں پر روشنی ڈال کر بھی دیکھی، پر آج جو اھم راز میں کھولنے جا رھا ھوں کچھ لوگوں کے علاوہ زیادہ تر اتفاق کریں گے، چوٹ لگے، زخم آئے،درد ھو، مالی یا جانی نقصان ھو، جو آرام “ھائے امی جی” کہنے سے ملتا ھے شاید ھی کوئی اور دوائی یہ اثر کرتی ھو، اس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ آپ سو سال کے ھوں یا چند ماہ کے آواز یہی آتی ھے۔ “ھائے امی جی” اس میں والدہ حیات ھوں یا وفات پاگئی ھوں پر یہ جملہ تاحیات ساتھ ھے۔ کل لاھور گیا واپس آیا زیادہ تھک گیا تھا بڑی بیٹی ٹانگیں دبا رھی تھی اور میرے منہ سے ورد جاری تھا، “ھائے امی جی، ھائے امی جی” بیٹی کہنے لگی بابا جی ایسے نہ کریں میں لگا رھا دم کرنے “ھائے امی جی، ھائے امی جی” بابا جی آپ سو جائیں میں “ھائے امی جی” کر لیتی ھوں پتر وہ تو تو اپنی ماں کو یاد کرے گی مجھے اپنی یاد کرنے دے۔ جیسے آپ کی مرضی۔ مجھے یاد ھے میرے والد صاحب کی جب بھی طبعیت خراب ھوتی تو وہ یہی کہتے “ھائے امی جی” ۔ میری والدہ بہت چھوٹی تھیں جب انکی والدہ ھماری نانی جی وفات پاگئیں تھیں جب بیماری میں “ھائے ماں جی” کہتیں تو میں اکثر کہہ دیتا امی جی آپ نے جب ماں دیکھی نہیں تو اتنا یاد کرتی ھیں رونے لگ جاتیں ۔ بیٹے سوچو اگر دیکھی ھوتی تو کتنا یاد کرتی۔
میرا یقین ھے باقی سب دواوں اور دعاوں کے ساتھ اگر یہ ورد بھی جاری رکھا جائے تو کئی مریضوں کو افاقہ ھونا یقینی ھے۔ چوتھی جماعت میں تھا ٹائیفائیڈ بخار ھوگیا کچھ ماہ چلا، امی جی اپنی گود میں میرا سر رکھ کر پٹیاں کرتیں، سر دباتیں اور میں آھستہ آھستہ کہتا رھتا، “ھائے امی جی، ھائے امی جی” اور ھرایک ھائے کے ساتھ وہ میرے سر پر ھاتھ پھیرتیں اور کہتیں جی میرے لعل اور مجھے نہیں یاد کبھی انھوں نے جواب نہ دیا ھو، نو سال ھونے کو آگئے مجھے یاد پڑتا ھے جب بھی یاد کیا انھوں نے جواب ضرور دیا، چار مہینے ھونے کو آگئے درد تو رھتا ھے کبھی کم کبھی زیادہ پر ھوں میں بڑی موج میں امی کی گود میں سر رکھے کہتا رھتا ھوں “ھائے امی جی، ھائے امی جی” وہ جواب دیتی رھتیں ھیں جی میرے لعل، جی میرے لعل اسی طرح دن رات کٹ رھے ھیں، زیرو کا بلب فیوز ھوگیا ھے اب ایک یو ایس بی لائٹ لگاتا ھوں، جو بہت کم روشنی دیتی ھے، بلب لانا کچھ بھی تو مشکل نہیں پر امی جی جو روز ساتھ آتی ھیں اس کا مزا کیسے آئے گا، کبھی کبھی چھوٹی بیٹی عبیرہ کی گود میں سر رکھوں وہ بلکل امی جی کی طرح بالوں میں ھاتھ پھیرتی ھے، فورا نیند آجاتی ھے۔
کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کو کبھی اپنی والدہ محترمہ کی یاد آئی، بھری آنکھوں سے مسکرا دیتا ھوں جس کو بھولا ھی نہیں اسکا یاد آنا کیسا، مجھے یاد ھے پانچ سال پہلے والد صاحب کا انتقال ھوگیا اور بہت ھی عجیب محسوس ھوا جب روتے روتے منہ سے نکلا “ھائے امی جی۔ ھائے امی جی” لوگ بھی سوچتے ھوں گے فوت اسکا باپ ھوا ھے رو ماں کو رھا ھے، میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ھے۔ اگر آپ کے پاس ھے تو ضرور دے دیں۔

Prev سوشل میڈیا کے دیندار
Next اور بھی تھے راستے

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.