ھجرت

ھجرت
تحریر محمد اظہر حفیظ
میں بمعہ اھل و عیال پرانے پاکستان سے نئے پاکستان ھجرت کر آیا ھوں۔ سب پرانے دوست رشتہ دار پرانے پاکستان میں رہ گئے اور ھم نئے پاکستان میں آگئے میں گھر ڈھونڈ رھا ھوں کہاں رھا جائے یا گھر بنایا جائے پہلے میرے گھر کی ھر کھڑکی پر لوھے کی گرل لگی ھوئی تھی لوھے کے گیٹ اور چوکیدار واک نہیں کر سکتے تھے لوگ موبائل پرس چھین لیتے تھے مجھے یاد ھے چند سال پہلےگلوکار گل محمد میرے پاس فوٹوگرافی سیکھنے آتا تھا پرانے پاکستان میں میرے گھر سے نکلا چنگ چی پر بیٹھا ساتھ ھی موٹر سائیکل سوار نے چنگ چی روکا اور گن پوائنٹ پر کیمرہ اور لیپ ٹاپ چھین لیا رات بارہ بجے سب طرف سے مایوس ھونے کے بعد اس کا مجھے فون آیا سر میرے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا ھے اور پولیس والے مجھ سے تفتیش کر رھے ھیں کہ یہ سب تمھارے پاس کیسے آیا اور یہ ڈرامہ کیوں کر رھے ھو اپنا حلیہ دیکھو نیکر شرٹ پہنی ھوئی ھے تمھاری اوقات ھے یہ سب لینے کی میں فورا تھانہ پیرودھائی راولپنڈی پہنچا اور درخواست جمع کروائی صبح سب کیمرہ خریدنے والوں کو کیمرہ اور لینز پر درج نمبر دے دیا کوئی بیچنے آئے تو اگاہ کیجئے گا۔ اگلے دن فون آگیا جناب چور آگیا ھے اصل شناختی کارڈ کی کاپی کروا لی ھے اور انگوٹھے بھی لگوا لیئے ھیں 35 ھزار ایڈوانس دیئے ھیں باقی شام کو بلایا ھے ھم یہ سب کاغذ لے کر تھانے پہنچے کوئی مدد نہ ملی پھر نادرا میں تعلق سے اس چور اور باقی فیملی کے پرنٹ بھی لے لئے بہت شفارشیں کروا کر پولیس کو سب ڈاکومنٹس دیئے اور بہت اعلی جواب آیا جناب یہ سب ایڈریس جعلی ھیں وھاں اس نام کا کوئی نہیں رھتا پولیس کا وقت ضائع مت کریں گل محمد کے مزید 35 ھزار لگ چکے تھے جو ادا کرکے کیمرہ لیا تھا۔
اب سوچا ھے نیا پاکستان میں ھجرت کی ھے تو اپنی مرضی کا گھر بناوں گا کھلی اور بڑی ھودار کھڑکیاں لان چھوٹی دیواریں گیٹ باھر کے مناظر کو دیکھ سکوں۔ بحریہ ٹاون گیا جائزہ لیا بہت اچھی سیکورٹی سڑکیں پانی ماشااللہ ھر چیز بہترین فیز 8 میں گھر بن سکتا تھا۔ میرے بجٹ میں۔ تھا تو بہت دور لیکن سوچا چلو سکون کیلئے دور ھی سہی دو وجوھات سامنے آئیں ایک گھر آپ اپنی مرضی کا نہیں بنا سکتے جو بحریہ ٹاون کہے گا وھی بنے گا دوسرا چوریاں بہت ھوتی ھیں کیا مطلب چوریاں پر کبھی سنا نہیں جی کوئی اخبار ٹی وی خبر نشر نہیں کرتا ۔ بہت مایوسی ھوئی۔ گلبرگ گرینز جی پلاٹ لے لیں دس سال بعد گھر بنا لیں اچھا جی آپ اسلام آباد کو دیکھیں آپ آرام سے 3 مرلے کا گھر بنالیں گے گاڑی گلی میں کھڑی کر لینا۔جی اچھا۔ سواں گارڈن بہت اچھا ھے بس پانی ٹینکر سے ڈلوانا پڑھتا ھے۔ اور کوئی مسئلہ نہیں۔ بحریہ اینکلیو بہت اچھا ھے پر پلاٹ ذیادہ بھرائی والے ھیں۔ بنی گالہ جگہ تو اچھی ھے پر ناجائز ھے۔ ملٹی گارڈنز دور ھے بھارہ کہو ٹریفک کا بہت مسئلہ ھے سارہ شہر دیکھا لیا تو ایک دوست نے بہت مناسب بات کی آپ بلاوجہ ھجرت کر آئے نیا پاکستان آپ کیلئے نہیں بنا جس طرح آپ کے بڑے آکر 258 ر۔ب پھرالہ تحصیل و ضلع لائلپور آباد ھوئے تھے کوئی گاوں دیکھ لیں پھر ساری زندگی مزدوری کریں شاید گھر نصیب ھوجائے۔ آپ کو تو ریٹائرمنٹ پر بھی اتنے پیسے نہیں ملنے کہ یہ خواب پورا ھو۔ پھر کیا کیا جائے جی بہتر ھے پرانے پاکستان چلے جائیں ویسے پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی کے فارم فل کرکے ممبر شپ لے لیں جب پلاٹ نکلے گا تو گھر بنا لیجئے گا جی میں 19 گریڈ کا آفسر ھوں میرے پاس آج تک ممبر شپ کے ایک لاکھ جمع نہیں ھوئے سوچا تھا آبائی گھر بیچ کر جو حصہ آئے گا اس سے گھر بنا لوں گا مسکرا کر کہنے لگیں بد قسمتی سے اس سیکٹر کی قیمتیں نہیں بڑی ورنہ تو گھر بن جانا تھا۔ اب میں عجیب صورتحال کا شکار ھوں نئے پاکستان میں آگیا ھوں چار بیٹیاں اور دو ھم میاں بیوی آئی ایم ایف کے ھم نے 9 لاکھ دینے ھیں جو ھم نے لیئے ھی نہیں گھر بیچ کر قرضہ ادا کردوں اور پھر کسی گاوں میں گھر تلاش کروں بلکل ویسے جیسے میرے والدین ھندوستان سے پاکستان آئے تھے ننگے سر ننگے پاوں نہ سر پر چھت نہ پاوں تلے زمین۔ ویسی ھی برسات سیلاب چور ڈاکو پولیس کسٹم سیاستدان چوکیدار رھزن رھبر عجیب کشمکش
کا شکار ھوں پرانے میں واپس جا نہیں سکتا نئے میں رہ نہیں سکتا وہ کیسے فلیٹ تھے جن کے بیچنے سے سینکڑوں کنال کے گھر بن جاتے تھے یا ھزاروں کنال کے رائے ونڈ۔
مجھے اگر نئے پاکستان کی انتظامیہ حفاظت کی ضمانت دے تو میں بخوشی اپنی مرضی کا جھونپڑا ڈال کر باقی زندگی بسر کر لوں۔ مجھے اشفاق احمد مرحوم کی بات یاد آگئی جب انکا سامان پیرس نہیں پہنچا اور وہ خود پہنچ گئے سامان کچھ دن بعد آنا تھا جہاز والوں کی غلطی سے رہ گیا تھا وہ کبھی کہیں سوجاتے کبھی کہیں انھوں نے ھوٹل تک نہ لیا ان کا کہنا تھا ھم ھوٹل یا گھر سامان کیلئے لیتے ھیں اپنے لیئے نہیں۔ ھم تو کہیں بھی رہ سکتے ھیں۔ نئے پاکستان میں پہلی عید تھی حالات تقریبا ویسے ھی تھے ساری رات جاگ جاگ کر بکرے چیک کرتے رھے کوئی لے نہ جائے اور قربانی کا احساس ھوا آپ قربانی کے جانور کے ساتھ ساتھ نیند کی بھی قربانی کرتے ھیں تو قبولیت کا مقام ملتا ھے۔ میری ساری دعائیں کپتان اور اسکی ٹیم کے ساتھ ھیں پر سر عبداللہ ھارون یہی نام تھا غالبا اس عظیم شخصیت کا جس نے پاکستان کی چھ ماہ کی تنخواہیں ادا کی تھیں اور قائد اعظم محمد علی جناح صاحب نے جب واپسی کا طریقہ کار پوچھا تھا تو جواب تھا واپس نہیں چاھیئے میں یہیں سے دوبارہ کما لوں گا اب ایسے اشخاص ڈھونڈنا ھونگے جو ملک کی بغیر کسی لالچ ساتھ دیں اور نیا پاکستان بنانے میں مدد کریں اگر اس جذبے کو سمجھنا ھے تو انکی پوتی صاحبہ بھی ھمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کے گھر کے نزدیک بنی گالہ میں ھی رھتیں ھیں ان سے راھنمائی لی جاسکتی ھے لیکن انکا گھر وزیراعظم صاحب کے گھر سے کافی چھوٹا ھے ایسے جذبے والے لوگ کیسے ھوتے ھیں جو پاکستان بنانے اور اسکو چلانے پر سب کچھ قربان کر دیں۔ 
میں اپنے حصے کا قرض اتارنے کو تیار ھوں مجھے گارنٹی دی جائے دوبارہ مجھے بتائے بغیر میرے نام پر قرض نہیں لیا جائے گا ۔ شکریہ
پاکستان زندہ باد
نیا پاکستان پائندہ باد

Prev مشورے
Next  الحمدللہ

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.