یتیم مسکین

یتیم مسکین
تحریر محمد اظہر حفیظ
آج گیارہ اکتوبر 2018 مجھے یتیم ھوئے تین سال اور مسکین ھوئے سات سال اور کچھ ماہ ھوگئے۔ میری آنکھیں خشک نہیں ھوتیں کیونکہ کمزور لاچار انسان رونے کے علاوہ کر ھی کیا سکتا ھے دنیا زور آور ھے اور میں ایک یتیم مسکین ۔ 
چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ میں نے سر اٹھا کر اور سینہ تان کر گزارہ اور اب تقریبا سات سال سے آنکھیں نم ھیں اور سر جھکا ھوا ھے ۔ جس کا دل کرتا ھے جھڑک دیتا ھے ناراض ھوجاتا ھے میں روتا رھتا ھوں مناتا رھتا ھوں مجھے کوئی نہیں کہتا محمداظہرحفیظ آج بجلی بہت زور سے چمکی ڈر تو نہیں لگا پرسوں رات ایک بجے بہت زور سے بجلی چمکی سوچا امی جی جنت میں بھی سوچتی ھوں گی میرا لال تو ڈر گیا ھوگا بس یہی سوچ کر ڈرا تو نہیں پر سہم سا تو گیا تھا۔ کچھ دن پہلے عطاآباد جھیل کی میلوں لمبی سرنگوں سے گزرنا ھوا نہیں ڈرا ھاں اگر امی ابو زندہ ھوتے تو ضرور ڈر جاتا تو خیال آیا انکے جانے کے بعد کافی بہادر ھوگیا ھوں۔ کل دس اکتوبر کو بہن سے بات ھوئی کہنے لگیں بھائی کل ابو جی کی برسی ھے اور رونے لگی کہنے لگی آج کے دن ابو جی میرا بہت بے چینی سے انتظار کرتے رھے اور جب میں آئی تو گھڑی اتار دی پوچھا گھڑی کیوں اتار دی کہنے لگے اب کس کا انتظار کرنا کس کیلئے وقت دیکھنا۔ مجھے بھی سب یاد آگیا پتر رو نہ دعا کر اور یہ علیزے میری بڑی بیٹی سے بات کر اور پھر چھپ چھپ روتے تین گھنٹے گزر گئے بیوی بھی انتظار کرتے کرتے سوگئی شاید کوئی بات کریں چھوٹے ھوتے روتے روتے ساری بات امی یا ابو کو بتا دیتے تھے میرا خیال ھے اس عمر میں روتے ھوئے بات کرنا مشکل ھے اور چھپانا آسان ۔ مجھے میرے والدین نے کبھی رونے نہیں دیا میری سب خواہشیں پوری کیں اچھے تعلیمی اداروں میں لکھایا پڑھایا پر یہ نہیں سکھایا کہ انکے جانے کے بعدچپ کیسے رھنا ھے۔ میرا کسی سے ملنےکو دل نہیں کرتا۔ بس گھر میں رھتا ھوں یا پھر نوکریاں کرتا ھوں پچھلے ھفتے ھنزہ سیر کو گیا بیوی بھی ساتھ تھی اور فکر تھی لیٹ نہ ھوجاوں گیارہ کو ابا جی کی برسی ھے اور تیرہ کو علیزے کی این سی اے کی لسٹ لگنی ھے سات اکتوبر کو ھی واپس آگیا ابا جی اور امی جی کی کمی بہت محسوس کرتا ھوں جب بیٹیاں تنگ کرتی ھیں تو اکثر روتے دل کے ساتھ میرے منہ سے نکل جاتا ھے کچھ خیال کرو میرے تو امی ابو بھی نہیں ھیں بابا ایسے نہ کہا کریں کیا کہوں سچ تو منہ سے نکل ھی جاتا ھے۔ میں ایک بہادر انسان تھا کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا تھا پر اب میرا خیال ھے سب بہادری ماں باپ کی زندگی کے سائے تلے ھے ۔ میں اب گاڑی بہت آرام سے چلاتا ھوں تیز رفتاری سے گریز کرتا ھوں امی نہیں ھیں دعا کون کرے گا ابو نہیں ھے اگر حادثہ ھوگیا تو ساتھ کون دے گا۔ میں بہت اکیلا ھوں بہت دل کرتا ھے چچا شفیق چچا نواز بھائی ظفر بھائی طاھر بھائی ناصر سے ملنے جاوں پر ھمت نہیں پڑھتی چالیس سال پہلے پھوپھو سے ملنے نواب شاہ گیا تھا اس دفعہ حیدرآباد جاتے ھوئے ڈرائیور نے بتایا سر یہ راستہ نواب شاہ کو جاتا ھے گاڑی کا رخ بدلا اور پھوپھو سے ملنے پہنچ گئے پھوپھو بھی حیران بہت پیار گیا پہلے سوچا کیک یا پھل لے جاوں لیکن ابا جی کی وفات کے بعد پہلا چکر تھا خالی ہاتھ ھی چلا گیا واپسی پر ابا جی کی عادت کے مطابق کچھ پیسے پھوپھو کو دیئے کہنے لگیں کاکا رھن دے پھوپھو ابو جی نے بھجوائے ھیں تو انھوں نے وھی جملہ میں اپنے بھائی جان دے صدقے جاواں اور رکھ لیئے میں ابا جی کے سب حوالوں سے ملنا چاھتا ھوں پر کیا کروں رو پڑھتا ھوں ڈرتا ھوں لوگ مجھے کمزور نہ سمجھیں پر یتیم اور مسکین ھوتے ھی کمزور ھیں کیا کروں۔ ابو جی کے دوست انکل سعید کا امریکہ سے فون آیا یار میری طبعیت سیٹ نہیں رھتی بہت دعائیں کی ۔ انکل فیض ملک سے اکثر ملاقات ھوجاتی ھے دعائیں دیتے ھیں اور ابا جی کا ذکر کرتے چلے جاتے ھیں۔ میرے بڑے بھائی طارق بھی زیادہ خاموش رھتے ھیں لیکن ابا جی کے نمازی دوستوں سے مسلسل رابطے میں رھتے ھیں۔ میرا بہت دل کرتا ھے اپنے گاوں جاوں امی جی کی ساتھی استادوں اور شاگردوں سے ملوں ابا جی کے دوستوں سے ملوں۔ انکے گلے لگ کر بلاوجہ رو پڑوں کیونکہ مجھے اب اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ سچی بات بتاوں میں اب رونے کے بہانے ڈھونڈتا ھوں اور کسی کو رونے کی وجہ بھی نہیں بتا سکتا کہ کیوں رو رھا ھوں۔ مجھے یاد ھے ھمارے گاوں میں گانا گانے والے ھجڑے آتے تھے اور گھروں کے دروازوں پر کھڑے ھوکر میاں محمد بخش کا کلام یا ایسے گانے گاتے تھے جس میں یتیمی اور مسکینی کا ذکر ھوتا تھا تو لوگ سنتے تھے روتے تھے اور پیسے دیتے جاتے تھے وے ایک واری فر سنا۔ میں حیران ھوکر دیکھتا تھا اس میں رونے والی کیا بات ھے۔میرے تایا جی میاں منیر اکثر ڈرامے دیکھ کر رویا کرتے تھے اور مجھے اب وہ سب کچھ سمجھ آتا ھے وہ رونے کی وجہ کیا تھی۔ 
میری بیٹی فاطمہ بابا جی ابو جی کہتے تھے تیرا بابا ھر وقت کاموں کے پیچھے بھاگتا رھتا ھے اسے کہاکرو میرے پاس بیٹھے جی بیٹے بیٹھتا تو تھا نہیں بابا جتنا وہ چاھتے تھے آپ اتنانہیں بیٹھتے تھے میری جان میں ابو جی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا اس لیئے زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا تھا جب ابا جی زیادہ بیمار ھوئے تو کرسی پر بیٹھا کر انکو غسل کرواتا تھا یار تو باھر جا مجھے شرم آتی ھے خود نہا لوں گا ابو جی جب مجھے نہلاتے تھے تو میں نے تو کبھی نہیں کہا تھا یار تو اس وقت چھوٹا تھا تو کیا ھوا اب آپ چھوٹے ھیں اچھا کر اپنی مرضی اور یوں بات چیت کرتے وقت گزر جاتا۔ اب ابا جی اور امی جی دونوں ساتھ نہیں ھیں ۔ انکی باتیں ھیں یادیں ھیں اور اس یتیم مسکین کا رونا ھے۔ ایک درخواست ھے جب بھی کبھی کسی یتیم اور مسکین سے ملیں محبت سے پیش آئیں اور اپنے والدین کا اس سے زیادہ خیال رکھیں جس کے وہ حقدار ھیں۔ اللہ سب کے والدین کو سلامت رکھیں امین جن کے وفات پاگئے ھیں انکی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کریں امین سب والدین کیلئے دعا کی درخواست ھے والدین کی وفات کے بعد بہنوں کا خاص خیال رکھیں انکو کبھی خالی ھاتھ نہ بھیجیں اور خب انکے گھر جائیں تو کچھ نہ کچھ ضرور لیکر جائیں انکا حوصلہ بنیں اور انکے سامنے مت روئیں پر میرے سے ایسا نہیں ھوتا رو پڑتا ھوں بڑی بیٹی بابا سب کے سامنے نہ رویا کریں کیوں میری جان بابا میں بھی رو پڑھتی ھوں بس آپ میرے لیئے نہ رویا کریں اب کہوں اسکو وہ اوپر کمرے میں ھے اور میں نیچے اس سے چھپ کر رو رھا ھوں اور امی ابو کو یاد کر رھا ھوں۔ سلامت رھیں سب کے والدین امین

Prev وارث
Next اسلام آباد سے خنجراب

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.