یہ کیا ھو رھا ھے

یہ کیا ھو رھا ھے

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ 

ھر طرف الزام تراشی جھوٹ گالیاں الزامات تہمتیں دینی پروگرام ھوں یا سیاسی سوشل میڈیا ھو یا الیکڑانک میڈیا یہ کیا ھو رھا ھے اتنی کیا پریشانی ھے اگر ایسے نیا پاکستان بنانا ھے تو بن گیا ۔
اللہ کا واسطہ ھے رمضان کا تو احترام کریں کبھی شبنم صاحبہ کبھی مریم نواز صاحبہ کبھی عائشہ گلا لئی صاحبہ کبھی ریحام صاحبہ کبھی بشری مانیکا صاحبہ کبھی ملالہ یوسفزئی صاحبہ کبھی عاصمہ جہانگیر صاحبہ کبھی شیریں مزاری صاحبہ کبھی ملیحہ لودھی صاحبہ کبھی شرمیلا فاروقی صاحبہ کبھی فریال تالپور صاحبہ کبھی بے نظیر صاحبہ کبھی فاطمہ جناح صاحبہ کبھی کوئی کبھی کوئی یہ کونسا معاشرہ پنپ رھا ھے جو عورت کو دیوار عورت کو ڈھال عورت کو مثال بنا رھا ھے یہ کونسے دین کی بات ھو رھی ھے جو ایک دوسرے کو کافر کافر کہہ رھے ھیں کیا ھم میں برداشت کا مادہ ختم ھوتا جا رھا ھے اللہ اور اس کے رسول کا واسطہ ھے تحمل اور برداشت پیدا کرو بھائی چارے کی بات کرو اخوت کی بات کرو۔
فوج بھی ھماری سیاستدان بھی ھمارے چور بھی ھمارے دیانتدار بھی ھمارے سنی بھی ھمارے دیوبندی بھی ھمارے اہلحدیث بھی ھمارے شیعہ بھی ھمارے سب مسلمان ایک اور ھمارے عیسائی بھی ھمارے سکھ بھی ھمارے ھندو بھی ھمارے بدھ مت بھی ھمارے پارسی بھی ھمارے آغا خانی بھی ھمارے سب پاکستانی ھمارے خواہ کسی بھی رنگ و نسل سے ھوں یا مذھب سے سب ھمارے ایک ھوجاو نیک ھوجاو نہ پریشان ھو نہ پریشان کرو اپنی عزت بچاو دوسروں کو عزت دو۔ رحم کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے۔شفقت سے پیش آو خندہ پیشانی سے پیش آو سب پاکستانی ھیں۔ میرا دل دکھی ھے جس طرف دیکھو ایک دوسرے کی عزت اچھال رھے ھیں اور اس کو حق سمجھتے ھیں۔ظالمو بس کرو بس کرو علما مسخرے بن رھے ھیں مسخرے عالم کچھ حیا کرو اپنے کام سے کام رکھو اپنی حدود متین کرو دین دنیا ملک سب کو بچا لو مجھے میرا ووٹ ڈالنے دو یہ میرا حق میرے پاس ھی رھنے دو زبردستی نہ کرو مہربانی کرو میں اسلام آباد میں رھتا ھوں اور آپکا رویہ مجھے ایسے ھی مجبور کر رھا ھے جیسے پنجاب کا جاگیردار سندھ کا وڈیرا بلوچستان کا نواب اور خیبر پختون خواہ کے خان زبردستی اپنے مزاروں سے ووٹ ڈلواتے ھیں میرے ذھن کو پابند مت کرو مجھے آزاد پاکستان کا آذاد شہری رھنے دو مجھے میرے دین میں رھنے دو اگر میرا کوئی فرقہ نہیں ھے اگر میرا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ھے تو کیا یہ جرم ھے مجھے جینے دو اور میرے فیصلے آپ مت کرو پلیز مجھے میرے فیصلے کرنے کی آزادی دو کبھی مجھے یوتھیا کہتے ھو کبھی مجھے پٹواری کہتے ھو کبھی مجھے مولوی کہتے ھو کبھی مجھے کافر کہتے ھو تم کون ھو اور کون ھوتے ھو میرے یہ سب فیصلے کرنے والے میرا ملک جانتا ھے میں کون ھوں اور میرا رب جانتا ھے میں کون ھوں اور مجھے پتہ ھے مجھے کیا کرنا ھے میرے ماں باپ ھندوستان چھوڑ کر پاکستان آئے قربانیاں دیں تکلیفیں اٹھائیں پاکستان بنتے دیکھا اور ایک اچھے وقت پر اللہ پاس چلے گئے شکر الحمداللہ میری ماں زینب کا قصور کیسے دیکھتی میرا باپ جو کسی کی سخت بات برداشت نہیں کرتا تھا وہ کیسے ان جوانوں کی جو مختلف سیاسی جماعتوں کے دعویدار ھیں ان کی زبان برداشت کرتا میری چار بیٹیاں ھیں انکے ساتھ بازار جاتے ڈر لگتا ھے انکو گھر سے باھر لیجاتے ڈر لگتا ھے میں اپنا حق نہئں مانگ سکتا میں اپنا ووٹ خود نہیں دے سکتا میں مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاسکتا انکے پاس کئی سوال ھیں جو سوال سنا تھا قبر میں ھوں گے وہ مسجد میں پوچھتے ھیں مجھے کیا لینا دینا سعودی عرب سے ایران سے وہ کیوں بناتے ھیں میرے ملک میں مسجدیں مدرسے۔مجھے ایسی نفرت سے بھری مسجدیں اور مدرسے نہیں چاھیئے مجھے ایسی مسجدیں چاھیئں جو ھم خود بنائیں اور اس میں ھمارے رب کی بات ھو ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ھو اسوہ حسنہ کی بات ھو قرآن کی بات ھو حدیث کی بات ھو سنت کی بات ھو فرض کی بات ھو اس کے علاوہ خاموشی نصف ایمان ھے پر عمل ھو۔مجھے بڑھی بڑھی خالی مساجد کی ضروت نہیں اللہ کے گھر چاھیئں جب داخل ھوں تو اللہ ھے بس پیار ھی پیار محسوس ھو نہ کہ مسجد کے حجم سے ڈر آئے۔جو دنیا کی بڑی سے بڑی مسجد پاکستان میں بنا رھے ھیں ان سے درخواست ھے انکو آباد کرنے کی بھی کوئی ترغیب دیں دین کو آسان بنانے میں مدد دیں مساجد بے شک تھوڑی چھوٹی بنا لیں۔انصاف چاھیئے جناب عالی انصاف 100 فیصد انصاف کسی کی کوئی معافی نہیں سب سے پہلے مجھے سزا دیں پھر باقی سب کو۔
ڈیم بنائیں ۔سڑکیں بنائیں ۔ھسپتال بنائیں۔سکول بنائیں ھمارے پیسوں سے بنائیں اور ھمارے لیئے بنائیں۔ ایک عرض ھے مجھے میرے بچوں کو پاکستان میں جینے دو۔ماں باپ پہلے ھی مرگئے انکی بات نہیں کر رھا جو زندہ ھیں انکو تو اپنی اپنی زندگی جینے دو ۔ پاکستان زندہ باد

Prev حلف نامہ
Next الیکشن 2018

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.