رب دی مہربانی
تحریر محمد اظہر حفیظ

49 سال زندگی دے رب دی مہربانی تو سوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔ 
سائیکل تے ابا جی نال بیٹھنا انھوں نے کہنا یار میرے بازو سے ٹیک لگا اور تو آلو بخارا کھا میرا پتر ۔ اور میں سائیکل کے ھینڈل کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھا رھتا۔ وہ ھنستے یار اظہر میرا اعتبار کر میرا پتر میں تمھیں نہیں گرنے دوں گا ۔ اور میں سائیکل کا ھینڈل چھوڑ ابا جی کے بازو سے ٹیک لگا کر آلوبخارہ مزے سے کھانے شروع کردیتا ابا جی سائیکل چلاتے جاتے اور یوں ھم ڈجکوٹ جو ھمارے گاوں سے کچھ فاصلے پر بڑا قصبہ تھا سے اپنے گاوں پھرالہ پہنچ جاتے ۔ ابا جی کہتے پتر جدوں ماں باپ نال ھون فر نہیں ڈری دا۔ جی ابا جی۔ 
جب مجھے پتا چلا اللہ باری تعالی تو ماں باپ سے کہیں زیادہ اپنی مخلوق سے پیار کرتے ھیں تو میں سچ بتاوں میرا اللہ باری تعالی سے ڈر ھٹ گیا اور میں نے ھمیشہ انکو مہربان اور رحم کرنے والا دوست پایا۔ 
مجھے کئی دفعہ بتانے والے کی باتوں پر شک گزر جاتا ھے جب وہ سزاؤں اور عذابوں کی باتیں کرتے ھیں میں یہ سوچ کر دل کو تسلی دے لیتا ھوں یہ میرے رب کی شاید بات نہیں کر رھے ۔ کیونکہ میرا رب تو مہربان اور شفیق ھے۔ مجھے تو اللہ کے حوالے سے جب کوئی ڈرانے کی کوشش کرے تو میں کوشش کرتا ھوں اس کی بات کو نظر انداز کردوں کیونکہ میرے اللہ تو بس پیار ھی پیار ھیں۔ انکی مہربانی ھے جو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا۔ محترم محمد حفیظ احمد جیسا باپ اور محترمہ شہناز بیگم جیسی شفیق ماں عطا کی۔ اچھے بہن بھائی خیال رکھنے والےبیوی بچے عزیز رشتے دار عطا کیے۔ رزق حلال عطا کیا ۔ صحت مند زندگی دی، صحت مند اولاد عطا کی۔ کیسے اس کی مہربانیوں کا شکر ادا کروں۔ محبت کرنے والے خیال رکھنے والے دوست عطا کئے۔ دیکھنے والی آنکھ عطا کی۔ میرے جیسے بیوقوف کو عقل عطا کی۔ دنیا اور آخرت کی سمجھ عطا کی۔ سجدہ کرنا سکھایا اس قابل بنایا کہ میں سجدہ ادا کر سکوں ورنہ باغی کی کیا زندگی ھے۔ 
چلنے پھرنے کے قابل بنایا۔ بہترین رزق عطا کیا۔ عزت شہرت علم عطا کی ۔ 
میں جب سوچتا ھوں تو مجھے سب ایک اچھے خواب کے علاوہ کچھ نہیں لگتا۔ پر یہ سب میرے رب کی مجھ ناچیز پر مہربانی ھے۔ 
جو سوچا سب عطا کیا۔ ماں باپ اور بیوی بچوں کے ساتھ مکہ مدینہ دیکھا وھاں کی عظیم گلیوںمیں گھوما۔ میں کہاں تھا اس قابل سب میرے رب کی کرم نوازی ھے۔ یا اللہ تیرا شکر ھے۔ الحمدللہ۔ 
کہاں مریڈ حسن میں مجھے اپنا گھر بھول جاتا تھا اور کہاں میں سارا جہاں گھوم پھر کر پھر اپنے گھر آجاتا ھوں۔ 
کہاں سائیکل سے اترنا نہیں آتا تھا اور ابھی سوچتا ھوں جہاز چلانا سیکھ لوں ۔طاھر بھائی کا باکس کیمرہ اور دوسرے کیمرے میں مجھے چھونے اچھے لگتے تھے میرے بچپن کی تصویریں یاتو تایا زادطاھر بھائی نے بنائی ھیں یا پھر خالہ زاد نواز بھائی نے۔ مجھے وہ خوشی کا موقع آج تک نہیں بھولتا جب تایا جی انور مرحوم ھمارے لئے کوڈک کا ون ٹین پہلا کیمرہ سعودی عرب سے لیکر آئے تھے شاید میں کلاس چہارم کا طالبعلم تھا۔ میرے فوٹوگرافر بننے میں اللہ تعالی کے کرم کے بعد طاھر بھائی،نواز بھائی،تایا جی انور،میرے والد صاحب میرا بھائی طارق اور میرے بیوی بچوں کا بہت عمل دخل ھے۔ سب نے ھمیشہ میرا ساتھ دیا اور مجھے محمد اظہر حفیظ سے فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ بننے میں بہت مدد کی۔ پروفیشن اور تعلیم کے حساب سے میں گرافک ڈیزائنر ھوں اور پاکستان ٹیلیویژن میں بطور ڈپٹی کنٹرولر گرافکس کے طور پر خدمات سر انجام دیتا ھوں۔ لیکن میرے رب نے جیسے میری پہچان بطور فوٹوگرافر کروائی ھے اسکا میں شکر کیسے ادا کروں۔ بس سب اسکی مہربانی ھے۔ میری بیٹی کہتی ھے بابا جی یار آپ کو سب کیسے جانتے ھیں۔ میں بس اتنا ھی کہہ پاتا ھوں میرے رب کی مہربانی ھے پتر ورنہ میں کہاں اس قابل تھا۔ دعا کیجئے گا اللہ مجھے ھمیشہ اپنا شکر گزار بندہ ھی رکھے۔امین 
کیونکہ ھونا تو وھی ھوتا ھے جو میرا رب سوھنا چاھتا ھے۔ ایک ایسا بچہ جو تایا جی منیر کے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کو تھوڑا سائیڈ سے ھو کر دیکھتا تھا کہ شاید اگلا سین نظر آجائے کیونکہ میں لوگوں سے پہلے جاننا چاھتا تھا کہ اگے کیا ھوگا اور آج دنیا کو سکھاتا ھوں یہ سین کیسے بنتے ھیں۔ مجھے رب کی مہربانی کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا اور نہ ھی سمجھنا چاھتا ھوں ۔ اللہ ھر اس انسان کو اجر عظیم عطا کرے جس نے میرے اس سفر میں میری مدد کی اور مجھے اللہ کا بندہ ھی رھنے دیا۔ بے شک میرے اللہ سب سے بہتر جانتے ھیں۔ شکریہ اللہ تعالی جی۔

Prev مزے زندگی کے
Next بے یقینی

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.