تصویر

تصویر
تحریر محمد اظہر حفیظ

کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھا میں اپنے تصورات میں گم ۔ جیسے ماونٹ ایورسٹ پر بیٹھا ھوں۔بڑا آدمی بن گیا ھوں۔پتہ نہیں کیا کیا سر کر لیا ھے۔ میرے ھر طرف تصویریں ھی تصویریں زمین پر بکھری جو پڑیں تھیں۔
جب درمیاں ان کے میں آ بیٹھا تو پتہ چلا مجھکو
یہ میری ھی تصویریں تھیں۔ کہیں میں الو تھا تو کہیں میں گدھا، کہیں میں نانگا پربت تھا اور کہیں جھیل سیف الملوک، کہیں میں بیل دوڑ کا بیل تھا اور کہیں اس کی پیٹھ میں چبنے والی چابک، کہیں میں گھوڑ سوار تھا اور کہیں اس کا نیزہ، کہیں میں سکول جاتے بچے کی تختی تھا اور کہیں اس پر لکھا الف ، کہیں میں کینیا کا حبشی تھا اور کہیں میں چینہ ،کہیں میں استاد تھا اور کہیں شاگرد کہیں میں فوٹوگرافر تھا اور کہیں تصویر۔بہت شور تھا لوگ مجھ سے پوچھ رھے ھیں۔
اس تصویر میں کیا ھے تو میں قہقہے لگاتا جواب دیتا میں ھوں اس تصویر میں میرے سپنے ھیں اس تصویر میں، میرے تیس سال ھیں زندگی کے ، میرے حاصل کے میری محرومیوں کے، میں پہلے مسکین پھر یتیم ھوگیا پر ان کے ساتھ ساتھ رھا میں بیٹے سے باپ بن گیا اور پھر باپ سے بےبی عجیب وغریب میرے سفر تھے اور پھر ایک دن مجھے اس چھوٹے بےبی کو کوئی اٹھا کوڑے کے ڈھیر پر چھوڑ گیا مجھے میرا قصور نہیں پتہ تھا بس کوڑے کے ڈھیر پر لیٹا سوچ رھا تھا کتنا بلند پہاڑ ھے اور میں منا سا بے بی گر کر ھلاک ھی نہ ھوجاوں میں تو بے بس لاچار ھوں مجھے تو رونے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ سردی بھی بڑھ رھی ھے اور میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ھے سنا تھا پھینکنے والے کمبل میں لپیٹ کر پھینکتے ھیں تاکہ آخری لمحے بھی یاد رکھیں ماں کی ممتا کیسی ھوتی ھے۔ ھائے نی مائیں مجھے کون ننگا پڑنگا چھوڑ گیا نہ گرمی کا خیال کیا نہ سردی کا یہ کون ھے جو مجھے گدگدی کرکے ھنسا رھا ھے کون ھے اچھا چھوٹے چھوٹے کیڑے ھیں جو میرے ننگے جسم پر رینگ رھے ھیں اور مجھے گدگدی ھورھی ھے مجھے ڈر نہیں لگ رھا بلکہ ھنسی آنا شروع ھورھی ھے واہ میرے مالک کہاں کہاں کیا کیا بندوبست کر رکھے ھیں۔ مجھے اب نہ ڈر لگ رھا ھے اور نہ ھی خوشی محسوس ھو رھی ھے میں تو وہ خود کش ھوں جسکو پتہ ھے مرنے کے بعد دوزخ میرا مقدر ھے پھر بھی میری تربیت کرنے والا جنت کے خواب دکھا کر مرنے کی طرف لے جا رھا ھے۔
اور میں بھی ظالم ایسا کہ مرنے کو تیار ھوں اور شاید مر ھی چکا ھوں۔ جو ماں میری نے یاد کرائے تھے سب سوال،قبر میں کام آئیں گے پر جو کوئی پوچھ رھا ھے۔ تیرا رب کون ھے؟ کس کے امتی ھو؟ کس کے ماننے والے ھو؟ ایمان کس پر ھے؟ دین کیا ھے؟ سب بھول گیا ھے۔ یہ سانپ کیوں پھن پھیلائے کھڑے ھیں۔ میں کہاں ھوں میری تصویریں میری مدد کیوں نہیں کر رھیں۔ یہ زمین پر کیوں پڑی ھیں دیواروں پر کون لگائے گا۔ چلو اٹھا کر ڈائننگ ٹیبل پر رکھتے ھیں ۔ جو رزق رکھنے کی جگہ ھے۔
نہیں تو میں خود زمین پر انکے برابر آجاوں شاید یہ مجھے معاف کردیں جن کو میں نے کھلی فضا سے فریموں میں قید کردیا۔ یہ اڑتے بادل،چہچہاتے پرندے، مسکراتے چہرے، دھاڑتے شیر، بہتے جھرنے، لہلاتے کھیت، روشن سورج، چمکتی بجلی، رات کے اندھیرے، صبح کے سویرے،رات کے چاننن، چولستان کی گرمی، سیاچین کی سردی، ھنزہ کا خزاں، اسلام آباد کی بہار، بابو سر ٹاپ کی سرد ھوائیں،خنجراب پاس، آئی بیکس، دنیا کے پانچ بڑے جانور، کیا کیا کیسے یہ سب کردیا میں نے۔ قید کردیا انکو جو آزاد تھے مجھے اس جرم کی سزا مل رھی ھے مجھے بھی آزاد سے قید کیا جارھا ھے کتنے ھی فریم ھیں چھوٹے بڑے پتہ نہیں میں کس میں قید ھوجاوں باقی زندگی دیوار پر لٹک کر گزار دوں یا شاید کاغذ میں لپیٹ کر سنبھال دیا جاوں ۔ اب پتہ نہیں سزا کیا ھوتی ھے دیوار پر لٹکنے کی یا پھر دیوار میں چننے کی ۔ میں تو ایک تصویر ھوں مجھے کیا۔ جو بھی سلوک کیا جائے۔ یاد رکھنا تصویریں اور فریم سوچتے ھیں بولتے ھیں۔ محسوس کرتے ھیں انکی حرمت کی پاسداری کرنا ورنہ رسوا ھو جاو گے۔ انکو بے جان مت سمجھنا۔ یہ بھی تو کسی کی جان ھیں شاید میری ھی۔ کیونکہ میں ایک فوٹوگرافر ھوں اور یہی میرا کام ھے مجھ پر میرے اللہ کا خاص کرم ھے ۔جو ایسی تصاویر بناتا ھوں جو جاندار ھوں جو بولتی ھوں ھزار ھزار لفظ۔ میں ان کے دکھ میں دکھی ھوتا ھوں روتا ھوں انکی خوشی میں خوش ھوتا ھوں قہقہے لگاتا ھوں اور بعض اوقات جب تصویر چپ ھوتی تو میں بھی چپ ھوجاتا ھوں ۔ گونگی بہری تصویریں میں نہیں بناتا اور نہ ھی مجھ سے بنتی ھیں وہ اور لوگ ھیں جو ٹرانسپلانٹ کرتے ھیں کچھ تصاویر کے جزو کچھ اور تصاویر میں۔یاد رکھنا ٹرانسپلانٹ تاحیات نہیں ھوتا جز وقتی ھوتا ھے۔ تصویروں میں ردو بدل کرنے سے اپنے آپ کو سرجن مت سمجھیں۔ فوٹوگرافر ھی رھیں فوٹوگرافی کریں ۔ شکریہ۔ میں قدرت کو نہیں چھیڑتا اور اسکی مہربانی ھے کہ وہ مجھے نہیں چھیڑتی۔

Prev فرشتے
Next چھوٹے فریم

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.