13 مئی ماوں کا عالمی دن

13 مئی ماوں کا عالمی دن

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ

مجھے آج واجد شہاب بھائی کا میسج آیا بھائی امی اللہ پاس چلی گئی ھیں واجد بھائی کی امی باجی ثریا ایک دبنگ خاتون تھیں ساری زندگی سر اٹھا کر گزاری لیکن بھائی چوھدری ظہورکی وفات کے بعد ان سے ملاقات نہ ھوسکی۔ بھائی عبدالقیوم کے جنازے پر جارھے تھے راستے دھند کی وجہ سے بند تھے انتظار کرنے والی گاڑیوں میں واجد بھائی بھی تھے سلام دعا کے بعد کہنے لگے امی جی بھی ساتھ ھیں یہ باجی ثریا سے آخری ملاقات تھی بہت کمزور ھوگئی تھیں پیار دیا اظہر کی حال اے اپنی باجی نوں بھل ھی گئے نہیں باجی کام کی مصروفیت اور پھر میرے بڑے بھائی سے گلے شکوے طارق تیری تے میں وڈی باجی آں جی باجی بس پھر راستہ کھل گیا منزل ایک تھی گاڑیاں دو چل سو چل جب باجی کی وفات کا پیغام ملا میں مری میں فیملی ساتھ تھا سامان باندھا اور اسلام آباد کے لیئے چل پڑے باجی کے جنازے میں شرکت ضروری تھی چپ سی لگ گئی اس سے پہلے ھاکی کے گول کیپر منصور احمد کی 49 سال کی عمر میں وفات کا دکھ تھا وہ ھمارا کالج کے زمانے کا دوست تھا اور اب سب یادیں میجر عامر بلال کے ذریعے تازہ ھوئیں جو اس کے علاج کیلئے بھاگ دوڑ کر رھے تھے سب بندوبست ھوگیا تھا بس موت نے علاج کی مہلت ھی نہ دی بس ایک چپ سی لگی تھی رونا چاھتا تھا پر ضبط پر قائم تھا ابھی کشمیر پوائنٹ پر ھی تھے کہ طارق بھائی کا فون آگیا یار تجھے پتہ ھے نیلم ویلی میں کوئی حادثہ ھوا ھے جی بھائی تقریبا چالیس لوگ تھے اس پر انھوں نے بتایا اس میں ماموں زاد بہن ریحانہ کا جواں سال بیٹا عبدالرحمن بھی شامل تھا اور اس کے چار کلاس فیلو عبدالرحمن کی موت واقعہ ھوگئی اور باقی تین دوستوں کی لاشیں مل گئی ھیں ایک کی تلاش جاری ھے بس ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور میں روتا ھوا گاڑی چلا رھا تھا بیوی نے بتایا آپ نے تنویر بھائی اور انکی فیملی کو اللہ حافظ بھی نہیں کہا خیریت ھے پھر میں نے اسکو سب بتا دیا اور کھل کر رویا یار یہ کیسا ماوں کا دن ھے کچھ بچے ماں کا جنازہ اٹھائیں گے اور کچھ بچوں کے والدین بس میری ھمت جواب دے گئی میں اس قابل نہیں تھا باجی کے جنازے میں شرکت کرتا بڑے بھائی مجھے لئے بغیر چلے گئے اس کی حالت ٹھیک نہیں مجھے بھائی کا فون آیا عبدالرحمن کے والد سعید بھائی مظفرآباد پہنچ گئے ھیں میت لینے اتنی دیر لگتی ھے مظفرآباد پہنچنے میں یار زخمی ھوتا تو اڑتے ھوئے پہنچ جاتے میت اور جوان بیٹے کی میت قدم چھوٹے ھوجاتے ھیں اور میں پھر رو دیا بیٹے ماں باپ کے جنازے اٹھاتے ھیں تو روتے ھیں پر جب ماں باپ بچوں کے جنازے اٹھاتے ھیں تو کیا حال ھوتا ھے میرے الفاظ سے باھر ھے اللہ سب والدین کو اس دکھ اور تکلیف سے بچائیں امین اللہ باجی ثریا کے بچوں بہن بھائیوں، منصور بھائی کے بچوں والدین بہن بھائیوں اور عبدالرحمن کے والدین اور بہن بھائیوں کو صبر جمیل عطا فرمائے امین جانا سب نے ھے موت برحق ھے پر کبھی کبھی دل نہیں مانتا کیا کروں باجی ریحانہ میری ماموں زاد بہن سدا کی ھنس مکھ مجھ میں ھمت نہیں آپ کا سامنا کرنے کی سعید بھائی سے ملنے کی آپکا یہ بھائی بہت کمزور انسان ھے کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا بس رونے کے علاوہ کچھ نہیں آتا سوچا تھا ماوں کے عالمی دن پر کچھ لکھوں گا اپنی ماں کے بارے میں پر امی آج آپکی طرف دھیان ھی نہیں گیا اور ماوں کو انکے بچوں کے دکھ کو سوچتا رھا معاف کر دیجئے گا یہ سب آپ کو جنت میں ملیں گے ایک دوسرے کا خیال رکھیئے گا اللہ ماوں کو اور انکے بچوں کو صبر دیں امین تمام وفات پاجانے والے والدین اور بچوں کی بخشش کریں امیں لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں امین

Prev محترم جج بہادر صاحب احتساب عدالت
Next دھشت گرد

Leave a comment

You can enable/disable right clicking from Theme Options and customize this message too.