بدتمیز

بدتمیز
تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ
این س اے کے دنوں کی بات ھے ھاسٹل سے مولا چائے والے کی طرف جارھے تھے میاں نعیم، اعجاز اگے تھے اس سے پیچھے آفتاب افضل، فائق مغل اور رضوان قدیر تھے سب سے پیچھے میں اور ملک اشرف جارھے تھے کوئی الیکشن کا سیزن تھا اور ھلکی ھلکی رم جھم ھورھی تھی، غالباََ رات دو بجے کا وقت تھا، دیواروں پر نعرے اور شعر لکھے تھے جماعت اسلامی کا امیدوار، اس سے اگے یار یہ ناھید اختر گلوکارہ کا بھائی ھے کوئی راڈو، والے صاحب تھے ملک اور میں دیواریں دیکھتے جارھے ھیں پیپلز پارٹی کے امیدوار نے لکھا تھا ” ھمارے ساتھ وہ چلے جو سر اٹھا کر چلے” ملک اشرف یکدم گویا ھوا پیا اے قوم نوں بدتمیز بنائے گا بندہ او ھی چنگا اے جیڑا سر جھکا کر چلے، اور جب رزلٹ آیا تو، جماعت اسلامی کا امیدوار جیت گیا، شکر ادا کیا قوم بدتمیز ھونے سے بچ گئی، لیکن جو آج کا دور چلا ھے پتہ نہیں لیڈروں کو کیا ھوا ھے اوئے سے نیچے کوئی بات نہیں کرتا، فیس بک پر سٹیٹس لگاتے وقت بھول جاتا ھے فرینڈز میں کون کون شامل ھے بہن بھائی ماں باپ استاد دوست دشمن لیکن جب وہ گالی لکھنا اپنا فرض سمجھتا ھے تو تربیت کہاں گئی، میں مانتا ھوں ھم بہت پسماندہ ، تنگ ذھن، اور پینڈو ھیں، لیکن میرے والد اپنے سے بڑے کو نام سے بھی بلانے پر سخت سزا دیتے تھے ھم گھر میں کام کرنے والوں کو چچا یا باجی کہ کر بلاتے تھے، جہانگیر قریشی ھمارے کلاس فیلو تھے این سی اے میں،ان کے والد صاحب جنرل مینیجر ریلوے تھے بہت بڑے انسان تھے گورنر ھاوس کے ساتھ ان کو ریلوے کا بہت بڑا گھر ملا ھوا تھا ھم اکثر جب زیادہ کام ھوتا تو جہانگیر یا ہاسٹل اجاتا یا ھم اس، کے گھر چلے جاتے، جب میں انکے ملازمین کو کہتا چاچا پانی پلا دیں چاچا چائے پینی ھے تو جہانگیر اکثر یار اظہر یہ ملازم کیسے چاچا، ھو سکتا ھے میں ھنس دیتا یار میرے اباجی بہت برا مناتے ھیں اپنے سے بڑے کو بھائی جان یا چچا کے علاوہ بلایا جائے تو اس لیے اب یہ پکا ھی ھو گیا ھے، اکثر آفس میں جب بھی کسی کو، بلاتے ھیں بھائی،بھائی جان ھمارے دوست کہنے لگے اظہر صاحب ھر جگہ رشتے داریاں نہ نکالنے بیٹھ جایا کریں میں نے معذرت کے ساتھ انکو کہا، راجہ صاحب اپکو کیا سمجھاؤں مجھے ایسے ھی رھنے دیں، مجھ میں لاکھ برائیاں ھوں گی اللہ مجھے معاف کر دیں امین لیکن میں بدتمیز ھرگز، نہیں ھوں، مجھے یاد ھے جو پہلی کہانیاں میری امی جی مجھے سناتی تھیں جو میری یاد، میں محفوظ ھیں وہ معاف، کرنے کی ھیں کیسے میرے نبی محترم صلی الله عليه وسلم نے لوگوں کو معاف فرمایا جس، عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبایا، تھا ھند نے جب پوچھا عام معافی میرے لیے بھی ھے تو میرے نبی صلی الله عليه وسلم رحمت دوجہاں نے انکو، بھی معاف کردیا، میری ماں ھمیشہ ھمیں درگزر، کرنے معاف کرنے سچ بولنے والی سبق آموز کہانیاں سناتی تھیں، ایک دن میں اپنے کمرے میں تھا باھر بیل ھوئی علیزے، میری بیٹی نے گیٹ کھولا اس والدہ نے پوچھا، بیٹے کون ھے آواز آئی کام والی میں نے بلا کر پہلی دفعہ اور شائد آخری دفعہ اس کی کلاس کی بیٹا آنٹی کہتے ھیں خالہ کہتے ھیں پھوپھو کہتے ھیں یہ کام والی بہت غلط لفظ، ھے وہ بہت پریشان ھوئی کہ بابا، ڈانٹتے بھی ھیں لیکن اب لفظ آنٹی اور انکل اسکو، اور اسکی سب بہنوں کو پکا ھوگیا ھے، ڈرائیور ھو دودھ والا ھو کوڑے والا، ھو آواز آتی ھے آنٹی آئی ھیں انکل آئے ھیں اچھا لگتا ھے لیکن جو زبان آج کل سوشل میڈیا پر استعمال ھورھی ھے سوچتا ھوں انکے ماں باپ یا تو، ھیں نہیں یا پھر انہوں نے تربیت نہیں کی،
اوپی ایف میں پڑھاتا تھا ایک سیمیسٹر میں ڈین صاحب نے کوئی مضمون پڑھانے کو مجھے نہیں دیا میں ان کے پاس گیا ڈاکٹر صاحب خیریت انہوں نے میرے ساتھ بہت بدتمیزی کی تو کون ھوندا اے میرے کولوں پچھن والا تیری اے جرات سوری سر ابھی آپ کسی وجہ سے غصے میں ھیں میں جاننا چاھتا، تھا جو غلطی ھوئی ھے دوبارہ نہ ھو چلیں پھر کسی دن آکرپوچھ لوں گا ڈاکٹر صاحب نے بس، دھکے نہیں دیئے جو بول سکتے تھے بول دیا میں نے ایک جملہ کہا سر میں آپ کو جواب نہیں دے سکتا آپ مجھ سے بڑے ھیں انہوں نے فرمایا جواب دے دو گے تو، ُکونسی قیامت آجائے گی۔ میں نے عرض کیا، میرے ابا جی ناراض ھو جائیں گے اللہ حافظ اور گاڑی میں بیٹھ کر، ابا جی کو، فون کیا سب بتایا کہنے لگے شاباش، میرا پتر اپنے تو وڈے نال بدتمیزی نہیں کری دی جو پیسے او پی ایف ھر، مہینے دیندا سی میرے کولوں لے لینا پریشان نہیں ھونا جی ابا جی فون بند کیا پرنسپل میڈم نور کا، فون آگیا بیٹے فوراً میرے گھر آؤ ڈاکٹر صاحب بہت زیادتی کی ھے اللہ نے آپکو بزرگی عطا کی ھے ورنہ آپ جوان ھیں جو آپ نے کیا وہ ڈاکٹر صاحب کو، کرنا، چاھیے تھا، جی میم ابھی میں تھوڑا غصے میں ھوں صبح آجاوں گا ابھی آیا تو مجھ سے کوئی بیوقوفی نہ ھو، جائے، جی اچھا اور صبح گیا تو ایک خط پروگرام کواڈینٹر فیشن اینڈ، ملٹی میڈیا، کا، بنا، ھوا تھا اور میں ڈاکٹر صاحب کو جوابدہ بھی نہیں تھا لیکن آج ڈاکٹر، صاحب میرے بہترین دوستوں اور محبت کرنے والوں میں شامل ھیں، میری رائے ھے والدین کو، دیکھنا، چاھیے بچے کیا، سوچتے ھیں کیا، کرتے ھیں کیا، بولتے ھیں، کیا سنتے ھیں اور اتنے تلخ کیوں ھیں امید، ھے ھم سب ایک اچھی قوم بنانے میں معاشرے کی اپنے طور پر مدد، کریں گے انشاء الله

Prev کاش ایسا ھوجائے
Next آجکل

Comments are closed.