زندگی 

زندگی
زندگی گزار رھی ھے ھمیں، اور ھم گزرتے جا رھے ھیں، کچھ خواھشیں تھیں اور کچھ چاھتیں تھیں, دونوں وھیں رہ گئیں اور زندگی گزر گئی، ھر کوئی ھمیں اپنی مرضی جیسا دیکھنا چاھتا ھے کو ئی ھمیں برا سمجھتا اور کوئی اچھا سب اپنی مرضی کے مطابق ھمیں تراشنا چاھتے ھیں کوئی نہیں پوچھتا تم کیا چاھتے ھو، چھوٹا سا تھا خواب دیکھتا تھا دنیا کیسی ھوگی دنیا دیکھنے کا شوق بھی تھا لیکن ڈجکوٹ کے علاوہ لائلپور دیکھا تھا اسکے بھی کچھ علاقے، غلام محمد آباد اور حاجی آباد اصل میں تو میں نے آج تک اپنا گاؤں بھی پورانہیں دیکھا تھا، بس لگن تھی جاننے کی اور ڈر تھا کہ جان ھی نہیں چھوڑتا تھا دوقبرستان تھے گاؤں کے ساتھ ایک لمبا پنڈ کا قبرستان اور ایک ڈجکوٹ کا قبرستان آج تک دونوں کے پاس سے ڈوڑ کر ھی گزرتا ھوں بہت سی کہانیاں تھیں کہ بِجو ایک جانور ھے گیدڑ کی طرح کو جو مردے کو قبر سے نکال کر کھڑا کر دیتا ھے اور اگر کہیں کوئی لاش یا کفن زدہ میت کھڑی نظر آئے تو سمجھ لیں اسکو پاؤں کے پاس سے بِجو نے پکڑا، ھوا ھے، بس بِجو اور لاش دونوں سے ڈر پیدائشی تھا، تو دوڑنا اور ڈرنا وہیں سے سیکھا، میری امی جی کو سارا گاؤں آپا جی کہتا تھا کیونکہ وہ گاؤں سکول کی ھیڈمسٹرس تھیں، گاؤں کی ایک باجی امی سے آپا جی منڈیا دا سکول وی پارا اے اتھے جنات دا ڈیرا اے ساری رات دیوے بلدے نے تے سارے سکول وچ دو دو فٹ روشنی ھوندی اے حاجی طفیل دا طارق دیکھ کے ڈر گیا تے اسدا بخار نہیں اترتا تسیاپنے بچے ادھر نہ جان دینا بس فر او دن تے اج دا دن اسی رات نوں سکول ول نہیں تکیا، منہ پھیر کے ھی اس طرفوں گزرے بلکہ اب کبھی بچے پوچھتے ھیں بابا یہ آپکا پرائمری سکول ھے اور رات کا وقت ھو تو میں ادھر دیکھنے کی بجائے بات بدل دیتا ھوں بیٹے گاؤں آنے ھی والا، ھے ھم جلد واپس چلے جائیں گے چل میری بیٹی آیت الکرسی سنا، اوئے تجھے چاروں قل آتے ھیں، اور یوں ذھن کو جھٹک دیتا ھوں، پر ڈر وھیں ھے، امی جی کے سکول میں ایک ردی والا کمرہ ھوتا تھا مشہور تھا کہ یہ کمرہ بھی بھاری ھے اس میں چڑیلیں رھتی ھیں رات کو یہاں روشنی ھوتی ھے الحمدلله آج تک اس طرف کبھی بھی نہیں گیا، بس بچ ھی گیا، باجی عفت میری تایا زاد بہن اللہ اس کو غریق رحمت کریں کینسر، کی وجہ سے انکا انتقال ہوگیا چھوٹے ھوتے وہ اکثر بے ھوش ھو جاتیں تو مشہور ھوگیا انکو جن چمڑ گیا ھے اور جگہ جگہ سے علاج کرایا گیا لیکن انکو ھسٹیریا کے دورے پڑتے تھے وہ ٹھیک نہ ھوئے لیکن باجی عفت سے مجھے کبھی ڈر نہیں لگا اور وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں، اللہ انکے دراجات بلند، کریں امین، اور نہ ھی کبھی ان کو میرے سامنے کوئی دورہ پڑا، گاؤں سے راولپنڈی آگئے اکثر عید وغیرہ پر گاؤں جاتے ھوئے دیر ھو جاتی اور گاؤں سکول کے پاس سے گزرتے وقت میں نگاھیں اِدھر اُدھر ھی رکھتا یہیں سے اِدھر اُدھر دیکھنے کی عادت پڑھ گئی، شائد فوٹوگرافر بننے میں اس عادت نے بہت مدد کی، گیارھویں کلاس میں کاغان اور ناران جانے کا موقع ملا لیکن جھیل سیف الملوک نہ جا سکے شکر ادا کیا، ورنہ پریوں سے واسطہ پڑھ جاتا میرے سب دوست حیران ھیں کہ آج تک میں جھیل سیف الملوک نہیں گیا اسکی بنیادی وجہ وھی ڈر ھے جو بچپن میں ذھن میں بیٹھا ھوا ھے، میری کوشش ھے کہ زندگی میں جن چڑیل اور پریوں سے کبھی واسطہ نہ ھی پڑے تو اچھا ھے ویران جگہوں پر ملنے والے ھر مرد و عورت کی پاؤں ضروردیکھتا ھوں کہیں الٹے تو، نہیں، ایک ٹرم استعمال ھوتے تھی سلیڈا یہ کوئی جن کی نسل تھی شائد سلیڈا کوئی بھی روپ دھار سکتا ھے اس لیئے ھر لاوارث چیز کو سات چتھر لگانے ضروری تھے کہ کہیں سلیڈا ھی نہ ھو، پھوپھو کا بیٹا حامد رفیق سکول آیا تو اس کے پاس پچاس روپے تھے جو کہ اس وقت بہت بڑی رقم تھی اس نے مجھے اور ناصر بھائی کو دکھائے یار یہ راستے میں پڑے ملے ھیں ناصر اِدھر وکھا کِتے سلیڈا ھی نہ ھوئے اور پچاس، کے نوٹ کو سات چھتر لگا کر پہلے نوٹ بنایا اور پھر قابض بھی ھوگیا شائد حامد کے لیئے اس دن ھم سلیڈے ھی ثابت ھوئے کیوں کہ وہ پیسے گھر سے چوری کر کے لایا تھا اور وہ ھم نے لے لئے کیونکہ ناصر بھائی نے سات چھتر لگانے کے بعد پچاس، کے نوٹ کو دم کیا” لبھی چیز خدا دی ٹیلے دی نہ پا دی”اور نوٹ ھمارا ھوگیا پندرہ روپے کی ھم نےڈور خرید لی اور پانچ روپے کی شکرقندی کھالی باقی تیس روپے ھم نے گلی میں ایک اینٹ کے نیچے رکھ دیئے اگلے دن وہ وھیں پڑے تھے پر اینٹ نہیں تھی ھم نے سات چتھر پھر لگائے اور جیب میں ڈال لیے،
کبھی کوئی ڈراونی فلم نہیں دیکھی اور نہ ھی دیکھنی ھے، این سی اے اولڈ ھاسٹل کافی ڈراونا تھا اکیلا ڈومیڑی جانے سے ھمیشہ پرھیز ھی کیا نظر وھاں بھی کچھ نہں آیا ماسوائے چھت سے لوگوں کے گھروں میں، اور کچھ ھمارے ساتھیوں کے ڈراونے حلیوں کے، باجی اعجاز خالہ زاد بہن کوئی بھی واقعہ سناتی تھی تو کامران خان کی طرح خوب خوف وہراس پھیلا دیتی تھیں، میری عرصہ ھوگیا انسے ملاقات نہیں ھوئی ورنہ کچھ سوالات پوچھنے ھیں کیونکہ محلے میں جتنی بھی ڈکیتیاں ھوئیں وہ جاتے ھوئے مالک کو بھی ساتھ لے گئے پوچھنا ھے باجی وہ واپس آگئے یا ابھی بھی انکی پاس ھی ھیں،
جب میری امی کا آپریشن ھوا تو کچھ دن ھم باجی کے پاس ھی رھے بہت شفقت کرنے والی بہن ھیں پر انکی خطرناک کہانیاں مجھے بہت ڈراتی تھیں اور انکے سب بچوں کے رنگ گورے تھے اور میرا رنگ کالا جب امی ھسپتال سے گھر آئیں تو امی اظہر کی گل اے تیرا رنگ بڑا کالا ھوگیا امی جی باجی اعجاز نا اپنے پچوں کو نیل سے نہلاتی ھیں اور مجھے صابن سے امی بہت ھنسی اور انکے اپریشن کے ٹانکوں میں درد شروع ھوگیا اور پوچھنے لگیں اعجاز کی گل اے تسی اظہر نوں نیل نال کیوں نہیں غسل کروایا اور باجی اعجاز بھی خوب ھنسی بلکہ آج تک ھنستی ھیں،
میرا ڈر میرے ساتھ ساتھ ھے اور میری جان نہیں چھوڑ رھا میری زندگی ڈرتے ڈرتے گزر رھی ھے، میرا بھائی دوسری کلاس، میں مجھے کبڈی کا کھلاڑی بنانا چاھتاتھا، آٹھویں میں فوجی، میڑک کے بعد چارٹرڈ اکاونٹینٹ، ایم اے کے بعد بزنس میں، میں کچھ بھی نہیں بن سکا جو وہ چاھتا تھا میں بن گیا ایک انسان اور وہ اب بھی میری محبت، میں سوچتا ھے مجھے کیسی فوٹوگرافرافی کرنی چاھیئے نوکری کیسے کرنے چاھیے واک کتنی کرنی ھے دوائی کونس، کھانی ھے سفر کیسے کرنا ھے، کپڑے کیسے پہننے ھیں، کھانا کیا، ھے یہ سب اسکی بے لوث محبت ھے اور میں اسکا شکر گزار ھوں اور رب کا بھی جسنے ایسا محبت والا بھائی دیا اللہ اسکو، دنیا اور آخرت کی سب خوشیاں عطا کریں امین، کبھی مارشل لاء کا ڈر کبھی جمہوریت کا ڈر کبھی جونیئر کا ڈر کبھی سینئر کا ڈر، کبھی دوزخ کا ڈر کبھی جنت نہ ملنے کا ڈر، کبھی ماں باپ کا ڈر کبھی بیوی بچوں کا ڈر، کبھی قبر کا ڈر کبھی لوڈشیڈنگ کا ڈر، کبھی پانی کا ڈر کبھی آگ کا ڈر، کبھی زرداری کا ڈر کبھی شریفوں کا ڈر اور کچھ نہیں تو دھرنوں کا ڈر، کبھی بوری سائز کا ڈر اور کبھی دھماکوں کا ڈر،
ھمیں اس ڈر سے نکلنا ھے اور مرنے سے پہلے جینا ھے اپنی زندگی خود سے اپنی مرضی سے۔
آپ سے درخواست ھے جینے دیں اور جئیں

 

Prev چھوٹی لائن کیسے ھوئی بڑی
Next نیشنل آرٹسٹ کنونشن ۲۰۱۸

Comments are closed.