استاد فوٹوگرافی

استاد فوٹوگرافی

تحریر محمد اظہر حفیظ

فوٹوگرافی کرتے اور پڑھاتے زندگی گزار دی۔ اب یہ دونوں کام مشکل ہوتے جارہے ہیں۔

یونیورسٹیاں ایک مضمون پڑھانا چاہتی ہیں جو کہ تین کریڈٹ آورز کا ہو۔ جس کی چودہ کلاسز ہوں دو امتحان ہوں مڈٹرم اور فائنل ٹرم اس طرح مکمل طور پر سولہ کلاسز ہوں چار ماہ کے دوران ۔

بچے آئیں یا نا آئیں آپ نے پڑھانا ہے ۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا اب اگلا لیول آگیا ہے فوٹوگرافی کی کلاس ہے اور کلاس میں کسی کے پاس بھی کیمرہ نہیں ہے اور آپ نے ان سب کو فوٹوگرافی پڑھانا ہے۔

کچھ فوٹوگرافی کے عالموں نے یہ بیانات دے دئیے ہیں کہ اب موبائل فون کا کیمرہ ڈی ایس ایل آر سے بہتر تصویر بناتا ہے اور ساری کلاس موبائل لیکر فوٹوگرافی پڑھنے آجاتی ہے ۔ پہلے تو میں مزاحمت کرتا تھا پھر یونیورسٹیوں نے بھی مزاہمت کرنا شروع کر دی۔ اور اب الحمدللہ میں نے بھی موبائل فون سے فوٹوگرافی پڑھانا شروع کردی ہے۔ مجھے یاد ہے قائد اعظم یونیورسٹی میں میں نے موبائل فون سے ڈاکومنٹری دل پر پتھر رکھ کر پڑھائی تھی۔ اب یہی کام فوٹوگرافی میں شروع کردیا ہے۔ اس دکھ میں جگر بھی نیا لگوا لیا ہے اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

مجھے اکثر آجکل کے پروفیشنل فوٹوگرافر رابطہ کرتے ہیں کہ آج کل آپ تو کام کرتے نہیں ہیں مہربانی فرما کر کام ہمیں دے دیا کریں۔ کسی فوٹوگرافر یا ویڈیوگرافر سےاس کا کام مانگنا نامناسب کام ہے پر میں پھر بھی نئے جگر کو آزماتے ہوئے پورٹ فولیو کی درخواست کردیتا ہوں کچھ تصاویر آجاتی ہیں اور ساتھ میسج آتا ہے الحمدللہ میں آئی فون اس پروفیشنل کام کیلئے استعمال کرتا ہوں ۔ میں برداشت کرتے ہوئے عرض کرتا ہوں جی جیسے ہی کام آیا میں آپ سے رابطہ کروں گا۔ پھر میسج آتے رہتے ہیں آپ نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیتے۔ شاید ایسا ہی ہو۔

ماڈرن آرٹ یا فوٹوگرافی کم از کم میری سمجھ سے بالاتر ہے ہم کلاسک سکول آف آرٹ کے لوگ ہیں شاید اسی لیے کامیاب نہیں ہیں۔مجھے کچھ دن پہلے ایک شاگرد نے کچھ تصاویر بھیجیں جن کی خاصیت چلتی گاڑی سے موبائل فون سے بنانے کی تھی۔ کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں اور شاباش دی کیونکہ سمجھانے میں زیادہ وقت لگ جاتا ۔ عام طور پر موبائل فون کی تصاویر پر میں تبصرہ نہیں کرتا خاموش رہنا بہتر سمجھتا ہوں۔ پر لوگ بہت تنگ کرتے ہیں کچھ مجھ سے کہتے ہیں شادی بیاہ یا کارپوریٹ فنکشن ہی لے دیا کریں سر آپ کا نام روشن کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ میرا نام اندھیرے میں ہی رہے تو بہتر ہے۔ مجھے ایسا روشن نہیں کرنا

فوٹوگرافی ایک سنجیدہ آرٹ ہے اگر اس کو آرٹ ہی رہنے دیا جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ ورنہ شاید زندگی ضائع کرنے کا احساس ہی جان لیوا ہو جائے ۔ کیوں کروڑوں روپے اس شوق میں لگادئیے۔ اگر چار پانچ لاکھ کاایک موبائل فون لیتے اور کچھ ایڈیٹنگ کی ایپس ڈاؤن لوڈ کرتے اور پروفیشنل کام کرتے اور مزے کرتے۔ کس عشق میں زندگی برباد کرلی۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ میں فوٹوگرافی کے مستقبل سے زیادہ پُرامید نہیں ہوں۔ ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں ۔ لیکن ٹھیک راستے پر یہ نئی نسل بھی نہیں ہے۔ ایک بچی سے میں نے عرض کیا بیٹا یہ تصویر کیسے بنائی بتادیں تو اس نے فرمایا سر تصویر میرے دوست نے بنائی ہے پر میں ساتھ تھی نمبر لگادیں میں نے اس پر احتجاج کیا اس پڑھائی کا کیا فائدہ تو حکم آیا نمبر لگادیں اور میں نے لگادئیے۔ میں مزید فوٹوگرافی نہیں پڑھانا چاہتا اور شاید فوٹوگرافی بھی نہ کرسکوں کیونکہ ایسے طلبا کو میں اپنا کام نہیں دکھانا چاہتا تو پھر کام کروں کس کیلئے ۔ بہتر ہے ان دونوں کاموں سے معافی مانگ کر الگ ہوجاوں۔پوٹھواری میں کہتے ہیں۔ نہ ڈھولا ہوسی نہ رولا ہوسی

مجھے سمجھ نہیں آتی تھی وہ کونسی فوٹوگرافی ہے جو گناہ ہے آجکل دیکھ بھی رہاہوں اور گناہگار بھی ہورہا ہوں۔

کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہماری عبادات بھی گناہ تصور ہوں گی۔ اب محسوس ہورہا ہے۔

استغفسار کرتا رہتا ہوں شائد معافی ہوجائے۔

بے شک وہ بہتر معاف کرنے والا ہے

Prev رعایتی نمبر
Next ڈینٹی فاسٹ فوڈ

Comments are closed.