الحمدللہ میں اپنے خواب دیکھتا ھوں

الحمدللہ میں اپنے خواب دیکھتا ھوں

تحریر محمد اظہر حفیظ

الحمدللہ میں اپنے خواب دیکھتا ھوں اور پھر انکو پورا کرنے کیلئے جاگتا ھوں محنت کرتا ھوں رب کا شکر ادا کرتا ھوں ۔ اور اس خواب کی تکمیل تک جاگتا رھتا ھوں۔ 
میرے اللہ نے مجھ پر بے شمار کرم کئے۔ مجھے وہ سب عطا کیا جس کا میں نے سوچا اور وہ بھی عطا کیا جو میرے وھم و گمان میں بھی نہ تھا۔ میں نے خواب دیکھا کہ ماں باپ بیوی بچوں ساتھ عمرہ کرنے جاوں گا نہ پاس پیسے تھے بس ایک نیت تھی اور اللہ نے سب سبب بنادئے اور میں حرم میں کھڑا تھا اور مجھے یقین نہیں آرھا تھا کہ میں کہاں کھڑا ھوں۔ طواف کر رھا تھا پر میری حالت غیر یقینی اور شاید کچھ سکتہ طرز کی کیفیت تھی۔ عمرہ کرلیا اور کوئی تین دن ھوگئے تھے میں گم سم تھا اپنے نصیبوں پر یقین نہیں آرھا تھا اور پھر میرے ھاتھ جالگے غلاف کعبہ کو اور مجھے سمجھ نہیں آئی کیوں میں بے اختیار رو دیا اور جب رونا کچھ تھما تو اندازہ ھوا کہاں سے کہاں پہنچ گیا ھوں۔ مدینے کا حال کیا ھی سناوں مسجد نبوی کے مینار دور سے نظر آئے تو پہلی دفعہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھا کہ میری آنکھیں دیکھ سکتی ھیں اور ھم سب خانہ کعبہ سے ھوتے ھوئے مسجد نبوی پہنچ گئے ھیں ۔ میں سب کے ساتھ ساتھ خدمت گزار تھا اپنے محترم والدین کا اپنی تین بیٹیوں کا اور اپنی شریک حیات کا۔ انکو جو چاھیئے ھوتا میرے اللہ مجھے لینے بھیج دیتے اور سب چیزوں کی فراوانی تھی۔ شکر الحمد للہ شاید میری زندگی 2005 سے شروع ھوئی اور شاید ھی ایسا کوئی اور سفر میری زندگی میں ھو کہ میری زندگی بھی میرے ساتھ اور میرے ماں باپ بھی میرے ساتھ ۔ میں اگر ساری زندگی میں بہترین وقت سوچتا ھوں تو وہ چودہ دن میرے زندگی کے بہترین تھے۔ اس سے پہلے ساری زندگی شاید مجھے ھوش ھی نہیں آیا۔ میرے چودہ طبق روشن ھوگئے۔ اس کے بعد زندگی آسان سے آسان ھوتی چلی گئی۔ اور میں اپنے رب کے آگے جھکتا ھی چلا گیا۔ مجھے نہیں یاد پڑتا باقی سب کچھ کیسے ھوگیا۔
میرے اللہ نے اچھی شہرت دی بہترین علم دیا۔ میرے ماں باپ کو چلتے پھرتے اپنے پاس بلا لیا کسی محتاجی کا سامنا نہیں کرنا پڑا،چار بیٹیاں عطا کیں، بہترین بہن بھائی اور خاندان عطا کیا۔ جو میں سوچتا گیا میرے اللہ مجھے عطا کرتے گئے بے شک وہ سوتے کے خواب تھے یا جاگتے کے خواب۔ میرے رب نے سب پورے کئے ۔ شکر الحمدللہ۔
جاگتی آنکھوں سے اپنی اولاد کو دیکھتا ھوں بیوی کو دیکھتا ھوں بہن بھائیوں کو دیکھتا ھوں اور دیکھتا ھوں دوست احباب کو شکر کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ میرے اللہ نے میرے دشمن بھی بہت مہربان دیئے جہاں دوست کام نہ آسکے انہوں نے بھرپور مدد کی۔ یہ سب کرم نوازی کے سوا کچھ نہیں۔ 
اپنے اردگرد پڑے اپنے ھتھیار دیکھتا ھوں وہ کیمرے ھوں یا کمپیوٹرز سب بہتر سے بہترین دیا، سواری دیکھتا ھوں تو وہ بہترین صحت دیکھتا ھوں تو وہ بہترین اور وہ سب جگہیں بھی دکھلائیں جس کے فوٹوگرافرز صرف خواب ھی دیکھ سکتے ھیں وہ سنکیانگ کے پہاڑ ھوں یا جنگلات،جھلیں ھوں یا گھاس کے میدان، وہ کینیا میں مسائی مارا کے پانچ بڑے جانور ھوں یا پھر پرندے میرے رب نے مجھے سب دکھایا۔
مجھے آج بھی وہ بچہ محمد اظہر حفیظ یاد ھے جو اپنے تایا زاد بھائی کے سکوٹر کے پیچھے بھاگتا تھا اور وہ مجھ کوروتا چھوڑ کر میرے بڑے بھائی کے ساتھ چلے جاتے تھے۔ اور میں روتا ھوا واپس آجاتا تھا پھر وھی تایا زاد بھائی وسیلہ بنے مجھے خوبصورتی دکھانے کا مغل گارڈن، ٹیکسلا میوزیم سب اسی نے دکھائے انکا بھی شکریہ، میرے فوٹوگرافر بننے کی شروعات بھی تایازاد طاھر بھائی اور خالہ زاد نواز بھائی بنے اور مجھے میرا پہلا کیمرہ کوڈک ون ٹین مجھے میرے تایا جی انور صاحب نے سعودی عرب سے لاکر دیا۔ اور پھر یاد نہیں کہاں کہاں سے ھوتا ھوا اللہ کے فضل سے آج کا محمد اظہر حفیظ بن گیا۔ میرے والدین اور بہن بھائی نے میرے خوابوں کی تکمیل میں ھمیشہ ساتھ دیا اور پھر جب شادی ھوگئی تو بیوی اور بیٹیاں بھی میرے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئیں۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی کسی نے میرے ساتھ برا کیا ھو ۔ شکریہ اللہ تعالی ان سب نوازشات کا۔ 
میرے سے جو گستاخیاں اور کوتاہیاں ھوئیں ھیں میں ان کیلئے شرمسار ھوں اور معافی چاھتا ھوں۔ امید ھے آپ معاف فرمائیں گے۔
جان بوجھ کر کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی پھر میری بیوقوفی سے جس جس کو دکھ پہنچا ھو۔ معافی کی درخواست ھے۔
سب کا بھلا سب کی خیر

Prev منافق کون ؟
Next میرے دوست

Comments are closed.