اللہ کو تو پتہ ہے

اللہ کو تو پتہ ہے
تحریر محمد اظہر حفیظ

ہم بھی عجیب لوگ ہیں ، جس کو پتہ ہوتا ہے اسی کو بتاتے رہتے ہیں۔ ہم سارے سوالوں کے جواب اس استاد کو سناتے ہیں جس نے ہمیں جواب لکھائے ہوتےہیں اور پھر بحث بھی کرتے ہیں کہ میں ٹھیک جواب دے رہا ہوں۔
ہماری مائیں بھی بہت سادہ ہیں جب رب سے ہمارے سدھارنے کی دعائیں مانگتی ہیں تو ہماری اتنی تعریف کرتی ہیں کہ اللہ باری تعالیٰ جو سب جانتے ہیں اس سے فراڈ کررہی ہوتی ہیں۔ یقیناً انکے علم میں ہوتا ہے رب سب جانتا ہے۔
چور کی ماں جھولیاں اٹھا اٹھا رب سے انصاف کی دعا مانگتی ہے، یا باری تعالیٰ تو ہی انصاف کرنے والا ہے تجھے تو پتہ ہی ہے یہ چور نہیں ہے۔ میں تجھ سے انصاف مانگتی ہوں۔ اور جب ماں کی دعا کو قبول کرتے ہوئے رب باری تعالیٰ سزا دے دیتے ہیں تو مختلف جگہوں پر ایسی سادہ ماوں کو نعوذبااللہ شکوہ کرتے سنا گیا کہ دیکھو جی سانو تے رب کولوں انصاف نہیں ملیا عدالتاں کی انصاف دینا۔ آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے، عدالتوں کے انصاف پر دھیان دینا ہی کفر کے معنوں میں آجاتا ہے۔
ہر انسان کی انصاف کیلئے مختلف تعریف ہے اور وہ اپنی مرضی کا انصاف چاہتا ہے ۔ کوئی انصاف خرید لیتا ہے اور کوئی اس جہان میں انصاف نہ ہونے کے رونے روتا ہے۔ دنیا کے وکیل اور ہیں اور اللہ کے ہاں ہمارے اعمال ہمارے وکیل ہونگے۔
اللہ کے سچے لوگ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور کچھ لوگ دنیا میں تاحیات قیامت برپا رکھتے ہیں۔ جب بھی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ فراڈ کرتے دیکھتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں۔ ہمارے ایک امیر دوست جمعہ کی نماز کیلئے اپنے ملازمین کو پہلی اذان پر مسجد بھیج دیتے ہیں اور وہ پہلی صف میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور دوسری اذان شروع ہوتے ہی وہ بے شمار صفیں پھلانگتے ہوئے پہلی صف میں پہنچ جاتے ہیں اور ملازم آخری صف میں آجاتے ہیں۔ ایک دفعہ میں بھی انکے ساتھ تھا سوال کرنے عادت ہے پوچھ لیا شیخ صاحب یہ کیا سلسلہ ہے۔ بہت ادب سے بیان کرنے لگے جب سے پہلی صف کی اہمیت کو جانا ہے الحمدللہ تب سے ہمیشہ نماز پہلی صف میں ہی پڑھتا ہوں۔ اس کا مقام ہی اور ہے۔ جی بے شک کہہ کر میں نیچے کو دیکھنے لگ گیا۔ شاید انکا خیال ہے ، اللہ کا سسٹم سی ڈی کی طرح ہے جب جو دل چاہے گانا چلا لو سی ڈی کو کونسا پتہ چلتا ہے۔
اے اللہ کے نیک بندوں بے شک کسی کو نہ مانو پر کم از کم اللہ کی تو مکمل مانو۔
جو اللہ دلوں کے حال جانتا ہے کیا اس کو یہ تمھاری ڈرامے بازیاں نظر نہیں آتیں۔
محرم الحرام بہت عقیدت سے منایا جاتا ہے۔ پر کچھ سادہ لوح انسان سوشل میڈیا پر عجیب وغریب حرکتیں فرماتے ہیں۔ عام طور پر جرنلسٹس صاحبان کو پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے۔ ایک جرنلسٹس صاحب نے حلیم بناتے ایک تصویر لگائی کہ نیاز کا حلیم بنایا جارہا ہے جس جس کو چاہیے کمنٹنس میں اپنا نام لکھ دیں۔ مجھے ابھی یہ پوسٹ ہضم نہیں ہورہی تھی کہ دھڑا دھڑ لوگوں نے کمنٹس میں اپنے نام لکھنے شروع کردئیے اور ساتھ اللہ تعالی آپ کے اس عظیم کام کو قبول فرمائے کی دعائیں بھی دینا شروع کردیں۔مجھے امید ہے اللہ کے فرشتے سوشل میڈیا کی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے اور اس کا حساب کتاب لکھ رہے ہوں گے ۔ صحافی حضرات کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جب وہ سوشل میڈیا پر پوسٹ لگاتے ہیں۔ اس سے آپ کی تعلیم و تربیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ پہلے سنتے تھے کہ اللہ کی راہ میں ایسے دو کہ دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے پر جب کی بورڈ دونوں ہاتھوں سے چلا کر لکھو گے تو خبر توسب کو ہوجائے گی۔
بے شک اللہ تعالی سب سے بہتر جانتے ہیں پھر چالاکیاں کس کے ساتھ کررہے ہوتے ہو۔ دنیا چند دن کی ہے اور جس کی طرف لوٹ کے جانا ہے اس کے ساتھ فراڈ کی ناکام کوششیں دنیا اور آخرت میں رسوا نہ کردیں۔
ایک درخواست ہے صرف رب سے ڈرو اور اسکی اطاعت کرو ہم سب کیلئے یہی کافی ہے ۔ جزاک الل

Prev سب منع ہے
Next چلتے چلتے

Comments are closed.