این سی اے میں دوستیاں اور دشمنیاں

این سی اے میں دوستیاں اور دشمنیاں

اب این سی اے میں دوستیاں اور دشمنیاں بڑھنا شروع ھوئیں,
اور پنجابی اور پٹھان گروپ نظر آنا شروع ھوئے. کچھ بیوقوفانہ حرکتیں تھیں بس اور کچھ نہیں,
ملک اشرف اور سردار معروف جیسے دوستوں کا اضافہ ہوا معروف نشیلی آنکھوں والا بظاہر ایک بدتمیزخَدوخال کا نوجوان تھا لیکن بہت خیال رکھنے والا اور ملک اشرف ایک کان میں مُندری والا جوان پہلی دفعہ ملک اشرف کی گھر گڑھی شاھو گیا تو ملک کی والدہ مرحومہ نے ایک دودھ کا جگ بغیر گلاسوں کے بھیجا کوئی دو سے ڈھائی کلو دودھ تھا میں نے سادگی سے پوچھا ملک گلا س جواب تھا یار ڈیک لا تے پی جا کیڑا زیادہ اے, نہیں ملک گلاس لےآ اور وہ گلاس لے آیا اور میں نے دوگلاس دودھ کے پیئے باقی ملک ڈیک لگا گیا میرے لیئے بڑی حیرانی کی بات تھی, پتہ چلا ملک کی ماشاءاللہ کوئی ستر بھینسیں ھیں اور اپنا تانگہ ریڑھا بھی ھے. ملک بظاہر ایک کنجوس انسان تھا ایک دن یار پیا پاپڑ کھانا ای آھو کیوں نہیں چھوٹے چھوٹے چھوٹے پاپڑ تھے میں شرارتن دو تین کھا گیا کہ اس کا خرچہ زیادہ ھو وہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہہ وہ بھنگ والے پاپڑ تھے اب یہ بھی پریشان کہہ زیادہ نشہ نہ ھو جائے اس نے سردار معروف کو, بتادیا اظہر کو بھنگ والے پاپڑ کھلا دیئے ھیں اب اس کے ساتھ ساتھ رھنا اور اس نے اپنا حق نبھایا,
دوپہر کو بھوک لگی تو کلاسک بک ھال روڈ کے ساتھ چنے گوشت والا بیٹھتا تھا سوچا وہ کھاتا ھوں موٹر سائیکل نکالی معروف ساتھ بیٹھ گیا پیا جی کدھر یار بھوک لگی ھے کھانا کھانے ,
اچھا سانو وی کھلاؤ .
چل روفے کیوں نہیں اور موٹر سائیکل سٹارٹ, کی اور چلاؤں تو ڈر لگے پیا جی آپ بیٹھیں میں چلاتا ھوں اور ھم دونوں چنے والے پہلوان کے پاس,
ایک پیالہ آرام سے دو آدمی کھا لیتے تھے میں نے دو کی آواز کرادی اور ایک معروف اور, ایک میں کھانے لگ گیا اب کیا تھا اپنا پیالہ کھا کر آواز لگائی پہلوان جی ایک ھور دینا, اور باؤ رب نو جان دینی اے دیان کر, پہلوان جی دے دیئو, اس نے چنے دیئے اور میں گلاس میں پانی ڈال رھا تھا گلاس بھر گیا میں نے ھاتھ کو کہا جگ سیدھا کر پر وہ پانی ڈالی جا رہا تھا تو معروف سے کہا روفے میرے ہاتھ نوں سمجھا وہ ھسا اور جگ پکڑ کر سیدھا کردیا آور میں چنے کھانے لگ گیا پہلوان جی ایک پیالہ ھور دینا اوئے کاکا نشے وچ ایں کیوں اپنا نقصان کرنا ایں چل جا اپنے گھر کیوں ساڈے سر پینا ای. پیسے دے کر معروف مجھے لے کر اپنے گھر آگیا سیڑھیوں کے اوپر گیسٹ روم تھا غالباً پورچ کے اوپر چنے بہت زیادہ کھائے ھوئے تھے پیاس سے برا حال بیٹھتے ھی روفے یارپانی پلا اور اس نے نیچے جا کر چھوٹے بھائی کو پانی دے کر بھیجا پانی پیا, یار تیرا نا کی اے, بھائی جان اظہر میرا نام تو آپ کو پتہ ھی ھے یار ناں دس اس نے بتا دیا میں نے کوئی دس دفعہ پوچھا. اور اس نے دس دفعہ بتایا تو وہ ڈر کے روتا ھوا بھاگا معروف بھائی اظہر بھائی کو کیا ھوا ھے میرا نام ھی پوچھی جا رھے ھیں. اوھو اور دوڑتا ھوا آیا پیا جی کم تیز ھوگیا اے میرا خیال اے ھاسٹل ھی چلیے اور مجھے لے کے ھاسٹل آگیا,
پیا جی سون دی کوشش کرو اور اس نے مجھے بیڈ پے لٹا دیا اور خود زمین پر لیٹ گیا رات کے پچھلے پہر میری آنکھ کھلی میرے کمرے میں ایک ھاف لائف سائز کا سکلپچر پڑا تھا یعقوب کا, میں نے اس سے پوچھا تو کون ھے اور میرے کمرے میں کیوں آیا ھے چل جا یہاں سے ابھی گفتگو شروع ھی ھوئی تھی معروف پیا جی کی گل اے یار اے کون اے کس دا بچہ اے معروف پیا جی سکلپچر اے اچھا ایتھے کیوں اے اس وچارے بڑا سمجھایا پر سمجھے کون آخر تھک ہار کر میری بیڈ شیٹ اس پر ڈال کر ھن سو جاؤ, چلا گیا جے,
صبح اٹھا سر کچھ بھاری تھا لیکن نشہ اتر چکا تھا یار روفے آج گھر نہیں گیا ھاسٹل ھی رک گیا ویسے ھی پیاجی اچھا, یار اے سکلپچر تے چادر کیوں پائی ھوئی اے اس نے ساری رام کہانی کہہ سنائی,
ملک اشرف کو تین پاپڑوں کا بہت غصہ تھا پندرہ روپے لگوا دیئے اس نے میرے اور اپنے موٹر سائیکل کے پچھلے ویلز کو اکٹھا لاک لگا کر ایک پرچی لگا دی, پیا جی بند پلستر کھلاؤ تے تالا کھولواؤ, ملک اشرف
میں ٹھہرا سب کا پیا, میٹل ورکشاپ عابد ظہیر صاحب عرف استاد لویا, عابد صاحب لوہے والی آری تھوڑی دیر کے لیئے چاھیے, لے جاؤ, ابو ٹھیک نے میرا سلام دینا جی اچھا,
پارکنگ میں آکر تالا کاٹا اور ملک کی موٹرسائیکل کی سیٹ پر رکھا اور آری واپس کی اور ھاسٹل چلا گیا, اگلے دن پیا جی اے کی گل ھوئی, کی ھویا گجرا یا دس روپے دے بند پلستر پیچھے میرا 60 دا تالا کٹ ماریا ای, توں تالا لایا کیوں سی یار پیا مذاق کیتا سی تے گجرا ساڈا مذاق وی برداشت کرو, پھر جناب, یاریاں بہتر سے بہتر ھوتیں گیئں,
شہزاد خلیق ایک ساتھی طالبعلم تھا جو ایک ھی وقت میں این سی اے اور پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا نے میری کلاس فیلو کو کچھ کہا تو میں نے اس کو چنڈ کرا دی.
اگلے دن وہ پنجاب یونیورسٹی سے دو بسیں طلبا کی لے کے آگیا مجھے لےجانے اس کی بدقسمتی اس کی پہلی ملاقات ملک اشرف سے ھو گئی,
ملک اظہر حفیظ کتھے, ملک خیر اے یار اونے کل تھپڑ ماریا سی انوں سبق دینا اے,
یار او ھے ھی بڑا ھاتھ چھڈ میری وی اس نال نہیں لگدی آ انوں سدھا کریئے اندر میڑیل شاپ وچ اے شہزاد ملک کے ساتھ میڑیل شاپ میں آیا ملک, کاظمی صاحب تہاڈے گیٹ تی مہمان آئے نے تسی اونا نوں اندر لے آؤ میں ایتھے ھی آن,
کاظمی صاحب شاپ سے باھر نکلے ملک نے شاپ کا گرل والا دروازہ اندر سے بند, کیا اور شہزاد خلیق کو دھونا شروع کیا مجھے پتہ چلا دوڑتا ھوا میڑیل شاپ آیا ملک نے مار, مار, اسکا برا حال کردیا تھا, میں نے آواز لگائی ملک یار انوں چھڈ دے ملک اوئے پیا وچ نہ پے ساڈی زندگی وچ ساڈے یار نوں چُکن آیا اے اپنے پیراں تے جا کے وکھائے اور شہزاد خلیق بے ھوش ھو گیا ملک یار پیا تو ایتھے ٹھہر میں آیا باھر نہ آئیں جدوں تک میں نہ اکھاں,
اسکو ملک نے کندے پر ڈالا پارکنگ میں اسکے دوستوں کے حوالے کرکے ھاں جی ھور کون کون اے جیھڑا ماں دا لال پیا جی نو لین آیا اے,
وہ واپس چلے گئے, اور ملک پیا جی تہانوں پتہ سی اے کجھ ھونا اے نہیں تے فر طارق بھائی نوں کیوں بلایا اے او نال میوزیم دی کینٹین تے بندے لے کے کیوں بیٹھے نے اسیں مر گئے آں, آفتاب افضل یار بھائی جان نوں فون میں کیتا سی آفتاب توں رھیا ناں سکھ دا سکھ, اچھا پیا جی تلاشی دیو , کیوں اوئے تلاشی دے کیوں لڑائی ھوندی اے میرے پاس پسٹل تھا ملک نے لے لیا اور فیصلہ سنایا میری تو جان ھی نکل گئی,
پیا جی خالی ھاتھ فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹ جاؤ پنجاب یونیورسٹی میں دیکھاں کیڑا مائی دا لال تینوں ھاتھ لاندا اے,
سب نے سمجھایا پر ملک اشرف گجر کیتھوں مننے,
جانا پڑا میں بہت خوفزدہ تھا بہت مار پڑھنی ھے انکے لڑکے کو اتنا مارا ھے,
جب اندر داخل ھوا عادل جوکہ ملک کا بہت گہرا دوست ھے, ملک دے دوسرے ویاہ دی انتظامیہ او ھی سی, اظہر حفیظ یار بڑھے دناں بعد چکر لگایا اور کیا دیکھا کہ کچھ لوگ شہزاد خلیق کو پانی پلا رھے تھے اس نے آواز لگائی آگیا پیا اےھی اے پیا ساتھ سب لوگوں نے اسکو مارنا شروع کردیا اے تے اظہر حفیظ اے تو سانوں اس نو چکن واسطے لے کے گیا سی تو ں تے پیا پیا کردا سی,
اور شہزاد خلیق ایک دفعہ پھر واپس بیہوش ھوچکا تھا,
میں واپس آیا طارق بھائی کو واپس بھیجا اور ملک ھاں فر کسے دی ھمت ھوئی ساڈے یار ول ویکھن دی اس دن پتہ چلیا ملک ضلعی سطح کا باقاعدہ پہلوان ھے اور دودھ کا جگ ڈیک لگا کے کیوں پیتا ھے

Prev این سی اے کا پہلا دن
Next قیصر رضوان

Comments are closed.