سفر ازبکستان
سفر ازبکستان
تحریر محمد اظہر حفیظ
پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور ٹورازم کمیٹی ازبکستان کے باہمی اشتراک سے دو اگست سے سات اگست تک کیلئے ایک فوٹوگرافی ٹور کا اہتمام کیاگیا جس میں پاکستان سے پانچ فوٹوگرافرز منتخب کئے گئے۔ محمد رمضان مغل صاحب، شاھد قریشی راجو صاحب ، گلریز غوری صاحب ، طارق حمید سلیمانی صاحب اور محمد اظہر حفیظ ۔
اس ٹیم کو منتخب کرنے میں رانا آفتاب صاحب ایم ڈی پی ٹی ڈی سی اور ازبکستان کے سفیر عزت مآب علی شیر صاحب اور سیکنڈ سیکٹری سرور صاحب شامل تھے۔
ایک انتہائی خوبصورت اور معیاری سفر کا بندوست کیا گیا۔ جس میں ہر طرح کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ڈرون لے جانے اور اڑانے کی اجازت کے مشکل مراحل بھی شامل تھے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے تاشقند ائیرپورٹ تک ہر جگہ میزبانی کے بہترین انتظامات کئے گئے تھے۔ ہمارا سفر دواگست کو شروع ہوا اور دوپہر میں ہم ازبک ائیر کے ذریعے تاشقند پہنچے ۔ وقت کی پابند ازبک لوگوں کی پہلی ترجیح تھی۔ ہوائی جہاز سے لیکر بلٹ ٹرین تک ہر سواری وقت پر چلتی اور پہنچتی تھی کہیں بھی چند سیکنڈز کی تاخیر نہیں تھی۔ ہر جگہ میزبان ہمارے انتظار میں موجود تھے۔ ہماری سہولت کیلئے انگلش ٹرانسلیٹر بھی ہر جگہ ہمراہ تھے۔ ازبکستان میں بائیں ہاتھ پر ٹریفک کا انتظام ہے ہے گاڑی میں ایک ڈیوائس انسٹال ہے جسکو وہ راڈار کہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی گاڑی اوور سپیڈنگ نہیں کرتی۔ جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ لوگ بہت مہمان نواز ہیں ۔ موسم اسلام آباد سے تھوڑا گرم ہے۔ وقت ازبکستان اور پاکستان کاایک ہی ہے۔ لوگ سادے اور محبت کرنے والے ہیں ۔کھانے میں سلاد طرح طرح کے بنائے جاتے ہیں ۔ کھانے میں گوشت کا استعمال زیادہ ہے۔ کھانا خوش شکل اور خوش ذائقہ ہے۔ ابادی میں خواتین زیادہ ہیں زیادہ جگہ وہی دوکانیں چلاتی ہیں۔ تاشقند میں ہم مختلف مقامات کی فوٹوگرافی کی اور سیٹیزن سنٹر سے ہوتے ہوئے کھانے پر پہنچے۔ لائٹنگ میں ازبک لوگ کسب کمال پر ہیں۔ تمام شہروں میں عمارات کی لائٹنگ بہت شاندار تھی۔ اگلی صبح ہم جہاز سے فرغانہ چلے گئے۔ وہاں کی عمارات اور مساجد کو فوٹوگراف کیا اور دوپہر کے کھانے پر افغانی پلاؤ کی طرز کا پلاؤ تھا پر انتہائی عمدہ کھا کر اندازہ ہوا پلاؤ کا اصل گھر فرغانہ ہے شاید ہی ان سے بہتر کہیں ایسا پلاؤ بنتا ہو۔ سارے ازبکستان میں پھل بہت خوش ذائقہ ہیں۔ آڑو ، انجیر، گرما، تربوز، انگور کیا کہنے اور خاص طور پر انکے بادام بہت خستہ اور ذائقہ دار ۔
ازبکستان کا فن تعمیر بھی کمال ہے۔ اینٹ اور نیلی ٹائل کا زیادہ کام ہے۔ چھتوں اور گنبدوں پر بہت اعلیٰ نقش نگاری کی جاتی ہے۔ صفائی میں بہت ایڈوانس ہیں۔ کہیں بھی آپ کو گندگی نظر نہیں اتی۔
زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ لاکھوں سیاح ازبکستان کا رخ کرتے ہیں واقعی دیکھنے کے قابل ہے۔
رات کو ہماری واپسی تاشقند ہوگئی اور اگلی صبح ہم ثمرقند کیلئے بذریعہ بلٹ ٹرین روانہ ہوگئے ٹرین کی سپیڈ 250 کلومیٹر گھنٹہ کے حساب سے تھی دو گھنٹوں میں ہم ٹمر قند پہنچ گئے اور پھر فوٹوگرافی شروع۔ ڈرون اور کیمرے سب استعمال ہورہے تھے کیونکہ مناظر ایسے تھے کہ بیٹریاں ختم ہونے پر ہی ہوٹل یاد آتا تھا۔ شاہ زندہ اور بیت ساری جگہیں قابل دید تھیں۔ امیر تیمور کے مجسمے اور مزار بھی قابل دید تھا۔ اگلے دن ہم بذریعہ ٹرین بخارا کیلئے روانہ ہوئے اور بخارا کا ایک اپنا ہی حسن تھا وہاں ہم نے علاقائی لباس اور ڈانس دیکھے اور رات کا کھانا کھایا۔ وہاں ریگستان جو کہ کچھ عمارات پر مشتمل تھا وہ ہرگز بھی ریتلا علاقہ نہیں تھا۔
اب واپسی کی تیاریاں تھی اور ہم بذریعہ بلٹ ٹرین چار گھنٹے سفر کرکے دوبارہ تاشقند پہنچے ۔ اور وہاں پھر ایک بہترین ڈنر ہمارے انتظار میں تھا۔ سوپ سلاد اور دنبے کا گوشت۔
ساتھ قہوہ جس کو چائے کہتے تھے۔ ازبک اور پاکستانی بہت سے الفاظ ایک جیسے ہیں۔ جیسے پلاو، سموسہ وغیرہ
کرنسی وہاں کی بہت سستی ہے ایک ڈالر کے بارہ ہزار پانچ سو سوم ملتے ہیں ۔ ساٹھ ڈالر کے میں نے ساڑھے سات لاکھ سوم خریدے جو جوس ، پانی وغیرہ لینے میں مددگار ثابت ہوئے۔ کچھ سووینئر بھی لیے تاکہ سفر کی یاد رہے۔ واپسی کا سفر براستہ شارجہ تھا چاکلیٹس شارجہ سے حاصل کیں اور پھر پاکستان ۔شکریہ پی ٹی ڈی سی اور ازبک ایمبیسی پاکستان اتنے اچھے انتظامات کیلئے ۔ جلد ہی نمائش کی صورت میں اور سوشل میڈیا پر آپ ہم سب کا کام دیکھ سکیں گے انشاء اللہ
Comments are closed.