شہر نبی
شہر نبی
وہ شہر آنے والا ھے جس کو دیکھنے کی آس میں آنکھیں روشن ھیں اور ایک فوٹوگرافر کیمرہ ساتھ لے کرھی نہیں گیا سوچتا ھے شہر نبی کو جی بھر کے دیکھنا ھے تصویریں بناتا رھا تو دیکھ نہ پاؤں گا بس یہی کشمکش جاری تھی کہ گاڑی روک کر,سب کے پاسپورٹ چیک ھوئے جناب غیر مسلم کو شہر نبی میں داخلے کی اجازت نہیں اور پھر ھم داخل ھو گئے ایک ایسے شہر میں حلیمیت شفقت رحم محبت پیار انسانیت جس کی درو دیوار سے ٹپکتی ھے ھوٹل میں سامان رکھا تو ھدایات تھیں اگر نہانے کا ارادہ ھے تو پانی ٹب میں بھر کر جائیں واپسی پر پانی کچھ ٹھنڈا ھو جائے گا عمل کیا گیا اور ھم روانہ ھوئے نماز عصر اور روضئہ رسول پر حاضری کے لیے یااللہ یہ کیسا استقبال فاطمہ اور علیزے میرے ساتھ ایک چھ سال کی ایک چار سال کی امی ابو سعدیہ اور عائشہ میرے پیچھے پیچھے فاطمہ نے میرا ھاتھ تھامے سڑک پر پاؤں رکھا ساتھ ھی سب ٹریفک رک گئی اور کوئی ھارن نہیں بجارھا بلکہ مسکرا کر کہہ رھے ھیں جناب سڑک کراس کیجئے اور مزا آگیا میرے مصطفٰی کا شہر آگیا اور میں رونے لگ گیا حضور اتنی عزت سمجھ آئی کہ عمرہ قبول ھوگیا میرے نبی نے اپنے شہر میں قدم رکھنے کی اجازت دی اور پھر وہی الفاظ زبان پر محمد کا روزہ قریب آرھا ھے بلندی پے اپنا نصیب آرھا ھے اور میں نے سڑک سے نگاہ اٹھائی تو بس کرم ھوگیا سبز گنبد کا درشن ھوگیا مسجد نبوی سامنے تھی نماز پڑی حاضری دی سب کے سلام پہنچائے اور ھوٹل واپسی میں بہت شاد تھا بس پڑھ رھا تھا سب سے اولٰی و اعلٰی میرا نبی اور پھر مغرب کے وقت حاضری بڑا خود غرض بن گیا اکیلا نکل جاتا مدینے کی گلیوں میں بیگم آپ کدھر جاتے ھیں شرمندہ سا ھوکر بتا یا یہاں کی گلیوں میں گھومنا پھرنا بھی سنت ھے کہنے لگی اے اللہ کے بندے مجھے بھی ساتھ لے جایا کر اس سنت میں شامل کر اور اب .ھم دونوں امی ابو کو ھوٹل چھوڑتے بچے انکے حوالے کرتے اور نکل جاتے دیکھنے مدینہ کی گلیاں بازار چیزیں خریدتے اور نبی کے شہر کی مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے میرا اللہ گواہ ھے وہاں کی ھوا دھوپ چھاؤں دن رات دوکان ریسٹورانٹ بازار ھوٹل ٹیکسی لوگ ھر چیز کو مؤدب پایا, چیزوں کی قیمتیں مکہ سے تقریباً آدھی کم کرنے کی بھی درخواست نہ کرنا پڑھتی بس ایک درخواست ھر کوئی کرتا بچیوں کے سر ڈھانپیں ادب کی بات تھی فوراً سکارف لے دیے تینوں بیٹیوں کو اور بات بھی سمجھ آئی شہر میں رھنا ھے تو ادب سے رھو سر فخر سے بلند یہ ھے میرے نبی کا شہر ھے دنیا میں کوئی اور ایسا شہرھے تو بتاؤ اب مدینے کی گلیاں تھی بازار تھے اور ھم میں کچھ اپنی اوقات سے زیادہ اڑنے لگا بدھ کو فجر کے بعد عورتوں کو روضہءرسول پر حاضری کی اجازت ھوتی ھے امی جی اور سعدیہ حاضری کے لیئے چلے گئے میں علیزے اور فاطمہ باھر صحن میں بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد فاطمہ رونے لگی تو میں ان دونوں کو لیکر بازار آگیا کہ کوئی جوس اور چاکلیٹ لے دیتا ھوں تاکہ چپ ھو جائیں, بس راستے میں ایک پرس والی دوکان دونوں باجیوں نے دیکھ لی جوس لے کر واپس اس جگہ مسجد نبوی کے صحن میں آگئے جہاں امی کو بتا یا تھا لیکن وہ نہیں آئے فاطمہ بابا ایک پرس لینا ھے اچھا بیٹا آؤ لے لیتے ھیں وھاں جاکر میں نے ان دونوں کو دو پرس لے دیئے نہیں پانچ لینے ھیں وہ کیوں تین ھم بہنیں اور دو تایا کی بیٹیاں حرم اور امن دل خوش ھوا اچھا ھے خیال کرنا چاہیے اور پانچ پرس خرید لیئے نہیں بابا یہ نہیں لینے وہ سامنے جو سرخ پرس ھے وہ لینا ھے بیٹا وہ تو بڑی عورتوں کا ھے اچھا پھر کوئی نہیں لینا واپس آگئے پھر فاطمہ رونے لگی پرس لینا ھے اور لینا بھی وھی ھے جی میری جان واپس بازار بھائی یہ پرس کتنے کا ھے جی 800 ریال اچھا بیٹا یہ تو بہت مہنگا ھے پھر نہیں لیتے پھر واپس اور پھر رونا شروع اتنی دفعہ بازار گئے کہ میرے پاؤں سوج گئے اوپر سے امی اور سعدیہ کا کچھ پتہ نہیں وہ رش میں پھس گئیں بابا جوس لینا ھے جی بیٹا جب وھاں پہنچے بابا پرس لے دیں اچھا بیٹا دو لے لو جی بابا دوکان پر گئے بھائی دو پرس دے دو اور اس کو 1600 ریال دئے باجی علیزے نہیں ھم نے پانچ ھی لینے ھیں نہیں تو نہیں لینے پھر واپس آگئے دن کے گیارہ بج چکے تھے پاؤں سوج گئے چل چل مجھے بات سمجھ آگئی میں رونے لگ گیا معافی مانگی یارسول اللہ یقینن کوئی غلطی یا گستاخی ھوگئی کس مشکل میں پھس گیا ھوں معاف کر,دیجئے اور معافی ھوگئی امی اور سعدیہ آگئیں بچے پرس بھول گئے اور میں اپنی تھکاوٹ شکریہ یارسول االلہ
azhar
February 13, 2018
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020