فیصلے
تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ
قدم بڑھاو جنرل مشرف اٹھارہ کروڑ عوام تمھارے ساتھ ھے محمد اقبال جی الیون اسلام آباد سب سے بڑا سپوٹرر جنرل مشرف لاو تحریک.
یہ بینر اسلام آباد ریڈ زون میں جگہ جگہ آویزاں.تھے اور ان صاحب کا نمبر بھی درج تھا میں نے فون کیا محمد اقبال صاحب آپ کو میرے ووٹ کا فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا ھے جواب تھا جی سمجھا نہیں جناب آپ نے مجھے پوچھے بغیر میرا ووٹ جنرل صاحب کو ڈال دیا مہربانی فرما کر اپنے بینر درست کریں اور میرا ایک ووٹ نکال دیں,کہنے لگے آپ مجھے آکر ملیں پھر دیکھتے ھیں عرض کیا جناب کیا اٹھارہ کروڑ عوام آئی آپکے پاس اپنا حق دینے کیلئے اور حمائت ,
ووٹ کا حق آپ لکھ سکتے ھیں اور ڈال سکتے ھیں ھمارے ملک.کا المیہ ھے جب جو چاہیں کسی کے حق میں فیصلہ.دے دیں
ھفتے کو کچھ دوستوں ساتھ فتح کوٹ جانے کا اتفاق ھوا ایک دوست کہنے لگے گاڑی میں دو نواز شریف کے سپوٹر ھیں اور باقی عمران خان کے عجیب سی حرکت تھی پوچھا کون کس طرف ھے تو مجھے پہلی دفعہ ان سے پتہ چلا کہ میں مسلم لیگی ھوں پٹواری ھوں کھوتے کھانے والا ھوں میں عجیب کیفیت میں تھا پھر بھی مسکرا دیا گویا ھوئے کیا ھوا عرض کیا اپنی زندگی میں کبھی نواز شریف اور عمران خان کو ووٹ نہیں ڈالا تو پھر کس کو ڈالا عرض کیا جناب ووٹ ایک مکمل ذاتی معاملہ ھے اسکو ذاتی ھی رھنے دیں تو اچھا ھے,کچھ خفا خفا دکھائی دیے
ابھی ھنزہ کا سفر کیا,ایک دوست کاشف منہاس شاید بہت زیادہ مزاحیہ واقعہ ھونے کی کوشش کر رہے تھے بار بار مسکرا کر مجھے ماموں بول تھے اور مسکرا رھے تھے حالانکہ اتنا نا معقول بھانجا اللہ نہ کرے میرا ھو,رات کو محفل موسیقی کا انتظام تھا اور میری تو جان ھوا ھو گئی جب دیکھا گلوکار خاں صاحب بھی ھمارے بھانجے ھونے کے دعوے دار ھی تھے حالانکہ ھماری اکلوتی بہن ھماری برادری آرائیں فیملی میں ھی بیاھی گئی دوسری ھیں کوئی نہیں سمجھ نہیں آئی انھوں نے ھمیں ماموں بنانے کا فیصلہ کیوں کر کیا ایسے نا ھنجار بھانجے سے اللہ بچائیں اوپر سے بہترین قسم کے بے سرے اور ایک ساؤنڈ سسٹم لگا رکھا تھا کہنے لگے ساؤنڈ سسٹم اچھا نہیں تھا ورنہ بہت مزا آنا تھا, مجھے ڈی جے بٹ بہت یاد آیا طارق سلیمانی بھائی سے کیا یار ساؤنڈ سسٹم اچھا منگوا دینا تھا کہنے لگے کاشف اپنا لایا ھے ملتان سے مجھے وہ سکھ یاد آگیا جس نے اپنے دوست سے شرط لگائی کل اگر میرے لنچ باکس سے گو بھی نکلی تو خود کشی کر لوں گا اور جب اگلے دن لنچ باکس کھولا تو اندر گو بھی تھی اور سردار جی نے خودکشی کر لی جب سردار جی کی بیوہ انکے نقایا جات لینے دفتر آئی اور سردار جی کی خودکشی کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا اس شرط پر انکو خود کشی کرنا پڑی تو وہ حیرانی سے کہنے لگیں پر او تے اپنا لنچ خود بنادے سن ھر روز اور سب مسکرانے
لگے بلکل اسی طرح برا ساؤنڈ سسٹم بھی وہ خود لائے تھے اور بڑے گانوں اور بڑی آواز کے بھی خود ھی مالک تھے لیکن انکا خیال تھا ھم انکی تعریف بھی کریں اور تالیاں بھی بجائیں میں اس فیصلے سے بھی متفق نہیں تھا اس,لیے سونا ھی بہتر سمجھا ,ھمیں دوسروں کے.متعلق رائے دیتے وقت اور فیصلے کرتے وقت سوچنا ھوگا,اور کوشش کرنا ھو گی اپنے خیالات اور اپنے فیصلے اپنے پاس ھی رکھیں,بہت عرصے بعد پرانے دوست اکرم وڑائچ صاحب سے بات ھوئے پرانی باتیں کرتے کرتے انکو یاد دلایا 1990 سے 1993 تک ھم حکومت ٹوٹنے مارشل لاء لگنے کے فیصلے پرانی انارکلی میں.بیٹھ کر کیا کرتے تھے اور چائے کا بل دینے کے پیسے نہیں ھوئے تھے پاکستان کی ساری سیاست کے فیصلے وہ سیانے تھڑوں پر بیٹھ کرکرتے ھیں جن کے گھروں میں فاقوںکی نوبت ھے ان سے درخواست ھے اگر وہ فیصلے کرنے کی بجائے محنت کرنا شروع کر دیں تو امید ھے حالات زندگی بہتر ھو جائیں اللہ سب کا پردہ رکھیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی ھمت اور صلاحیت دیں امین
azhar
February 13, 2018
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020