مارکیٹنگ اینڈ سیلز

مارکیٹنگ اینڈ سیلز

تحریرمحمداظہر حفیظ

اکثر جگہوں پر مارکیٹنگ اور سیلز کے دفاتر کا ایک ہی بورڈ لگا ہوتاہے۔ کبھی فرق جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ مارکیٹنگ اور سیلز میں کیا فرق ہوتا،ہے۔

ایک ادارے کا میں ٹرسٹی ہوں اس کی میٹنگ میں ایک دوسرے ٹرسٹی جو کہ بہت ہی نفیس اور شاندار انسان تھے نے ایک بات پر سوال اٹھایا کہ یہ مارکیٹنگ اور سیلز کی ٹیم بنانے کا مقصد کیا ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کو اس کے فرق کا نہیں پتہ۔

اورپھر فرق بتانے لگا میرے لیے نئی بات تھی۔

مارکیٹنگ ایسی چیز کی کی جاتی ہے جو ابھی خواب ہو وجود میں نہ آئی ہو اور سیلز تیار شدہ چیز کی کی جاتی ہے ۔ تو مجھے اندازہ ہوا کہ سب مارکیٹنگ کر رہے ہیں سیلز کوئی نہیں کررہا۔ کیونکہ ہم خالی ہاتھ قوم ہیں۔

سب اقبال کے شاھین ہیں اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور ان کے شاہینوں نے پوری قوم کو خوابوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ سامنے کچھ بھی نہیں ہے اور بیچی جارہے ہیں۔ تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتیں بہترین مارکیٹنگ آفسز کی مالک ہیں۔ ہم سب ملکر قائد کا اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ کوئی کام نہیں کرنا چاہتا بس خواب بیچ رہے ہیں۔ جب تھوڑے وسیع پیمانے پر اس عمل کو دیکھنا شروع کرتا ہوں تو حیران ہوجاتا ہوں کہ ہم تو گناہ اور ثواب کی بھی مارکیٹنگ کر رہے ہیں جو گناہ کئے ہی نہیں انکی بھی معافی مانگ رہے ہیں ، اور جو کئے ہیں انکو سیل کر رہے ہیں انکا حوالہ دے کر بھی معافی مانگ رہے ہیں ۔ جب بھی کسی کو سمجھانے کا موقع آتا ہے تو جو گناہ زمانے میں کسی اور نے بھی کئے ہوں اس کی بھی مارکیٹنگ کر جاتے ہیں۔

ہمارے بہت سے لوگ موٹیویشننل سپیکر ہیں۔ اور گفتگو کے ذریعے مارکیٹنگ کرتے ہیں کہ آپ شاندار اور کامیاب بزنس،مین کیسے بن سکتے ہیں، جتنی وہ ورکشاپس کروا چکے ہیں پاکستان کو کب کا ترقی یافتہ ملک بن جانا چاہیے تھا پر مجھے شک پڑھتا ہے کہ پاکستان کے ترقی یافتہ ملک بننے میں شاید یہی لوگ رکاوٹ ہیں۔ جو بات میرے سامنے آئی ہے کہ ہر ادارہ سوشل میڈیا مارکیٹنگ کیلئے اپنی تعداد کی 1% کے حساب سے ٹیم بناتا ہے تاکہ خواب بیچے جاسکیں اب گنتی اور حساب خود لگالیں کہ کس کس جماعت یا ادارے میں کتنے لوگ ہیں اور انکے کتنے لوگ سوشل میڈیا مارکیٹنگ میں مصروف ہیں۔ جو بغیر کچھ کئے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ مارکیٹنگ کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا پراجیکٹس کئے اور کونسے کرنے جارہے ہیں۔ اور زیادہ بیڑا غرق یہ 3 ڈی ویڈیوز بنانے والوں نے کردیا ہے ۔ جو کمپیوٹر پر جعلی خواب بناتے ہیں۔ اور مارکیٹنگ کے لوگ عوام کو دکھاتے ہیں۔ اب تک کتنے ایسے شہر بس چکے ہیں جن کا وجود تک نہیں ہے اور لوگ اس میں گھر بھی خرید چکے ہیں اور کئی کئی منزلہ بلڈنگز،میں فلیٹ بھی ۔ جنکا وجود ہی موجود نہیں ہے ۔ سوچا تھا کہ اب کے جب ساون آئے گا تو سارا پانی نئے بنائے گئے ڈیمز،میں جمع کر لیں گے درخت لینڈ سلائیڈنگ روک لیں گے پر وہ سب ایک دیوانے کے مارکیٹنگ خواب ہی نکلے۔ سنا تھا کہ ہم 2010 میں ایشین ٹائیگر بن کر ابھریں گے پر بھیگی بلی بھی نہ بن سکے ایشین ٹائیگر بھی ایک سیاسی مارکیٹنگ کا نام تھا۔ ہمارے ہاں سیلز بلکل بھی نہیں ہے کیونکہ ہم بناتے کچھ نہیں ہیں اور مارکیٹنگ بہت زیادہ ہے پر کیا کریں خواب ایکسپورٹ نہیں کئے جاسکتے۔

ملک کے وسیع تر مفاد میں آجکل محبت بھی صرف مارکیٹنگ تک منحصر ہے۔ بہت سارے جھوٹے خواب دکھائے جاتے ہیں جو بعد میں سوھنی کے کچھے گھڑے سے بھی کمزور نکلتے ہیں اور محبت دریا برد ہوجاتی ہے۔ آپ کو ہمیشہ محبت کرنے والوں کی کہانیاں ہی ملیں گی حقیقت نہیں۔

آپ پچھلے ایک مہینے، ایک سال، دس سال کا سوشل میڈیا اٹھا لیں سب پروگرامز اور ولاگز مارکیٹنگ ہیں انکا حقیقت سے کوئی تعلق ہیں۔ جو دوست الفاظ بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں کر پاتے وہ ہمیں کہتے ہیں آج کے ولاگ میں ہم بتائیں گے آپ 50ہزار سے ارب پتی کیسے بنیں گے۔ اور ہمارے پچاس،ہزار سے ہمیں ٹور پر لے جاتے ہیں ہم خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں اور وہ ارب پتی بن جاتے ہیں۔

پاکستان پاکستان بن جائے تو کافی ہے ، پاکستان کو دبئی، فرانس، انگلینڈ اور ریاست مدینہ بنانے کی سب باتیں مارکیٹنگ کے سوا کچھ نہیں ۔ ورنہ آج شام کی چائے ایفل ٹاور بحریہ ٹاون کے سائے میں پیتے ہیں اور فرانس میں سیلفیاں بناتے ہیں۔ یہ سب مارکیٹنگ کے ٹولز ہیں اور کچھ نہیں ۔ کچھ جگہوں کے گیٹس پر گھوڑے نصب ہوتے ہیں اور اندر سارے خچر پائے جاتے ہیں ۔ ہمیں مارکیٹنگ چھوڑ کر اپنی سیلز بڑھانا ہوں گی تب ہی ہم خود اور ملک ترقی کرے گا۔ ورنہ سوئے رہیں اور خواب دیکھتے رہیں ۔ پاکستان زندہ باد

Prev نیٹ ورک
Next سب منع ہے

Comments are closed.