محبت
محبت
تحریر محمد اظہر حفیظ
میں زندگی میں کبھی بھی محبت نہیں کر سکا اور نہ سمجھ آئی کہ محبت کیسے کرتے ھیں کس سے کرتے ھیں کیوں کرتے ھیں اعتراف جرم کرتا ھوں اور رات کے اس پہر سوچ رھا ھوں اور لکھ رھا ھوں جو شاید محبت کرنے کی عمر تھی وہ میں نے ساری سے بھی زیادہ فوٹوگرافی کو دے دی اور جو بھی زندگی میں آیا فوٹوگرافی کو سوکن سمجھ کر چلا گیا اب احساس ھوتا ھے سارے دن اور ساری راتیں سارے سفر تو کیمرے کے سنگ بیت گئے محبت کب کرتا اور جو پیار بھرے نغمے سنے جو ھمسفر تھا وہ تو میرا کیمرہ تھا ایک دفعہ اپنی بڑی بیٹی سے کہا بیٹا اپنی اماں کو بلاو کہنے بابا جی بیگ والی کو یا گھر والی کو او میرے اللہ میں نے ساری زندگی بیوی بچوں سے دور دوستوں سے دور گزار دی کسی کی بھی محبت کا حق ادا نہ کر سکا مجھے آج احساس ھو رھا ھے فوٹوگرافی کی محبت میں بہت سی حق تلفیاں ھوئیں مجھے یاد ھے جب 2010 دسمبر میں میری ماں شفاء ھسپتال کے آئی سی یو میں تھی اس وقت بھی میں فوٹوگرافی اور ڈاکومنٹری بنا رھا تھا وہ پانچ دن ھسپتال رھیں اور میں انکی یاد میں روتا تھا اور کام کرتا تھا میرے ابا جی کینسر کے مریض تھے میں فوٹوگرافی کیلئے کراچی،ڈھیرکی،سجاول،غوری،زرغون،کالاباغ، ھلینی نہ جانے کہاں کہاں پھرتا تھا مجھے یاد ھے جب میرے بھائی نے مجھے کہا یار ھر دفعہ دو نفل پڑھ کر تجھے بھیجتا ھوں کہ یا اللہ اباجی کو اس کی غیر موجودگی میں کچھ نہ ھوجائے اللہ کا شکر اس نے اس کہ لاج رکھی اور دعا قبول کی
امی جی کی وفات کے اگلے مہینے میں اور آصف شاہ جی نیلم ویلی جا رھے تھے یقینامیرے گھر والوں کو خصوصا ابا جی کو میری ضرورت تھی اور کچھ ماہ بعد میں اور عثمان عادل بھائی بہاولپور جارھے تھے جب ڈاکووں نے حملہ کیا اور پانچ گولیاں میری گاڑی کو لگیں اللہ نے محفوظ رکھا مجھے ڈر تھا ابا جی میرے سفر پر پابندی لگا دیں گے لیکن انھوں نے کچھ نہیں کہا بس کہنے لگے یار ھن تیری ماں وی نہیں ھیگی احتیاط کیا کر۔
نیشنل کالج آف آرٹس کے چار سال میری محبت کی نظر ھوگئے کوئی بھی اور شوق نہ پال سکا بس فوٹوگرافی سے محبت چلتی رھی اس پہلی محبت کو 29 سال ھوگئے اور میرا دن بدن اس بات پر یقین بڑھتا چلاجا رہا ھے کہ انسان زندگی میں محبت ایک بار ھی کرتا ھے اور وہ میں کر چکا جب میرا موڈ خراب ھو چڑچڑا ھوجاوں بہن بھائی بیوی بچے دوست فوٹوگرافی ٹور کا مشورہ دیتے ھیں اڑنگ کیل کا مشکل ٹریک تھا ایک ایک کر کے کیمرہ لینز تک دوستوں کو دے دیئے سانس لینا دشوار تھا ڈاکٹر شہریار ڈاکٹر علی اور باقی ساتھ مکمل ساتھ دے رھے تھے بڑھی مشکل سے اوپر پہنچے تو ثاقب بھائی پیپسی پانی لیکر دوڑے چلے آئے آپکی طبعیت بہت خراب ھے لیٹ جائیں اور جو سامنے لینڈ سکیپ دیکھا تو طبعیت بھول گئی اور فوٹوگرافی چل سو چل ایک ساتھی سعدیہ پوچھنے لگیں سر جی آپکی دوڑھیں دیکھ کر لگ رھا ھے پہلے کوئی ڈرامہ کر رھے تھے مسکرا کر جواب دیا معشوق سامنے آجائے تو طبیعت سنبھل ھی جاتی ھے پر آپ کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی عشق کیا ھے کبھی کہنے لگیں نہیں سر جی بس پھر نہیں سمجھ آسکتا یہ عشق کی بات ھے سائیکالوجسٹ تھی کہنے لگیں کس سے عشق ھے آپکو شرما کر بتادیا فوٹوگرافی سے سر جی تہاڈا وی کوئی حال نہیں اور مجھے یاد ھے جب فیری میڈوز جانا ھوا آدھے راستے سے کچھ پہلے ٹانگوں نے جواب دے دیا کھچ گیئں چلا نہ جائے ڈاکٹر شہریار بھائی جان تھوڑی ھمت کریں جی بھائی بس ھوگئی اور پھر وہ بد تمیز نانگا پربت نظر آگیا اور مجھے ٹانگیں بھول گیئں اور میں تصویریں بناتا بناتا فیری میڈوز پہنچ گیا میرا خیال ھے میں اپنے حصے کی محبت کر چکا جن جن کی حق تلفی ھوئی یا دل آزاری معاف کر دیجئے گا
مجھے یاد ھے سیاچن جانے کا اتفاق ھوا بریفنگ میں بتایا گیا جب متلی محسوس ھو شور مچا دیں اس کا مطلب ھے آپ کو آکسیجن نہیں مل رھی ھم فورا آکسیجن سلنڈر لگا دیں گے جی اچھا اب کام شروع ھوا اور حکم تھا بہت آھستہ چلنا ھے ورنہ سانس لینا دشوار ھو جائے گا لالک جان شہید نشان حیدر پر فوٹومینٹری کر رھا تھا 6 ستمبر شو کیلئے اور لالک جان شہید ھورھا تھا اور میں بھول گیا کہاں ھوں دوڑ دوڑ کر چاروں طرف سے تصاویر بنانے لگا اور متلی محسوس ھوئی میجر صاحب متلی اور ساتھ ھی آکسیجن ماسک میرے منہ پر تھا سانس بحال ھوئی انکو فورا سکردو ھسپتال شفٹ کر دیں نہیںمیجر صاحب میں کام کروں گا بارہ دن انتظار کیا ھے موسم صاف ھونے کا آپ فکر نہ کر نہیں جناب بہت مسئلہ بن جائے گا کچھ نہیں ھوتا کام کرنے دیں اور آکسیجن سلنڈرکے ساتھ ھی کام مکمل کیا تھوڑا ریسٹ کیا اور واپس سکردو میجر صاحب اظہر بھائی سویلین بھی کافی سخت جان ھوتے ھیں آج پتہ چلا میں مسکرا دیا آکسیجن ماسک میں سے اور ماسک ھٹا کر میجر صاحب یہ عشق نہیں آسان اور سکردو آگئے۔
مجھے یاد ھے پچھلے سال جولائی میں فوٹوگرافی کیلئے فورٹ منرو جانا تھا لیکن جہاز میں طبعیت بہت خراب ھوگئی اور سیدھے ملتان ایک ھسپتال میں داخل پانی بہت کم ھوگیا تھا متلیوں کی وجہ سے پانچ گھنٹے داخل رھنے کے بعد ھم ھوٹل شفٹ ھوگئے ملتان سے دوست اگئے اسامہ بھائی نازیہ بہن منہاس صاحب کچڑی او آر ایس ساری رات خدمتیں چلیں اور صبح 5 بجے ھم تیار تھے فورٹ منرو جانے کیلئے ناصر نعیم بھائی نے امی اور ابا دونوں بن کر خدمت کی اور 8 بجے ھم فورٹ منرو تھے اور فوٹوگرافی کر رھے تھے میں تھوڑا محتاط بھی تھا اگلے دن اٹھارہ کلومیڑ دوڑا تو ناصر بھائی یار تو باز نہیں آسکدا سوری بھائی پھر طبعیت خراب نہ ھوجائے بھائی اللہ نے ھمیشہ مدد کی ھے فکر نہ کریں۔
یوں یہ عشق چلتا جارھا ھے میری دوست کہنے لگیں جب آپ فوٹوگرافی ٹور پر ھوتے ھیں کیا کسی کو بھی فون نہیں کرتے گھر بھی نہیں میرا جواب سن کر آج تک چپ ھیں جی نہیں گھر والوں کو پتہ ھے یہ پاگل ھے باقیوں کو وقت لگے گا یہ سمجھنے میں۔
2005 زلزلے کے بعد فوٹوگرافی کرنے کاغان اور ناران جانا تھا اتوار والے دن ھفتے کی صبح ایسے محسوس ھوا جیسے ھارٹ اٹیک ھوا ھو بھائی فورا شفاء انٹرنیشنل ھسپتال لے گئے درد بہت شدید تھی ڈاکٹر معائنہ کر رھے تھے ای سی جی اور پتہ نہیں کیا کیا میں رو پڑا بچے بہت چھوٹے تھے پتہ نہیں کیا کیا فلم ذھن میں چل رھی تھی ڈاکٹر پٹھوں کا درد ھے ھارٹ کی درد اتنی دیر نہیں رھتی اور یہ شدت میں اس سے کہیں زیادہ ھے اب انجیکشن اور دوائی کی وجہ سے درد بھی قابو تھا ڈاکٹر عمر عادل کو فون کیا ڈاکٹر صاحب اس طرح درد ھوئی ھے کل صبح 6 بجے ناران جانا ھے فوری ریلیف چاھیئے دوائیں میسج کریں اور میسج آگیا بھائی یہ دوائی لے لیں اس سے جلد آرام آجائے گا رات تک ٹھیک ھوگیا بیوی یار آپ پھر کبھی چلے جائے گا جی اچھا جیسے حکم ڈاکٹر عمر عادل کو فون کیا ڈاکٹر صاحب طبعیت ٹھیک ھے الحمدللہ کیا سفر کیا جاسکتا ھے انکا جواب تو احتیاط ھی تھا لیکن بیوی سے یار ماشااللہ اب بلکل ٹھیک ھوں ڈاکٹر صاحب کہہ رھے تھے موجاں کرو تے صبح چھ بجے سفر تھا اور میں تھا الحمداللہ
مجھے نہیں یاد پڑھتا کبھی بھی فوٹوگرافی کے سفر میں دیر سے چلا ھوں یا پہنچا ھوں۔
محبت جاری ھے اور مطمئن ھوں جو بہت قریبی دوست یہ سوچتے سمجھتے ھیں پتہ نہیں کیا چکر ھے تو میری جان چول انسان بس یہی ایک چکر ھے اور کوئی نہیں
اور آپ کو تو پتہ ھی ھے محبت کا تو زمانہ ازل سے دشمن ھے اور یہ تو وہ محبت ھے جو چھپائی بھی نہیں جا سکتی دکھائی جا سکتی ھے
دعا کی درخواست ھے سب کو میری محبت سمجھ آجائے امین
azhar
July 8, 2018
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020