محمد اظہر حفیظ
محمد اظہر حفیظ
تحریر محمد اظہر حفیظ
میرے بزرگ کپورتھلہ جالندھر انڈیا سے ھجرت کرکے لائلپور سے پچیس کلومیٹر دور 258 ر۔ب پھرالہ میں آ بسے جب سے ھوش سنبھالا تایا جی میاں طفیل محمد تایا جی میاں محمد منیر تایا جی میاں محمد انور والد صاحب میاں محمد حفیظ احمد کو جناح کیپ پہنے اور باریش ھی دیکھا تایا جی میاں طفیل محمد جماعت اسلامی میں تھے اور منصورہ لاھور رھتے تھے تایا جی انور سعودیہ میں نوکری کرتے تھے اور تایا جی منیر کو اکثر گھر پر ھی دیکھا پہلے شاید وہ بھی لاھور میں نوکری کرتے تھے صبح صبح نماز کے بعد قران پڑھتے تھے اور ساتھ مولانا مودودی صاحب کی لکھی ھوئی تفسیر پڑھتے رھتے تھے انکی زیادہ مصروفیت یہی تھی ایک دن پوچھا تایا جی آپ سب جناح کیپ کیوں پہنتے ھیں تو انہوں نے بتایا جب ھم اسلامی جمہوریہ پاکستان آئے تو ھمارا خیال تھا سب ھی داڑھی رکھیں گے اور جناح کیپ پہنیں گے ۔میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے ھمارے سارے گھروں کا ماحول شدید اسلامی تھا ھمارے گھر کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ میری پیدائش سے کئی سال پہلے 1964 میں وھاں چند دن مولانا مودودی صاحب نے قیام کیا تھا ۔ بعد میں بھی اسی گھر میں رھتا تھا وہ ھمارا آبائی گھر تھا ۔ تربیت پر بہت دھیان دیا جاتا تھا۔ میاں طفیل محمد صاحب کی زندگی کی مشکلات اور تنگیوں کو دیکھ کر باقی سب سیاست سے پرھیز پر ھی تھے لیکن سب خاندان میاں طفیل محمد صاحب کو سر انکھوں پر رکھتا تھا اور انکے مشورے پر ھی چلتا تھا۔گھر میں ایک ٹی وی تھا جو تایا جی میاں منیر کے گھر تھا جو زیادہ تر خبریں سننے کے کام آتا تھا یا پھر پاکستان انڈیا میچز دیکھنے کے۔پھر ھم 1981 میں راولپنڈی آگئے اور گھر کا ماحول کچھ بدلا سکول مدرسہ ملیہ اسلامیہ ھائی سکول ایک اسلامی ماحول والا سکول تھا۔ میٹرک عربی۔اسلامیات اختیاری۔جنرل سائنس کے ساتھ پاس کیا۔ پھر آئی کام کیا اور نیشنل کالج آف آرٹس چلا گیا۔ ان دنوں تایا جی امیر جماعت اسلامی ھوگئے تھے اور 14 سال تک مولانا مودودی صاحب کے بعد امیر رھے۔اب میرا ماحول بدلا میرا اٹھنا بیٹھنا مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کے ساتھ ھوگیا کبھی سید آصف حسین زیدی کے والد مرحوم سید شاھد زیدی صاحب جو گورنمنٹ کالج میں فلسفہ کے پروفیسر تھے ان سے بہت کچھ سیکھا اور اکثر وہ مجھ سے فوٹوگرافی پر بات کرتے اور جب کئی دفعہ انکل آئی اے رحمن صاحب کے ساتھ وقت گزارنےکا موقعہ ملا مجھے زندگی میں ان سے بھی بہت راھنمائی ملی احمر اے رحمن میرے کلاس فیلو تھے جب سب ملتان یا کراچی جاتے تو آئی اے رحمن انکل کے ساتھ وقت گزارنے کا شاندار موقعہ مجھے نصیب ھوتا اور میں وھاں موجود لاتعدادکتابوں سے مستفید ھوتا تھا ااور انکل کی راھنمائی اس کے علاوہ مجھے اچھی طرح یاد ھے ایک دن صبح صبح بیل بجی انکل کہنے لگے اظہر دودھ لے لیں باھر دودھ والا آیا ھے میں نے دروازہ کھولا تو آگے ایم ایچ جعفری صاحب میرے این سی اے کے استاد اور ھوسٹل وارڈن کھڑے تھے تم یہاں کیا کر رھے ھو جی وہ انکل اکیلے تھے اس لئے میں انکے پاس ٹھہرا ھوا ھوں ۔اچھا اچھا خیال رکھا کرو رحمن صاحب کا جی سر انشاءاللہ۔ رحمن صاحب کدھر ھیں جی وہ کچن میں ۔ کیا مطلب تم یہاں ھو اور وہ کچن میں جعفری صاحب غصے سے۔
سر انکل فرنچ ٹوسٹ بہت شاندار بناتے ھیں۔اتنی دیر میں انکل کی آواز آگئی اظہر میں دوڑا جی انکل کون آیا ھے جی جعفری صاحب اچھا یہ ناشتہ ڈرائنگ روم میں ھی لے آو ۔ چائے ھر وقت پکتی رھتی تھی پانچ ٹیمپل روڈ لاھور انکل کے گھر۔
جعفری صاحب کیلئے بھی چائے ڈالی اور لے آیا اب میں مزے سے فرنچ ٹوسٹ کھا رھا تھا چائے پی رھا تھا اندر فون آگیا انکل اندر فون سننے چلے گئے اور جعفری صاحب گویا ھوئے اظہر حفیظ زندگی میں کبھی تمھیں عقل آگئی تو اس کے ذمہ دار آئی اے رحمن صاحب کے ھاتھ کے بنے ھوئے یہ فرنچ ٹوسٹ ھی ھوں گے ۔شاید کچھ ایسا ھی ھے۔ورنہ میں کون۔آئی اے رحمن انکل اظہر کچھ تصویریں ھی دکھاو جی اچھا اپنا پورٹ فولیو کھولا سامنے رکھ دیا۔ دیکھتے رھے اچھا یاد رکھنا جب بھی عمارت کی تصویر دوبارہ بناو یا تو اسکے سامنے عمارت ھو تو اسکی چھت سے بناو تو عمارت سیدھی آئے گی ورنہ اس سے اپنا فاصلہ بڑھا دو تاکہ عمارت کا ٹیڑھا پن نکل جائے اس طرح سب عمارتیں سیدھی ھوگیئں۔
میں این سی اے میں اٹھنا بیٹھنا کیمونسٹ دوستوں ساتھ ھوگیا میاں نعیم۔پروفیسر آصف۔احتشام شامی۔صابر نظر۔متین صحرائی اور بہت سے دوسرے انارکلی کے دوست پرویز مجید صاحب،وسیم احمد اور بہت سے سیانے۔ این سی اے میں لوگ جگر کہہ کر بلاتے تھے کیمونسٹوں کو۔ تایا جی کو پتہ چلا منصورہ بلا بھیجا۔کہنے لگے آپکا اٹھنا بیٹھنا ٹھیک لوگوں میں نہیں ھے احتیاط کریں جی اچھا۔ کچھ دنوں بعد تائی جی کا انتقال ھوگیا جنازے پر گئے مجھے گلے لگایا میرے گردن پر لمبے بالوں میں ھاتھ پھیرا اور کہنے لگے پیپلزپارٹی کب جائن کی میں خاموش رھا قل والے دن میرے بال کٹے ھوے تھے پھر گلے لگایا اور کہنے لگے شکریہ۔
میں تھوڑا محتاط ھوگیا میرا سارا خاندان میرے علاوہ جماعت اسلامی میں تھا اور میں کچھ ڈھونڈ رھا تھا کبھی یہاں کبھی وھاں جہانگیر بھائی غالبا جمعیت کے ناظم تھے انھوں نے میری شکایت لگائی میاں صاحب میاں محمد اظہر حفیظ کمیونسٹوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ھے تو میاں صاحب نے پوچھا کیا وہ جماعت یا جمعیت کو کوئی نقصان پہنچا رھا ھے تو جہانگیر بھائی نے کہا نہیں تو میاں صاحب نے کہا پھرانکو مت چھیڑیں یہ بات مجھے جہانگیر بھائی نے ایک موقعہ پر بتائی۔میاں صاحب کے بعد قاضی حسین احمد صاحب امیر جماعت بنے انکے سیاسی طریقے مختلف تھے اور میاں صاحب کی وفات کے بعد ھمارا خاندان سیاسی طور مختلف جماعتوں سے وابستہ ھوگیا۔ لیکن میرا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا پارٹی سے وابستہ نہ ھوسکا ۔ میں جن زندگی کے مراحل سے گزرا میں کبھی بھی جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ نہ کہہ سکا میری زندگی مشکلات کا شکار ھوئی ۔ لیکن میں نے سوچا میں زندگی کے مثبت پہلو اجاگر کروں اور اس کی مسلسل کوشش کر رھا ھوں چور کی ڈاڑھی میں تنکا والی مثال میری تحریر کو سب لوگ اپنی مخالفت کی تحریر سمجھتے ھیں ۔ نواز شریف صاحب کے ساتھی اور عمران خان صاحب کے ساتھی الحمداللہ دونوں دشمن سمجھتے ھیں تو سمجھتے رھیں میں پاکستان کیلئے مثبت انداز میں بغیر گالی بغیر سخت الفاظ اسان الفاظ میں لکھتا ھوں پھر لوگ سخت الفاظ کا استعمال کرتے ھیں جواب نہیں دیتا ۔میں نے آج تک نہ کسی بھی ایک انسان کو کسی کی حمایت یا مخالفت کیلئے نہیں کہا ۔
پھر مجھے کہنے والے کون ھوتے ھیں۔کیمونسٹ ھونے کا فائدہ جو ھوا مجھے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا اور معافی مانگنا آگیا۔پھر 1997 میں میری واپسی ھوگئی لیکن اب میں ایک مختلف مسلمان تھا صرف مسلمان نہ کوئی فرقہ نہ گروہ ایک مسلمان اور ایک پاکستانی
درخواست ھے مجھے یہی رھنے دیں ذبردستی کسی سے وابستہ نہ کریں نہ میں ھونا چاھتا ھوں شکریہ
میری بات سے اختلاف اور اتفاق رکھنے والے دونوں سے بحث نہیں کرتا اور نہ کرنا چاھتا ھوں اگر آپ کو میری ذات میری سوچ پسند نہیں تو مجھے چھوڑ دیں لیکن اپنی عقل کے مطابق مجھے کسی سے زبردستی منسوب مت کریں شکریہ میں بھی ایسے دوستوں سے جان چھڑا کر زندگی آسان کر رھا ھوں آپ بھی کرلیں شکریہ
پاکستان زندہ آباد
azhar
August 7, 2018
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020