چند تصویریں

چند تصویریں
تحریر محمد اظہر حفیظ

زندگی کے تیس سال اور چند تصویریں ۔ تصویریں مختلف شکل میں میرا انتظار کرتی تھیں ۔ کہ وہ آئے گا اور دنیا کو دکھائے گا۔ اور میں یہ کام انتہائی ذمہ داری سے کرتا تھا۔ تصویریں بناتا تھا اور دیکھنے والے اہل نظر تک پہنچاتا تھا۔ سلسلہ چل رہا تھا ۔میں ہر وقت سفر میں رہتا تھا تصویریں میرا انتظار کرتی تھیں اور میں ان تک پہنچ جاتا تھا۔ میں یقیناً اچھا فوٹوگرافر نہیں ہوں پر مشقتی بہت ہوں۔ اس مشقت نےچند ہزار تصاویر اللہ تعالی کے فضل سے عطا کردیں۔ اور میں انکی نمائشیں لگاتا تھا۔جو سال دو سال میں جمع پونجی ہوتی نمائش پر لگادیتا۔ بہت سے لوگ تشریف لاتے اور کچھ میسج کرتے اگلی نمائش کب ہے اس پر آئیں گے۔ میں مسکرا کر رہ جاتا۔ راولپنڈی اسلام آباد سے نکل کر لاہور، فیصل آباد اور پھر جاپان، چائنہ، یورپین یونین ، اور دوسرے کئی ممالک میں نمائشیں کی۔ اللہ نے بہت عزت دی شکر الحمدللہ ۔
لوگ مجھے فوٹوگرافر سمجھنے لگے اور میں پاکستان کی زیادہ تر یونیورسٹیوں میں اعزازی لیکچر بھی دینے جانے لگا۔
سلسلہ چلتا رہا اور پھر یہ فوٹوگرافی اور میرے سفر میری صحت کو متاثر کرنے لگے۔ اور میں نے اس شعبے کو اپنی جوانی اور صحت دے دی۔ اس سفر زندگی میں پتہ چلا جگر متاثر ہوگیا ۔ پر پرواہ نہیں کی اور جگر ٹرانسپلانٹ سے پہلے اپنی نمائش لائلپور میں کرنے کا سوچا تجربہ بہت اچھا تھا پر گیلری کے لوگ اچھے نہیں تھے۔ انکی مجبوریاں میرے جگر ٹرانسپلانٹ سے زیادہ تھیں اور ادائیگیاں رو رو کر کی گئیں۔ شکر الحمدللہ جگرنیا لگ گیا اور زندگی دوبارہ مل گئی پھر لاہور میں حمائل آرٹ گیلری میں نمائش کی اور شاندار تجربہ رہا۔ جمیل صاحب واقعی جمیل انسان ہیں سلامت رہیں آمین۔
آخری نمائش نمل یونیورسٹی راولپنڈی میں کی ایک سابقہ دوست کی باتوں میں آگیا۔ انکا شو اچھا ہوگیا اور ہم سینکڑوں تصویروں اور اس دوست سے بھی محروم ہوگئے۔ امید ہے آنے والے وقتوں میں اب نمائش شاید ممکن نہ ہو۔ اور نہ ہی کوئی دوست ۔
چند تصویریں اب بھی باقی ہیں پر میرے پاس پیسے نہیں ہیں کہ ہرنٹ کرواکر اور فریم کروا کر اہل شوق کو مفت تقسیم کرسکوں۔ پر میرے پاس چند ایسے دوست ضرور ہیں جو میرے کیمروں کو اپنا سمجھتے ہیں۔ اور انتظار میں ہیں کب انکو یہ فوٹوگرافی کا سامان فری میں ملے گا۔
مجھے پتہ ہے میرا عہد فوٹوگرافی ختم ہوا۔ کوئی دکھ نہیں پرچند لوگ پہچانے گئے۔
اب میں صرف فوٹوگرافی کے پروجیکٹ کرتا ہوں اور اس سے پیسے کماتا ہوں۔ پروجیکٹ کرنا میرے لیے بہت آسان ہے چند دن چند راتیں مسلسل کام کرنا اس امید کے ساتھ پتہ نہیں پیسے ملیں گے یا نہیں ۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ اب کام کریں اس سوچ کے ساتھ اور آپ کے بچے آپ سے بات کرنے کو ترسیں۔ اب بچے بات نہیں کرتے اور میں کام نہیں کرتا۔
بیٹیاں پرایا دھن ہیں اپنے اپنے گھروں کو چلی جائیں گی اور پیچھے بچیں گے دو بوڑھے میاں بیوی اور مفت کی چند تصویریں ۔ اور کچھ گدھ بیٹھے انتظار کررہے ہیں کب خبر آئے اور فوٹوگرافی کا سامان اپنے اصل مستحق مالکوں تک پہنچے۔ آجکل پرندوں سے دل لگی کرتا ہوں پرندوں کے گروپس میں کچھ دوست مفت کے پرندوں کی اپیل کرتے ہیں مجھے لگتا ہے یہ بھی گدھ ہیں اور ان کے بھائی ہیں جو فوٹوگرافی کے گدھ ہیں ۔ مفت صرف خاموشی ہے جو ہر سال ہم پانچ منٹ کیلئے مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنے کیلئے کرتے ہیں ۔ ایسی مفت کی جدوجہد کو سلام جو جہاں کررہے ہیں ۔
محنت سے فوٹوگرافی کرنے والوں کے پاس کیمرے بھی ہیں اور تصاویر بھی ۔ کوشش کرکے دیکھ لیں یہ 34 سال کی کہانی ہے ایک دو روز کی بات نہیں ۔ آپ سب پر سلامتی ہو ۔ آمین

Prev سردار محمود صادق
Next میں اپنے رب کو بتاوں گا

Comments are closed.