باپ

باپ
تحریر محمد اظہر حفیظ
باپ ھونا بہت مقدر کی بات ھے اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ھے ۔ میرے والد صاحب ایک بہترین باپ تھے۔ زندگی بھر کبھی کسی کو بھی کسی چیز کی کمی نہیں ھونے دی۔ سب کا خیال رکھنا مجھے فخر ھے میں اکثر چیزوں میں انکی نقل کرتا ھوں ۔ میں نے انسے سیکھا کیسے بہن کا خیال رکھتے ھیں کیسے بھائیوں کا خیال رکھتے ھیں کیسے بیوی بچوں کا خیال رکھتے ھیں کیسےدوستوں اور ہمسایوں کا خیال رکھتے ھیں ۔ وقت پر بل جمع کرواتے ھیں فیس وقت پر ادا کرتے ھیں بڑوں کا احترام کرتے ھیں چھوٹوں سے پیار کرتے ھیں۔ کام محنت سے کرتے ھیں ۔ غریبوں یتیموں کا خیال رکھتے ھیں۔ حق کیلئے آواز بلند کرتے ھیں کسی پر نہ ظلم کرتے ھیں نہ کرنے دیتے ھیں۔ صلہ جوئی کو فروغ دیتے ھیں ۔ بڑوں کو نام سے نہیں بلاتے چچا تایا یا بھائی جان کہتے ھیں۔ گھر آئے کا احترام کرتے ھیں انکو کھانا کھلائیں چائے پلائیں ٹھنڈی جگہ بٹھائیں انشاءاللہ اللہ جزائےخیر دیں گے۔ ادھار دے کر بار بار تقاضہ نہیں کرتے اسکو مہلت دیتے ھیں ۔ بہن کے گھر خالی ھاتھ نہیں جاتے جب وہ آپکے گھر آئے تو اس کو خالی ھاتھ نہیں بھیجتے۔ جب تک ابا جی زندہ رھے وہ بہت یاد سے پھوپھو کو عید بھیجتے تھے میری بہن کو عید بھیجتے تھے اب یہ کام ھم بھائی کرتے ھیں الحمدللہ۔ میری خوش قسمتی ھے کہ محنتی اور اچھا باپ مجھے میرے اللہ نے عطا کیا۔ شکر الحمدللہ۔
جب باھر جاتے تو خود سڑک کی طرف چلتے اور ھمیں محفوظ سائیڈ پر چلاتے سڑک ھمیشہ ھاتھ پکڑ کر کراس کراتے روز نہاتے کپرڑے بدلتےاور ھمیں بھی یہی عادتیں ڈالی۔ سر کو تیل لگانا کنگھی کرنا۔انکا معمول تھا ۔ دانت روزانہ صاف کرنا ۔ یہ سب اچھی عادتیں ھماری زندگی کا بھی معمول بن چکی ھیں ۔ ادھار لینا نہیں اگر لے لیا ھے تو وقت مقررہ سے پہلے واپس کرنا۔ سکول کالج دفتر وقت پر پہنچنا۔ مجھےیادھے میری شادی میں بارات کا وقت ڈھائی بجے تھا جب ھم شادی ھال پہنچے تو وھاں کوئی بھی نہیں تھا استقبال کرنے والے ھمارے بعد پہنچے۔ عید کی نماز ھو یا کوئی بھی نماز ابا جی سب سے پہلے پہنچتے تھے ۔ پانچ بجے ھی امی جی کو آواز دیتے تھے صاحب نوں اٹھا دیئو چوھدری صاحب سات بجے نماز عید کا وقت ھے جی اچھا امی جی اظہر اٹھ تیار ھوجا تیرے ابو جی تیار ھوگئے نے امی جی تھوڑی دیر ھور سو لین دیئو بیٹے فر تیرے ابو جی ناراض ھون گے جی اچھا جب تیار ھوجانا تو ابا جی جناح کیپ سفید شلوار قمیض ویسٹ کوٹ اور کھسہ پہنے تیار کھڑے ھوتے۔ ھر عید پر سب کے نئے کپڑے وہ ضرور بنواتے تھے یہی ھماری عادت ھے۔
کسی کو تکیف میں دیکھ کر فورا رونا شروع کر دیتے تھے۔ ابا جی جب بجلی اور استری نہیں ھوتی تھی تو کپڑے کیسے استری کرتے تھے صاحب رات کو تہہ کرے تکیے کے نیچے رکھ لیتے تھے صبح کافی بہتر ھوجاتے تھے تو پہن لیتے تھے۔ صفائی پسند بہت تھے اکثر گاڑی یا موٹرسائیکل خود دھونے لگ جاتے تھے۔ یار صاحب گڈی سروس کروا۔ یار اباجی بارش ھونے والی ھے یار بارش میں زیادہ ضروری ھوتی ھے زنگ نہیں لگتا جی اچھا ابا جی۔ یار اے اچھا دا کی مطلب ھوندا اے کم کرنا اے تے کرو ۔ جی جاتا ھوں۔ بس یونہی زندگی گزر گئی نیشنل کالج آف آرٹس لاھور اکثرآتے تھے ۔ یار ڈریس پینٹ پہنا کر یہ جینز کا کپڑا اچھا نہیں ھوتا۔ پھر پینوراما جانا اور جینز ھی خریدنی کبھی منع نہیں کیا بس مسکراتے رھتے تھے۔ جرسی انکو صرف سینٹ مائیکل کی ھی پسند تھی باقی کو وہ ھلکی کوالٹی کی سمجھتے تھے ۔ بڑا شاندار وقت انکے ساتھ گزرا ھر لمحہ انھوں نے ھماری راھنمائی کی۔اللہ جزائے خیر دے امین۔ پیسوں کو بڑی ترتیب سے جیب میں رکھتے تھے ایک روپیہ دو روپے پانچ روپے دس روپے پچاس روپے سو روپے پانچ سو روپے اور ھزار روپے آپ کو جو رقم بھی دینی ھے جیب میں ھاتھ ڈالتے تھے جیب کے اندر ھی گن کر نکالتے تھے اور ھمیشہ پورے پیسے ھوتے تھے۔ کبھی کم یا زیادہ نہیں ھوئے ۔ یہ ھنر کسی اور کے پاس نہیں دیکھا۔ یار صاحب تو کدی کوئی فرمائش نہیں کیتی دس میرے پتر نوں کی چاھیدا ابا جی اپنی جیب مینوں دے دیئو ھسنے لگ جاتے ۔ وفات سے کچھ دن پہلے بہن آئی تو اس کو وہ سارے پیسے نکال کر دے دیئے اے رکھ لے جی اباجی ۔ پر سارے کیوں پتر میں ھن کی کرنے۔ اکثر مجھے کہتے یار دس ھزار دے چھوٹے نوٹ لے آنا جی اچھا اباجی تیری بہن کہاں سے چینج لیتی رھے گی۔ ھر چیز کا خیال رکھتے تھے۔ میری اکثر عادتیں ان سے ملتی ھیں ھر کام میں وہ یاد آجاتے ھیں۔ اسی سے پتہ چلتا ھے کہ میں بھی ایک باپ ھوں اور دعا کرتا ھوں ابا جی کی طرح میں بھی ایک اچھا باپ بن سکوں ۔ امی جی کی وفات کے بعدوہ بلاناغہ قبرستان جاتے تھے جب تک صحت رھی اور سفر کر سکتے تھے۔ ابا جی بارش ھورھی ھے یار چوھدری صاحب انتظار کر رھے ھوں گے اج اظہر دے ابا جی نہیں آئے چل میرا پتر اور پھر ھم دونوں چل پڑتے۔ اتنا پیار کرنے والا انسان بھی کبھی نہیں دیکھا۔ ایسا شوھر بننا بھی مشکل ھے۔ آج ایک دوست مل گئے کہنے لگے تم اپنی بیٹیوں کو بہت دھیان سے رکھتے ھو۔ ھر وقت ساتھ ساتھ پینسل چاھے اچھا لاتا ھوں جوس پی لو یہ کپڑے پہنو۔ یہ جوتے پہنو ۔ ماں باپ کو اتنا نہیں کرنا چاھیئے۔ اب انکو کیا بتاتا یہ تو بیٹیاں ھیں اور میں بیٹا تھا میرا باپ میرا اس سے کروڑوں گنا زیادہ خیال رکھتا تھا۔ میں تو ابھی اس طرح خیال رکھنے کے قابل ھی نہیں ھوا دعا کیجئے گا اللہ مجھے ھمت دیں کہ میں اپنے ابو جی کی طرح کا باپ بن سکوں جو کہ بہت مشکل ھے پر میں نقل کی کوشش ضرور کرتا ھوں۔ اپنے ماں باپ کا احترام کیجئے انکا شکریہ ادا کیجئے اگر وہ اللہ پاس چلے گئے ھیں تو ان کیلئے دعا ضرور کیجئے ۔ اللہ سب کیلئے آسانیاں کریں امین۔

Prev خواب ایک دیوانے کے
Next تنہا

Comments are closed.