بے یقینی

بے یقینی
تحریر محمد اظہر حفیظ

بے یقینی ایک ایسا زھر ھے جو نظر بھی نہیں آتا اور اثر بھی کرتا جاتا ھے کوئی اس کی وجہ سے شوگر کا شکار ھے کوئی بلڈ پریشر اور کوئی کینسر کا۔ یہ ایک لا علاج بیماری ھے جس کے ھم سب شکار ھیں۔ ھم بے یقینی میں ووٹ دیتے ھیں اور وہ ھماری امیدوں پر پورا اترتا ھے جو وعدے کیئے ھوتے ھیں کوئی بھی پورا نہیں کرتا۔ حکومتیں بنتی ھیں ٹوٹتی ھیں لیکن بے یقینی کی صورتحال اسی جگہ ھے جس طرف دیکھو ھر کوئی اسی بیماری کا شکار ھے۔ کوئی آواز ریکارڈ نہ کر لے کوئی ویڈیو نہ بنا لے۔ماں باپ کا اولاد پر یقین نہیں ھے اسی طرح اولاد ماں باپ پر یقین نہیں کرتی۔ پتہ نہیں کونسا وقت آگیا ھے ھر کوئی شک میں ھے ۔ پتہ نہیں ھم کس طرف جا رھے ھیں کسی سے خالص محبت کی کوشش کرلو وہ یہ ھی سمجھتا اور کہتا ھے کس کس سے ایسے پیش آتے ھو۔ پتہ نہیں ھم کس دور میں آگئے ھیں سب ھی سب کو دھوکہ اور فراڈ سمجھتے ھیں۔ ھر فرقہ دوسرے کو کافر سمجھتا ھے اور اپنے آپ کو جنتی۔ ھر سیاستدان اپنے آپ کو محب وطن سمجھتا ھے اور دوسرے کو غدار ایسے کیسے نظام چلے گا۔ دوست دوست پر شک کرتا ھے۔ ھر بندہ نئی پارٹی میں شامل ھوکر باقیوں کو لوٹا سمجھتا ھے۔ گھوڑا سمجھتا ھے۔ شرم آتی تھی جب فلموں میں کہتے تھے ھر چیز ھر بندے کی ایک قیمت ھوتی ھے۔ اب دیکھتے ھیں تو فلمیں بھی سچ نظر آنے لگی ھیں۔ پہلے سنا تھا رمضان میں شیطان بند ھوجاتا ھے اس دفعہ تو وہ بھی آزاد پھر رھا ھے ،دعائیں بھی اب قبول ھوتی نظر نہیں آتی۔ جھوٹ اتنا ھوچکا ھے کہ سچ ھوگیا ھے۔ کسی کے وعدے وفا ھوتے نظر نہیں آتے۔ سب نے اپنے اپنے جھوٹ کے ماونٹ ایورسٹ بنا رکھے ھیں۔ اور اسی کو سر کرنے کی کوشش کر رھے ھیں۔ طلاق کی شرح دن بہ دن بھڑتی جارھی ھے کوئی اس کی وجہ تلاش نہیں کر رھا جتنے پیارے جوڑے تھے سب علیحدہ ھوگئے کیا کریں۔ کس کا یقین کریں کون خوش ھے۔ اور کون دکھی۔ کوئی اپنی طلاق کا جشن منا رھا ھے اور کوئی بچوں سے ملنے کو ترس رھا ھے۔ یہ عدالتی نظام یہ پڑھی لکھے خواتین و حضرات ان کو کون سمجھائے اپنی انا کے چکروں میں پوری پوری نسلیں تباہ کر رھے ھیں۔ یہ طلاق یافتہ کنسلٹنٹ عورتیں ھوں یا مرد ان سے پرھیز کریں یہ اپنی آزادی کے چکر میں آپ کو بھی آزاد کروا دیں گے۔ عورت اور مرد کا جوڑا ھی اچھا لگتا ھے عورت اور مرد ساتھ ساتھ ھوں تو ھی محفوظ ھیں۔ شادی ایک ضروری عمل ھے احتیاط کیجئے یقین کیجئے۔ بہتر زندگی گزاریئے۔ 
فوج اور عوام ساتھ ساتھ لازم و ملزوم ھیں نہ اکیلی عوام چل سکتی ھے اور نہ ھی فوج۔ بہتر ھے دونوں ساتھ ساتھ چلیں اور ایک دوسرے کی حفاظت کریں ۔ وقت پڑنے پر افواج پاکستان کی پہلی صف عوام پاکستان ھوتی ھے یہ فوج اور عوام دونوں کو اچھی طرح پتہ ھے۔ 
لاپتہ افراد بغیر وجہ کے کیسے لا پتہ ھو سکتے ھیں گھر والوں کو پتہ ھوتا ھے۔ کہاں اسکا آنا جانا ھے۔ اور کیا مصروفیات ھیں۔ احتیاط سے چلیں ۔ یقین کریں اسان زندگی ھوگی یہ ایک ۔مشکل مشق ھے پر اسکے علاوہ گزارا نہیں ھے۔ مجھے ایسے لگتا ھے کہ ھم ھر وقت حادثوں کا انتظار کر رھے ھوتے ھیں یہ نہ ھو جائے یہ نہ ھوجائے۔ عدالت،پولیس،نیب،گھر والے،باھر والے،دفتروالے، فوج والے کس کس کو کس کس بات کا جواب دیں۔ کوئی اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں۔ ھمیں تھوڑی آسانیاں کرنا ھوں گی اپنے رویے اپنے لہجے بہتر کرنے ھونگے ورنہ ایسے زندگی مشکل ھو گئی ھے۔
گورنمنٹ اور ان کے ساتھیوں کے رویے بہت نامناسب ھیں لہجہ تلخ ھے ۔ بہت زیادہ بے یقینی ھے۔ جو پہلے جھوٹ بول چکا اب وہ سچ کیسے بولے گا۔ اسمبلیوں کے اجلاس سے تو الفاظ حذف ھوجاتے ھیں عام زندگی میں نہیں۔ کچھ لوگوں نے سینکڑوں ارب واپس لانے تھے پہلے دو دن میں بھول گئے۔ اب پھر تقریریں کر رھے ھیں یار کیسے یقین کریں۔ مقرر کوئی اور لاو۔ اسکا ھمیں یقین نہیں ھے۔ 
میں خود اپنے آپ کا یقین کھو چکا ھوں ۔ اب کسی اور پر کیسے یقین کروں۔ میں کسی کو بھی اپنے اچھے ھونے کا یقین دلانا نہیں چاھتآ۔ اور نہ ھی مجھے اچھا سمجھیں۔ ساری زندگی سب کی باتوں کایقین کیا اور بہت دھوکے کھائے ۔ سب کی مدد کیلئے آگے بڑے سب نے سوچا ضرور کوئی مطلب ھوگا۔ میں تھک گیا ھوں آپ کی سوچ جان کر اور سن سن کر مجھے اب کسی کا یقین اور قسم نہیں چاھیئے۔ نہ ھی میں نئے پاکستان کا طلبگار ھوں اور نہ کسی امیر المومینین کا انتظار ھے۔ میرا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی سروکار نہیں نہ ھی کوئی امید ھے نہ میں یوتھیا ھوں نہ ھی پٹواری۔ نہ ھی طالبان ھوں میں بس ایک پاکستانی مسلمان ھوں۔ میری کسی سے نہ لڑائی ھے اور نہ دشمنی۔ عوام بھی میری ھے اور فوج بھی میری۔ مولوی بھی میرے ھیں اور سائنسدان بھی میرے،
عیدیں بھی میری ھیں شبراتیں بھی میری محرم بھی میرے ھیں اور ربیع الاول بھی میرے شعبان بھی میرے ھیں اور رمضان بھی میرے، سکھ بھی میرے ھیں اور ھندو بھی میرے عیسائی بھی میرے ھیں اور مسلمان بھی میرے۔
کیوں آپس میں لڑتے ھو۔
ھنسی خوشی رھو۔ اور رھنے دو بس فقدان ھے تو یقین کا اس کا کچھ کر لو سب اچھا ھوجائے گا۔ وہ مسئلہ کسی خاندان میں ھو یا پاکستان میں۔

Prev رب دی مہربانی
Next سکول

Comments are closed.