رمضان المبارک
رمضان المبارک
تحریر محمد اظہر حفیظ
زندگی کا چون واں رمضان ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی روزے رکھنے شروع کردئیے تھے گھر کا ماحول مذہبی تھا سب ہی روزے رکھتے تھے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے چوتھی جماعت میں پہلی دفعہ چوبیس روزے رکھے تھے پہلے ایک دو ہی رکھتے تھے پھر الحمدللہ مکمل رکھنا شروع کردئیے۔ چون سالوں کے بعد آج احساس ہوا کہ روزے تو والدین کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔پہلے روزے والدہ کے ساتھ گاؤں میں ہی رکھتے تھے پھر 1981 میں ہم والد صاحب کے پاس راولپنڈی آگئے اب سحری اور افطاری ساتھ ساتھ ہی ہوتی تھی۔ وہ مجھے صاحب کہتے تھے میں دو پراٹھے اور دہی کھاتا تھا سحری میں۔ دہی پر چینی میں صرف والد صاحب کی محبت بھری ڈانٹ کھانے کیلئے ڈالتا تھا پہلا چمچ ڈالتا تو وہ متوجہ ہو جاتے دوسرے چمچ پر سر اٹھا کر مجھے دیکھتے اور تیسرے چمچ بھرنے پر کہتے صاحب تیرا مسئلہ کی اے۔ اور میں ہنستے ہوئے سحری شروع کردیا کرتا تھا ۔ یہ سلسلہ 1990 تک چلا پھر میرا داخلہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں ہوگیا ۔ پہلا رمضان تھا ہاسٹل میں ساندہ ایک ریسٹورنٹ پر سحری کرنے گیا۔ کچھ کلاس فیلو بھی ساتھ تھے دہی اور پراٹھے منگوائے چینی ڈالتے میں زارو قطار رونے لگ گیا۔ دوستوں نے پوچھا کیا ہوا کچھ نہیں بتایا بس یاد آیا آج چینی ڈالتے کسی نے روکا نہیں ۔ گھر میں ہر طرح کی سہولیات ہوتیں تھیں افطاری میں کھجوریں، فروٹ چارٹ، چنا چارٹ، دہی بھلے، پکوڑے، جلیبیاں،کچوریاں، روح افزا،سکنجبین ،مینگو سکوائش جو سوچتے تھے دستیاب ہوتا تھا۔ہاسٹل میں ایک روح افزا کا گلاس ایک کجھور اور تین پکوڑے۔ چار سال روتے روتے ہی رمضان گزرے اور پھر گھر واپس اگئے۔ اب کبھی افطاری گھر اور کبھی ہوٹلوں میں 2011 میں امی جی چلیں گئیں تو افطاری کا سواد بھی ساتھ ہی چلا گیا اب میں سحری اور افطاری گھر ہی کرنے لگا کوشش ہوتی بہتر سے بہتر افطاری ہو والد صاحب کے ساتھ ۔ 2015 میں والد صاحب بھی اللہ تعالیٰ پاس چلے گئے اور سحری اور افطاری بدلنے لگی دہی پھیکا کھانے کا حکم ہے پراٹھے منع ہیں سادہ دہی کے ساتھ کالی گندم کی شوگر فری ایک چھوٹی سی چپاتی ساتھ چائے کا پھیکا کپ شکر الحمد للہ پڑھتے ہیں کیونکہ مٹھاس تو شائد ماں باپ کے ساتھ ہی تھی۔ شام کو افطاری ایک کھجور سادہ پانی اور فروٹ چارٹ اب بیٹی سموسے ائیر فرائیر میں بنا دیتی ہے وہ بھی کھا لیتے ہیں۔ میری جیسی اولاد سارا سال ماں باپ کو بھولی رہتی ہے پر رمضان اور عید پر بہت یاد آتی ہے۔ 2022 کے رمضان سے روزے رکھنے کی ممانعت تھی بوجہ جگر ٹرانسپلانٹ کہ تین سال روزے نہیں رکھنے الحمدللہ اس سال روزے رکھنے کی اجازت ہے۔ میں نے رمضان کی تیاری میاں طفیل محمد صاحب سے سیکھی ۔ جب وہ بیمار تھے دل کا عارضہ تھا ڈاکٹروں نے روضے رکھنے سے روکا تھا کہ اس سال روزے نہیں رکھنے ۔ میاں صاحب فجر کی نماز کے بعد ناشتہ فرماتے اور مغرب کے بعد رات کا کھانا کھاتے جب اس سال رمضان آیا تو بچوں نے کہا کہ روزے ڈاکٹر نے منع کئے ہوئے ہیں تو انھوں نے کہا کہ میں نے تو صرف فجر کے بعد کی بجائے اس سے پہلے سحری کرنی ہے باقی روٹین تو پہلے والی ہی رہے گی یوں ماشاءاللہ انھوں نے مکمل روزے رکھے۔ اس دفعہ میں نے بھی صبح ناشتہ اور رات کو دفتر سے گھر آکر کھانا کھانا شروع کردیا تھا نیت تھی کہ روزے رکھنے ہیں الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے آسانی کا معاملہ فرمایا اور میں روزے رکھنے کے قابل ہوسکا ۔ الحمدللہ بہترین روزے چل رہے ہیں بس والدین کی یاد بہت ستاتی ہے۔ میری والدہ محترمہ سب سےپہلے دو پراٹھے مجھے بنا کر دیتیں تھیں دو پراٹھے کھانے کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ ابا جی بھی دو ہی کھاتے تھے۔ بس انکی نکل میں دو ہی کھاتا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ والدہ سے ڈانٹ پڑی کہنے لگیں محمد اظہر حفیظ تم نے بسم اللہ کیوں نہیں پڑھی امی جی اس سے کھانا کم کھایا جاتا ہے دن میں بھوک لگ جاتی ہے۔ پہلے امی غصے ہوئیں اور پھر ہنسنے لگیں کہ تمھاری کوئی حرکت درست نہیں ہے۔ میں پہلے اخبار میں نوکری کرتا تھا سحری وقت ہی گھر آتا تھا تو کہتیں بیٹا کہتے ہیں بیٹا گھر اگر دیر سے آئے تو ماں باپ کو سوچنا چاہیئے میں کیا کروں جس کا بیٹا آتا ہی سحری وقت ہے۔ زندگی گزار دی اور رمضان بھی۔ زندگی پہلے سے بہت بہتر ہے نیک وفا شعار بیوی ہے بہن بھائی بچے ہیں دوست احباب ہیں پر والدین کی کمی کی شدت بڑھ جاتی ہے خاص طور پر جب بچے دہی پر چینی ڈالتے ہیں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں میں انکو منع نہیں کرتا کہ کل کو یہ اسی طرح مجھے مس کریں گی۔ اور دکھی ہوں گی۔
میری والدہ کی مجھ سے ایک خواہش تھی کہ محمد اظہر حفیظ نماز پڑھا کر الحمدللہ ان کی دعاؤں سے اور اللہ کے فضل سے میں نماز پڑھنے لگ گیا یقیناً وہ خوش ہوتے ہوں گے ۔ مجھے دکھ ہے میں انکی زندگی میں باقاعدگی سے نماز ادا نہ کرسکا ۔ بہت دیر سے میں نے باقاعدہ طور پر نماز ادا کرنا شروع کی۔ میرا رب مجھے معاف فرمائے آمین ۔
میرا دل کرتا ہے میرے ماں باپ میرے ساتھ ہوتے ہم رمضان المبارک ساتھ گزارتے۔ ایک بیٹی کی شادی کردی ہے وہ ماشاءاللہ اپنے گھر خوش ہے یہ پہلا رمضان اس کے بغیر ہے۔ پہلے روزے اسکی والدہ نے اس کیلئے بھی سب کچھ بنایا اور برتن بھی رکھے۔ پھر کہتے ہوئے افسردہ ہوگئی مجھے یاد ہی نہیں تھا کہ بڑی کی شادی ہوگئی ہے۔ امید ہے چند دن تک وہ ملنے آجائے گی اور ہم پھر سے ساتھ روزے رکھیں گے۔وہ بہنوں کو فون کرتی ہے تھوڑی تھوڑی چیزیں بناؤ میں آکر بہت سی بنادوں گی۔ آپ لوگ تھک نہ جانا۔ انشاء اللہ جلد ہم سب سحری اور افطاری ساتھ کرسکیں گے۔ انشاء اللہ
azhar
October 14, 2025
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020