شفاء لوکل ہسپتال اسلام آباد

شفاء لوکل ہسپتال اسلام آباد
تحریر محمد اظہر حفیظ

6 اکتوبر 1989 میں ڈاکٹر ظہیر مرحوم ایک اوورسیز پاکستانی نے پاکستان میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی بنیاد رکھی ۔ اور یہ ہسپتال بنا کر کمال کردیا۔ پاکستان میں ہسپتالوں کا کلچر ہی تبدیل کردیا۔ سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی کئیر سٹارٹ کی گئی۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا انٹرنیشنل ہسپتال تھا۔ جہاں ہر سہولت لواحقین کے سوچنے سے پہلے دستیاب ہو جاتی تھی۔ ہم اور ہمارے دوست بہترین کئیر کیلئے ہمیشہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کا ہی حوالہ دیتے تھے۔ چند دن پہلے ایمرجنسی میں اپنی ساس صاحبہ کو لے جانے کا اتفاق ہوا انکی طبیعت شدید خراب تھی۔ اور ہسپتال کی ایمرجنسی میں کوئی اٹینڈنٹ کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ ایمرجنسی کی گنجائش سے چار گنا مریض موجود تھے۔ میری زوجہ محترمہ جو خالص ایک گھریلو خاتون ہیں۔ باربار مجھے کہیں کسی سے فون کروائیں۔ بہت دفعہ سمجھایا کہ یہ سب سے بہترین ہسپتال ہے آپ فکر مند نہ ہوں۔ ہر ممکن طرح سے مایوس کیا گیا۔ ایکسرے مشین مصروف ہے، الٹراساؤنڈ مشین کا وقت دے دیا ہے۔ کرتے کرتے ساری رات گزر گئی تکلیف کچھ کم ہوئی تو گھر لے جائیں۔ گھر جا کر پھر تکلیف میں اضافہ ہوا تو دوبارہ لاکر ایڈمٹ کروادیا۔ اور ذلالت دوبارہ سے شروع ۔ ڈاکٹر کو کہہ دیا ہے آرہے ہیں تین دن اسی کشمکش میں گزر گئے متعلقہ ڈاکٹر نہیں آیا۔ ہر دفعہ نرسنگ سٹاف کے پیچھے مقامی ہسپتالوں کی طرح بھاگتے رہے، ڈرپ ختم ہوگئی ہے، کنولا تبدیل کردیں، دوائی کا وقت ہوگیاہے۔ نیبولایئزر کی دوائی ختم ہوگئی بند کردیں۔ رات تین بجے ایم آر آئی مشین خالی ہوگئی ہے مریض کو لے چلیں جی بہتر۔ ہر وہ کوشش جو سرکاری ہسپتال کا وطیرہ تھا وہ شفاءلوکل ہسپتال نے بھی سیکھ لیا ہے۔ پانچ دن بعد صبح ڈاکٹر صاحب تشریف لے آتے ہیں ، دیکھیں مریض کی آج ایم آر آئی کروائیں جی وہ تو رات کو ہوگئی تھی اچھا فائل میں ذکر ہی نہیں ہے۔ پانچ دن میں سو سے زیادہ ٹیسٹ کروانے کے باوجود بیماری نہیں ملی۔ نمونیہ کا ٹریٹمنٹ سٹارٹ کردیا ہے، ریڑھ کی ہڈی کی نیوروتھراپی شروع کروائیں، پین مینجمنٹ والوں کو بلایا ہے۔ یہ سب کچھ پانچ دن چلتا رہا اور آج ڈسچارج کردیا کہ گھر پر یہ ڈرپس لگوائیں، پیر کو اوپی ڈی میں آکر جو ڈاکٹر موجود نہیں تھے انکو چیک کروائیں ۔ پھر انکے مسئلے کو دیکھتے ہیں شاید مزید انوسٹیگیشن اور ٹیسٹوں کی ضرورت ہوگی۔ اچھے وقت پر ڈاکٹر ظہیر مرحوم انتقال فرما گئے ورنہ ان سے شاید انکے اس انٹرنیشنل پراجیکٹ کے لوکل حالات برداشت ہی نہ ہوتے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی یہ ڈاکٹر ظہیر کا پاکستان کے لوگوں پر احسان تھا یا سزا۔
جتنے اچھے ہسپتالوں میں گئے اچھے ڈاکٹر یا نرسنگ سٹاف سے بات ہوئی تو پتہ چلا یہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے ٹرینڈ ہیں۔ انکو بڑی دعائیں دیتے تھے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کی وجہ سے سب بڑے ہسپتالوں کو بہترین سٹاف مل گیا۔ لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ پیچھے خود شفاء انٹرنیشنل ہسپتال سے لوکل ہسپتال میں تبدیل ہوچکاہے۔ جو ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف گیا انکی جگہ بہتر لوگ رکھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ گارڈ بہت زیادہ بڑھا لیے ہیں۔ تاکہ مارپیٹ سے بچا جاسکے۔ حالانکہ بڑھانے ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف چاہیے تھا۔ مجھے امید ہے جلد ہی شفاء لوکل ہسپتال صرف ایک لیبارٹری ہی رہ جائے گا کہ جو مریض آئے اسکے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکے پیسے کمائے جائیں۔ مریض اور لواحقین ٹیسٹ کروانے میں مصروف رہیں اور ڈاکٹر کی ضرورت نہ پڑے۔
ڈسچارج پیپر پر صرف مریض کا نام اور دوائیں درج تھیں ان سے درخواست کرکے گھر پر ٹریٹمنٹ کے متعلق لکھوایا گیا۔ اب گھر پر نرسنگ سٹاف بلوا کر ڈرپس اور اینٹی بائیوٹکس لگوا رہے ہیں ۔ جو لکھ کر دی گئی ہیں۔ جو ڈاکٹر موجود نہیں تھے ان سے اب او پی ڈی میں ملاقات ہوگی ۔ ایک اسی سالہ بزرگ مریض کو بار بار ہسپتال لیجانا کتنا آسان ہے آپ سب بھی جانتے ہیں۔ شفاء لوکل ہسپتال کی موجودہ انتظامیہ کو فورا توجہ دینی ہوگی ورنہ یہ ٹائٹینک جہاز بھی ڈوب جائے گا۔ یہ گارڈز رکھنے سے نہیں ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف رکھنے سے اپنے معیار کو شاید بحال کرلے۔ ورنہ گیا وقت کبھی واپس نہیں آیا ۔
مجھے دکھ ہے ایک انٹرنیشنل ہسپتال کو بڑی محنت سے لوکل ہسپتال بنا دیا گیا۔ افسوس صد افسوس۔ لاکھوں کا بل اور ٹکے کا علاج نہیں۔
سارے ٹیسٹ اور رپورٹس ہسپتال کے ریکارڈ میں ہیں تاکہ مریض کسی دوسرے ہسپتال میں بھی چیک اپ نہ کرواسکے۔

Prev پانچ منٹ
Next یار فکر نہ کر

Comments are closed.