مومل دی ماڑی

مومل دی ماڑی

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ

ڈھیرکی ایک بہترین شہر ھے جو پاکستان کی کھاد کی ضروریات کو پورا کرتا ھے یہاں اینگروفرٹیلائزر،فوجی فرٹیلائزر،فاطمہ فرٹیلائزر کی کھاد فیکٹریاں اور ان کو گیس ماڑی پیٹرولئم دیتا ھے جب 1957 میں گیس دریافت ھوئی تو پتہ چلا کہ اس گیس کو آگ نہیں لگتی کیونکہ اس کا بی ٹی یو برٹش تھرمل یونٹ 650 ھے جب اس گیس کو بین الاقوامی لیبارٹریوں سے چیک کرایا گیا تو پتہ چلا یہ تو کھاد بنانے میں استعمال ھوتی ھے میرے اللہ کو پتہ تھا ایک وقت میں انسانوں کو کھاد کی ضرورت پڑے گی اس نے پہلے سی ھی سب انتظامات کیئے ھوئے تھے سبحان اللہ۔
یوں پاکستانی کھاد کی 85% گیس کی ضرورت ماڑی پیٹرولیم ڈھیرکی سے پوری کرتا ھے باقی جگہوں سے جو گیس نکلتی ھے اسکا بی ٹی یو 950 سے 1350 تک ھوتا ھے جو گھریلو اور انڈسٹریل استعمال میں آتی ھے ڈھیرکی ساتھ ھی ڑھڑکی ھے جہاں پر ھندووں کی عبادت گاھیں ھیں اور دنیا بھر سے ھندوں یہاں پر آتے ھیں بہت اچھا انتظام ھے رھائش اور دیگر ضروریات کا جب زائرین آتے تھے تو انکو لوٹ لیا جاتا تھا اس کیلئے وھاں تقریبا آدھا کلومیٹر کا ایک پل بنایا گیا ھے جو ان کے سفر کو محفوظ بناتا ھے۔وھاں پر وہ آپ کو خوش آمدید کہتے ھیں فوٹوگرافی کریں یا فینٹم اڑائیں کوئی پاپندی نہیں ھے اگر آپ جوتے اتار کر رکھ جائیں تو چوری بھی نہیں ھوتے واش روم صاف ستھرے ھیں جوتے اتارنے والی جگہ پر کرسیاں رکھی ھوئی ھیں جو کافی بڑی سہولت ھے 
میرپور ماتھیلو سے آگے مومل دی ماڑی گاوں آتا ھے جو مومل شہزادی کے رانا سے عشق کی داستان کے حوالے سے مشہور ھے جو تقریبا 5000 سال پرانی ھے جو وھاں کے مقامی لوگ بتاتے ھیں مومل کے والد ایک دن ایک ایسے جانور کو دیکھتا ھے جس جگہ وہ پانی پینے لگتا ھے پانی ھٹ جاتا ھے اسنے جانور کو ماردیا اور اس کے جسم کے مختلف حصے پانی کے پاس لیکر جاتا جب دانت لیکر گیا تو پانی ھٹ گیا اس نے اپنے گلے میں ھار بناکر وہ دانت پہن لیا اور دریا میں اترتا اور راستہ خشک ھوجاتا اور مختلف جگہوں پر خزانہ چپھاتا رھا ایک دن ایک فقیر آیا اس نے شہزادی سے مدد مانگی شہزادی اس کو جو بھی دیتی وہ واپس کر دیتا شہزادی نے کہا کیا چاھیئے اس نے کہا دانت والا ھار شہزادی گئی اور لاکر دے دیا بادشاہ شام کو واپس ایا تو ھار غائب تھا بہت ڈھونڈتا رھا آخر شہزادی نے بتا دیا وہ تو فقیر کو دے دیا بادشاہ بہت ناراض ھوا ساری دولت چلی گئی شہزادی نے کہا آپ فکر نہ کریں میں اس سے زیادہ دولت لاکر دونگی اور شہزادی نے ایک بھل بھولیاں بنوائی اور مختلف شرطیں رکھیں جو ان پر پورا اترےگا اس سے شادی کروں گی مختلف لوگ آئے لیکن ھار گئے انخا خزانہ مومل نے رکھ لیا۔ لیکن جب رانا آیا تو وہ تمام شرائط پوری کر گیا اور اب اکثر رانا شہزادی سے ملنے ایک تیز رفتار اونٹ پر آتا تھا ایک دن اس کاپہلے والا سالا اس اونٹ کو ھلاک کر دیتا ھے اب رانا بہت پریشان ھوتا ھے کیسے جاوں اخر وہ پھر ایک تیز رفتار اونٹ لے آتا ھے جو اسی اونٹ کا بچہ ھوتا ھے وہ جب جاتا ھے تو کیا دیکھتا ھے مومل کے ساتھ ایک مرد سویا ھویا ھے وہ اپنی لاٹھی ان کے سرھانے رکھ کر واپس آجاتا ھے
مومل اٹھتی ھے تو بہت پریشان ھوتی ھے رانا آیا تھا وہ دوسرا شخص تو اس کی بہن تھی جس نے مومل کی اداسی دور کرنے کے لئے رانا کا روپ بدلا تھا مومل مردانہ لباس میں رانا پاس جاتی ھے رانا اسکے ھاتھ کے نشان سے پہچان جاتا ھے اور اس کو بے وفا کہتا ھے تو وہ سب بتا دیتی ھے مومل واپس آتی ھے رانا اس نئے تیز رفتار اونٹ سے گر کر ھلاک ھوجاتا ھے اور اس جگہ کا نام مومل دی ماڑی پڑ جاتا ھے
مومل دی ماڑی سے ایک کلومیٹر دور سلطان علاؤالدین خلجی کا خستہ حال مزار ھے جو حکومت سندھ کی توجہ کا منتظر ھے اور اللہ کے نیک بندوں نے اس پر چندے والی صندوقچی بھی رکھ دی ھے وھاں سے چلا جگہ جگہ گندم کی کٹائی ھو رھی تھی یو اس طرح چلتے چلتے سکھر آگئے ریلوے پل کی تصاویر بنائیں اور کھجور مارکیٹ پہنچ گئے دوست احباب کھجوریں لیتے رھے اور میں سبزی مارکیٹ کی تصویں بناتا رھا میں نے اس سے پہلے اتنی خوبصورت پھل اور سبزی کی منڈی نہیں دیکھی ھر چیز خوبصورت صاف ستھری۔
بہترین لوگ شریف اور اچھے ۔
اب جہاز میں بیٹھا اسلام آباد جارھاھوں سفر کی تھکان ھے اور ھزاروں تصاویر کا مزا 
شکر الحمداللہ پنجاب اور سند کا سفر مکمل ھوا اب بلوچستان کی باری ھے انشااللہ جلد نکلتا ھوں

Prev دھشت گرد
Next پنجاب اور سندھ کی فوٹوگرافی

Comments are closed.