اسلام و علیکم 

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ
کچھ دن پہلے گاوں جانے کا اتفاق ھوا تو,میاں عبدالروف بھائی نے حکم کیا کہ جاتے ھوئے دی سٹیٹ سکول فرید ٹاون ڈجکوٹ موڑ کو ضرور دیکھیں ذھن میں وھی گاوں کے پرائیویٹ سکول کا منظر گھوم گیا سوچا وقت کا ضیاع ھی ھوگا جب عبدالقیوم بھائی مرحوم کے گھر سے نکلنے لگے تو عبدالروف بھائی بھی اپنی گاڑی پر ساتھ ھولیئے اب سکول کا دیکھنا لازم تھا بڑے بھائی جو ساتھ تھے ھم فرید ٹاون میں داخل ھوئے تو ایک زبردست سکول کی عمارت ھمارے سامنے کھڑی تھی مجھے ایک دھچکا لگا سیکورٹی گارڈ ,انٹرکام, سیکورٹی کیمرے,بند گیٹ اور چھت پر آویزاں دی سٹیٹ سکول ایک اچھا تاثر تھا میں گاڑی سے اترا بیوی کو کہا آپ بیٹھیں میں فورا سکول دیکھ کر واپس آیا اور بھائی عبدالروف کی آواز اظہر صاحب بھابھی کو بھی ساتھ لے آئیں,جی اچھا اور ھم دونوں بھائی کے ساتھ ھو لیے, پہلا قدم ھی بہت زبردست تھا جس سے میں متاثر ھوا سکول کا مالک سیکورٹی کے عملے سے درخواست کر رھا ھے پرنسپل صاحبہ کو بتائیں,ھم نے سکول دیکھنا ھے اگر وہ اجازت دیں تو اندر سے اجازت مل گئی اور یوں ھم سکول میں داخل ھوگئے,پرنسپل آفس میں ھمیں بیٹھا دیا گیا اور دفتر عام دفاتر سے مختلف کھلا ھوادار اور اچھا سجا ھوا تھا پرنسپل صاحبہ تشریف لائیں صاف ستھری پڑھی لکھی مسکراتی ھوئی خاتون بے شک پرنسپل کا چناو درست تھا عبدالروف بھائی نے تعارف کرایا یہ میرے چھوٹے بھائی ھیں اور پرنسپل صاحبہ بول پڑھی فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ جی میں انکی تحریروں کو باقاعدگی سے پڑھتی ھوں اور پھر میری بیگم کا تعارف ھوا اور وہ چائے وغیرہ کے تکلفات میں پڑنا چاھتی تھی وقت کم تھا درخواست کی سکول دیکھنا ھے جی اچھا ,
پوچھا میم آپکی تعلیم کہنے لگی پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز ھے اور باھر سے ڈپلومہ کیا ھے,اور ھم سکول دیکھنے نکل پڑے پہلا کمرہ پرنسپل نے دروازہ کھٹکھٹایا اندر آنے کی آواز اور ھم کلاس میں داخل ھوئے ایک بلند آواز آئی سب بچوں کی اسلام و علیکم اینڈ گڈ آفٹر نون جواب میں ھم نے وعلیکم سلام کہا اور یہ کیا ائیر کنڈیشنڈ کلاس روم, اور فرنیچر ماحول ایسا جیسے اسلام آباد کا کوئی پرائیویٹ سکول ھو ,منظر ناقابل یقین تھا,دل واہ واہ کر اٹھا لیکن داد دینے کا سوچا لیکن رک گیا پورا سکول دیکھ کر بات ھو گی کوئی 300 بچے بچیاں زیر تعلیم ھیں داخلے کا مکمل طریقہ کار ھے سکول کیمبرج سے منسلک ھے اور قرآن مجید بچے پڑھتے ھیں اور لکھ لکھ کر سمجھ کر پڑھتے ھیں ,اگلی کلاس, لائبریری ,گراونڈ,کمپیوٹر لیب,سائینس لیب,واش روم,سکول کی عمارت کی توسیع جاری, واہ واہ عبدالروف بھائی کیا کردیا آپ نے گاوں کے لیے میری آنکھیں نم تھیں اور میں سوچ,رھا تھا عبدالروف بھائی نے اپنے علاقے کا حق ادا کردیا تمام استاد باقاعدہ تربیت یافتہ ھر چیز مکمل جنریٹر سب کچھ تھا وھاں بات شروع ھو ئی تھی اسلام وعلیکم سے میرے سکول نے مجھے سکھایا سب کو سلام کرتے ھیں اور میں ھمیشہ ھی کرتا ھوں ھماری گلی سے ایک انکل گزرتے تھے مسجد جانے کیلئے, انکا نام انکل مبشر تھا جو بعدمیں پتہ چلا,
جب بھی وہ گلی سے گزرتے میں انکو سلام کرتا تھا, این سی اے میں پڑھتا تھا چھٹیوں میں گھر آیا سکلپچر کچھ بنانا چاھتا تھا پر مٹی نہیں تھی پوچھتا پوچھاتا کاغان برکس چک شہزاد پہنچ گیا عرض کیا کچھ مٹی چاھیے تو متعلقہ آفیسر نے کہا اس کی اجازت نہیں کوئی طریقہ بتا دیں کہنے لگے ایم ڈی صاحب سے بات کرلیں شاید اجازت مل جائے جی اچھا اور ایک پرچی اندر بھجوائی محمد اظہر حفیظ اور انھوں نے بلا لیا اندر گیا تو کیا دیکھتا ھوں وھی گلی والے انکل اسلام و علیکم انکل وہ.مسکرائے مجھے گلے لگایا بیٹا آپکی تربیت بہت اچھی ھے سب کو سلام کرنا شکریہ انکل چائے پلائی بیٹے کیسے آنا ھوا جی انکل این سی اے کا طالبعلم ھوں کچھ مٹی چاھیے تھی بیٹا اسکی اجازت نہیں لیکن آپکو میں انکار نہیں کر سکتا گھنٹی بجائی اور حکم کیا سپروائزر صاحب کو بلائیں جی سر بھی ایک بورا مٹی کا بھجوانا ھے انکے گھر اسکا بل.مجھے چارج کر لیں انکل میرے پاس پیسے ھیں نہیں بیٹے مجھے بہت اچھا لگتا ھے جب آپ اتنے احترام سے سلام کرتے ھو یہ میری طرف سے تحفہ ھے شکریہ انکل اس دن مجھے سلام کرنے کا فائدہ سمجھ آیا اور جب سوشل میڈیا آیا تو جو بھی ھائے لکھتا ھے میں انکو اسلام و علیکم کہتا ھوں اور درخواست کرتا ھوں اسلام و علیکم سے بات شروع کریں اگر پھر بھی وہ ھائے ھائے ھی کرتا تھے تو ان فرینڈ کر دیتا ھوں اس طرح کافی دوست احباب سے جان خلاصی ھو ئی,ایک صاحب کو بار بار سمجھانے پر بھی ھائے ھائے جاری تھا تو ان سے معافی مانگ لی ایک محفل تھی جرمن فوٹوگرافر کے اعزاز میں وھاں وہ دوست تشریف فرما تھے بلند آواز میں کہنے لگے وقت کا فرعون آ گیا جو انکو جھک کر سلام نہ کرے یہ اسکی بات کا جواب نہیں دیتے آپ انکو فوٹوگرافی کا فرعون کہہ سکتے ھیں آواز مجھ تک آئی پرواہ نہیں کی بس بلند آواز میں اسلام و علیکم کہا اور بیٹھ گیا مجھے امید ھے دی سٹیٹ سکول کے بچے اپنی اسلام و علیکم کی عادت کو پختہ کریں گے اور انکی شخصیت میں مزید نکھار آئے گا اور زندگی کے راستے انکے لیے آسان ھوتے جائیں گے انشاء اللہ

Prev زندگی گزارتا میرا ھمزاد
Next میری طاقت

Comments are closed.