امی جی 

امی جی
تحریر محمد اظہر حفیظ

امی جی کو ھم سے بچھڑے چھ سال ھوگئے اکثر یاد آتی رھتی ھیں لیکن منگل کو، گھٹنے اور ٹانگ میں شدید درد نے امی جی کو شدید یاد کرایا اور میں ھائے امی ھائے امی جی کہہ کر گزارا کرتا رھا ،اس جملے میں اتنا سکون ھے تو ماں کی گود اور ماتھے پر ھاتھ پھیر کر پوچھنا اظہر میرے لال کیا بات ھے، طبعیت ٹھیک ھے، شاید امی جی حیات، ھوتیں تو، میں روپڑتالیکن پتہ یہ چلا جن کے والدین نہیں ھوتے وہ کھل کر رو بھی نہیں سکتے اور روناروک کر بہادر بنتے ھیں، شاید ماں باپ کے مرنے پر ھی سارا رو لیتے ھیں لیکن میں تو ضبط ھی کرتا رھا شعیب بھٹہ صاحب نے مجھے ایک دفعہ کہا تھا میاں صاحب مرد روتا ھوا اچھا نہیں لگتا، اس کے بعد میں مرد، بننے کی کوشش کرتا ھوں بیٹا اور وہ بھی چھوٹا بیٹا نہیں بن پاتا، اور روتا نہیں،
مجھے لوگ بہت ھنس، مکھ سمجھتے ھیں لیکن شاید دنیا میں میرے جتنا رونے والا، کوئی ھی ھو، بات بات پے رو دیتا ھوں،
رونے میں اللہ کے سوا کسی کو شریک نہیں کرتا اور میں روتا ھوں اور، وہ دیکھتا ھے،
بس، گزارا ھو، جاتا، ھے، میری ماں مجھے اکثر کہتیں تھی محمد اظہر حفیظ، اللہ تجھے بڑا، آدمی بنادے میں رو، دیتا ماں جی مجھے اللہ نے بہن بھائیوں میں بھی چھوٹا پیدا کیا ھے مجھے چھوٹا ھی رھنے دیں تو وہ بھی رو دیتیں، اور پھر ھم چپ ھوجاتے اکثر مجھے بیٹھ کر بتاتیں ھندوستان کی زندگی پھر پاکستان ھجرت پھر بہن بھائیوں کے دکھ اور جب بھی میں کوئی میڈل یا، کپ لاتا، تو پھر رونے لگ جاتیں امی جی یہ بھی کوئی رونے والی بات ھے بیٹا یہ خوشی کے آنسو ھیں اللہ نظر بد، سے بچائے امین اور میرے لیے دعا کرتی فجر کے بعد، پانی دم کرکے پلاتیں اور بہت سی بلائیں ٹل جاتیں، اکثر، کہتیں تیرے سب کام اچھے ھیں بس نماز باقاعدگی سے شروع، کردے اور میں جی اچھا امی جی کہہ کر اٹھ جاتا کبھی مجھ سے تنگ پڑھتی تو، کہتیں تیرے لیے دعا کر کر میرے دانت نکل گئے پر تجھ پر اثر نہ ھوا تجھے پتہ ھے محمد اظہر حفیظ میری جب خانہ کعبہ پر میری پہلی نظر پڑی تو میں نے اللہ سے دعا کی میرے لال کو نمازی بنا دے،
میرا لال نماز پڑھا کر جی اچھا امی جی،
بیٹا جب پاکستان آگئے تو، بہت بارشیں ھوئیں اور اکثر، ھمارے گھر سانپ آجاتے اور تمھاری خالہ رضیہ بہت بہادر، ھے اور وہ فورا اس کو مار دیتی بیٹا تیری خالہ جتنی بہادر ھے اس نے اتنے ھی دکھ دیکھے جوانی میں بیوہ ھوگئی اور اس نے اپنے بچے بہت مشکل سے پالے زندگی کچھ آسان ھوئی تو انکا داماد فوت ہوگیا پھر انکی بہو فوت ھوگئ بہت مشکل زندگی گزاری تیری خالہ نے اور رونے لگ جاتیں میں بھی ساتھ ھی رونا شروع، ھوجاتا کہتیں تم کیوں روتے ھو میں کہتا ماں جی اگر ماں بچے کو روتا نہیں دیکھ سکتی تو، بیٹا، کیسے دیکھ سکتا، ھے تو، روتے روتے مسکرا دیتیں ،
میری ساری یادیں رونے اور مسکراھٹیں میری امی جی سے وابستہ ھیں
اب مجھے کوئی کتنی تکلیف دے مجھے محسوس نہیں ھوتی چپ رھتا ھوں کیونکہ ماں باپ کے جانے کے بعد، بہت سی تکلیفیں محسوس نہیں ھوتیں اور اب میں بڑا آدمی بھی نہیں بننا چاھتا سات ماہ سے کوئی ایک شخص میری ترقی کا خط روک کر بیٹھا اور سمجھتا ھے مجھے اذیت دے رھا ھے لیکن اس کو اندازا نہیں میں اب ترقی نہیں کرنا چاھتا کرکے کس، کو دکھانی ھے، میں جس حال میں ھوں خوش ھوں میرے عزیز ترین دوست شکیل اعوان کے والد، کی وفات کے کچھ دن بعد والدہ کا بھی انتقال ھو گیا والدہ کو دفنا کر قبرستان میں ھی کھڑے تھے کہنے لگے بھائی جان جو، جو تنگ کرتا ھے لسٹ بنا لیں پھینٹی لگاتے ھیں میں بولا بھائی جی وہ کیوں کہنے لگا پہلے ماں باپ کے ڈر سے لڑتے نہیں تھے اب لڑیں گے تو شکایت کس سے لگائے گا کوئی ،نہ آپ کے ماں باپ رھے نہ میرے باقی زندگی حساب برابر کرتے ھیں اور گلے لگ کر ھم دونوں بھی رو دیئے کیوں کہ ھمارے ماں باپ نے یہ ھمیں سکھایا ھی نہیں اور ھمیں تو معاف، کرنا سکھایا ھے اور معاف کری جارھے ھیں سچ ھے بھائی جائیں معاف کیا سب کو ماں باپ کے صدقے اور معاف کردیا، میری چار بیٹیاں ھیں الحمدللہ جب بھی میری آنکھوں میں آنسو دیکھتی ھیں رو پڑتی ھیں بابا کیا بات ھے کیوں رو رھے ھیں کیسے سمجھاؤں ماں باپ کے وچھوڑے کا دکھ اللہ سب کی اولاد کو اس دکھ سے محفوظ رکھیں امین جن کے والدین اللہ پاس چلے گئے انکی بخشش کریں اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کریں امین، جن کے والدین حیات ھیں اللہ صحت تندرستی کے ساتھ سلامت رکھیں ایمان والی زندگی دیں امین ھمیں اپنے والدین کی طرح کے اچھے والدین بننے کی توفیق دیں امین

Prev ستمبر
Next تبدیلی 

Comments are closed.