بابے

بابے
مجھے بچپن سے ھی بابے اچھے لگتے تھے میں اپنے ھم عمروں کے ساتھ کم اور بابوں کے ساتھ زیادہ بیٹھتا تھا مجھے یاد ھے گاؤں میں چاچا لوھار کے پاس بیٹھ کر اس کی بہادری کے قصے سنتا, تھا کہ کیسے اس نے سکھوں کے سر کاٹ کاٹ کر پھینکے اور کیسے اس نے عورتوں کو ہندوؤں سے محفوظ رکھا میں روزانہ اس کی بہادری اور شجاعت کے قصّے سننے جاتا اسی دوران میرے بڑے تایا جی تایا جی منیر کی ٹانگ پر چوٹ لگ گئ اور وہ لاہور سے گاؤں تشریف لے آئے اوروہ ھر وقت چارپائی پر بیٹھ کر مولانا مودودی صاحب کی تحریر کردہ قرآن کی تفسیر پڑھتے رہتے میں ان سے ڈرتا بھی بہت تھا اور نزدیک بھی جانا چاہتا تھا کہ یہ جان سکوں یہ تفسیر ھوتی کیا ھے کیا لکھا ھے اس میں, ایک دن کہنے لگے ادھر آؤ ابا جی تمھارے یہاں نہیں ھوتے وہ روالپنڈی ھوتے ھیں تم روز شام کو کہاں جاتے ھو کاکا آوارہ نہ ھو جانا, نہیں تایا جی میں توچاچا مستری برکت علی لوھار کی بہادری کی باتیں سننے جاتا ھوں , تایا جی وہ چھوٹے قد کا انسان ھے پر ھے بہت بہادر ابھی بھی لوہا گرم کر کے دراتری اور کئی اوزار بناتا ھے تلوار بھی بنا سکتا ھے اور اس نے اپنی تلوار سے کئی سو سکھ اور ہندو مارے ھیں, تایا مسکرائے باؤ تو کیڑے برکت علی دی گل کردا ایں, برکت علی لوھار یا صوفی برکت علی تایا جی چاچا لوھار, اچھا اچھا او کدھوں بہادر ھویا او تے ساڈے نال ھی ٹرک دے وچ جالندھر تو پاکستان آیا سی سارا راستہ ٹرک دے وچ ایک چارپائی تھلے چھپیا رھیا اس نے کب مارا ہندو اور سکھوں کو وہ تو باھر ھی نہیں نکلا, اس دن سے چاچا مستری ھماری کتاب سے خارج ھوا اور اب تایا جی کے ساتھ میرے تعلقات بہتر ھونا شروع ھوئے اور وہ میرے بابا جی بن گئے , انکے پاس بہت علم تھا دینی بھی اور دنیاوی بھی میں انکی ٹانگیں دبا دیتا اور وہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نئی کہانی سنا دیتے,
لالچی تے مغرورجوں,
ایک دن ایک جوں جوکہ بڑے بڑے انسانوں کا خون پیتی تھ نے سوچا کیوں نہ میں پوری دنیا کو کھا پی جاؤں پہلے اس نے کچھ جانور کھاے گائے کو کھا لیا بکری کو کھا لیا آگے اس کے ایک دریا آیا وہ اس کا سارا پانی پی گئ میں سانس روکے خوفزدہ بھی تھا پوچھا تایا سارا پانی تایا جی ھور کی دریا تے فر خشک ھی ھوگیا ھونا اچھا اگے سن جی تایا جی اسدا پیٹ ھن وڈا ھوندا جارھیا سی اوئے ھوئے تایا جی کننا وڈا یار ایک گائے ایک بکری ایک دریا اسدے پیٹ وچ سی تو آپی سوچ جی تایاجی او چلدی جارھی سی جو چیز بھی آتی تھی وہ سب کھا جاتی چلتے چلتے آگے ایک کیکر کا درخت آگیا اس نے کہا جوں سائیڈ سے ھو کر گزر, جا جوں بولی تجھے کھا جاؤں گی زیادہ بات نہ کر تایا جی جوں کو منع کریں کیکر, کو, نہ کھائے اس کی پھلیاں کھانے میں میٹھی لگتی ھیں پر بعد میں پیٹ میں درد بہت ھوتا, ھے اظہر تو کھادیاں کدی کیکر دیاں پھلیاں جی تایا جی ساڈے سکولے بہت نے پر پھر پیٹ میں درد, بہت ھوتا ھے خاص طور پر اگر ساتھ پانی پی لیا جائے اور جوں نے تو, پورا دریا پیا ھوا ھے یار کہانی تے پوری سن لے جوں آگے بڑی کیکر کے درخت کو, کھانے اور ایک کانٹا اسکے پیٹ میں لگ گیا بس پھر کیا تھا جوں کا موٹا پیٹ پھٹ گیا اور سب کھایا, پیا باھر, آگیا اور اس گاؤں میں سیلاب آگیا اتنا پانی اور چیزیں نکلی اسکے پیٹ سے, لوگ حیران رھ گئے اب تو, میں روز تایا جی کی خدمت کرتا اور تایا جی مجھے کہانیاں سناتے اتنے میں تائی جی کی آواز آتی اظہر اقبال تیری امی سددی اے دس آادھر بیٹھا ایں جی تائی جی,
میں امی کو بتا کر پھر تایا جی پاس آجاتا,
تایا جی کوئی گل سنا, کی سناواں کاکا کلمے سنا میں سنا دیتا, کاکا نماز سنا, پنڈی گیا سی کی ویکھیا تایا جی دو دریا آئے راہ وچ چناب تے جہلم اچھا تے ھور تایا شکرپڑیاں ویکھیاں اوتھے فلماں بندیاں نے تے مختلف ملکوں دے صدر پودے وی لاندے نے اوتھے نہ ایک بندا پھٹے تے غبارے لاکے بیٹھا سی تے نشانے لواندا اے کاکا تو لائے سن جی تایا جی بڑے غبارے پھاڑے پر فوجی نہیں ڈگیا میرے کولوں, او کتھے سے اسی پھٹے تے تایا جی پلاسٹک دا فوجی سی چھرا وجیا انوں پر کوئی بے ایمانی سی اس وچ چھرا لگ کے وی کھلوتا رھیا اچھا میں حفیظ نوں سمجھاؤں گا بچیاں دا کی کم چھرے دے نال کھیلن دا کاکا دوبارہ نہ چلائیں جی تایا جی تایا اس نہ چاچا قادر اے نا ابا جی دا ڈرائیور اس نال دامن کوہ وی گئے سی بڑی اوچی جگہ سی بڑا مزا آیا اوتھوں اسلام آباد دیکھندا اچھا توں ھن کیڑی کلاس وچ ایں جی چوتھی وچ جدوں پاکستان بنیا ناں تیرے ابو جی وی چوتھی وچ سن بالکل تیرے جیڈے تائی پر تو اظہر اقبال اپنے نانا جی تے آں اسی طرح کمزور جیا, تایا جی دادا جی دی کوئی گل سناؤ کاکا او فوج نوں گتکا سکھاندے سن لاٹھی نال کسطرح اپنا دفاع کری دا بہت بہادر سن پر انناں دیاں لاتاں آخری عمرے انناں دی نہی مندیاں سن ڈیگ پیندے سن لاٹھیاں جو بہت وجدیاں سن کھیلدے تے سکھاندیاں ھوئیاں میاں غلام نبی بڑا بہادر بندہ سی پورے جالندھر, وچ ناں سی انناں دا,

Prev خوردپین کی برفانی دراڑیں 
Next فیری میڈوز

Comments are closed.