خوردپین کی برفانی دراڑیں 

خوردپین کی برفانی دراڑیں

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ

خوردپین پاس کی جادوئی برفانی دراڑیں دلوں میں دراڑیں ڈال دیتی ھیں سنا تھا دیکھ بھی لیا، کچھ نا سمجھ دوست دوست کھو رھے ھیں اور دراڑیں بچا رھے ھیں، مجھے سمجھ نہیں آرھی یہ کس منہ سے دوبارہ پہاڑوں کے پاس جائیں گے کہ ھم صاف دل لوگ جن کے دل پہاڑوں سے نکلتے چشموں کی طرح صاف تھے اب کینہ بغض اور انا سے پلیت ھو چکے ھیں آپ سب کو اللہ کا واسطہ جب تک دل صاف نہیں ھو جاتے ان صاف شفاف جگہوں کا رخ مت کیجئے گا، قدرت کو پسند کرنے والا اور قدرت سے محبت کرنے والا اتنا تنگ دل اور تنگ دماغ کیسے ھو سکتا ھے اللہ کا شکر ھے میں ٹریکر نہیں ھوں ورنہ اتنی نفرت سے شائد میرا دم گھٹ جاتا، سب دوستوں سے درخواست کی منت کی اس بکواس کو بند کر دیں لیکن کوئی اثر نہیں ھوا اب کوئی یہ بتائے رب باری تعالیٰ کے پہاڑ ھیں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں تو لڑائی کیسی،
ھر بندہ اپنے کام پر توجہ دے اور لڑائی جھگڑے سے دور رھے، شائد پہاڑوں کو سر کرنے کے لیے کچھ زنانہ صفات کا ھونا ضروری ھے کیونکہ لوگ ایسے لڑ رھے ھیں جیسے گاؤں میں عورتیں لڑتی ھیں،
میں تو ایک کاھل آدمی ھوں کبھی ڈی گراونڈ پیپلز کالونی فیصل آباد میں تعمیر شدہ مٹی کا تودہ یا پہاڑ، پر آج تک نہیں چڑھ سکا پہاڑ کیا چرھنے لیکن شکر الحمدللہ میں ٹریکر نہیں ھوں ورنہ آپ لوگوں کی تنگ نظری دیکھ کر زندہ نہ رہ پاتا،
میرا خیال تھا شاید پہاڑوں پر چڑھنے والوں کے دل پہاڑوں کے دامن کی طرح کشادہ ھوتے ھیں لیکن میں شائد غلطی پر، تھا لائلپور کے دو گروپس جس طرح لڑ رھے ھیں انکو چائے دنگل سیکیں یہ ٹریکنگ انکے بس کا کام نہیں،
ٹریکنگ میں شائد اتنا نقصان ان جاھلوں نے نہیں پہنچایا جنہوں نے نانگا پربت بیس کیمپ پر کچھ کوہ پیما قتل کر دیے تھے جتنا ھمارے لڑاکے دوست سوشل میڈیا پر پہاڑوں کی عصمت دری کر رھے ھیں
یہ سب وہ ھیں جنہوں نے کے ٹو صرف کےٹو، سیگریٹ کی ڈبی پر دیکھا ھے میری طرح اور کہانیاں ھر پہاڑ کی، میری زبان یقینن سخت ھو رھی ھے اسکی وجہ ان دوستوں کی نہ رکنے والی بدتمیز، پوسٹس ھیں،
جن دوستوں کو میں جانتا تھا ان سے خود درخواست کی اور بغیر کچھ کیے معافی بھی مانگی کہ یہ کام روک دیں، اور شکریہ بھی ادا کیا،
لیکن نا سمجھ دوست آگ لگائی جارھے ھیں اب درخواست یہ ھے اس سلسلے کو روکنا مت ایک دوسرے کے گھر پر فائرنگ کرو، شہر میں پوسٹر لگاو، ٹی وی چینلز پر اشتہار چلاو لیکن اب میرے ملک کے کسی پہاڑ کا نام اپنی گندی لڑائی میں مت شامل کریں، میں حیران ھوں اتنے تنگ نظر اور کم ظرف لوگوں کو پہاڑ کیسے اپنے اوپر پاؤں رکھنے دیتا ھے یہ مضموں صرف فیصل آباد، کے گروپس کے لیے ھے سینئر ٹریکرز سے معذرت کے ساتھ انکا اس تحریر سے کوئی تعلق نہیں،
مجھے آب سمجھ آرھی ھے فیصل آباد کی زمین سیم اور تھور کا شکار کیوں ھے پانی نمکین کیوں ھے شکر ھے میرا تعلق لائلپور سے ھے جو ھنس مکھ ھنسنے ھنسانے والوں کا، شہر تھا جگت جہاں پیدا، ھوتی تھی میں ان کے شہر کا نہیں جو طعنے اور گالی گلوچ پیدا کرتا ھے

Prev محافظ
Next بابے

Comments are closed.