اباجی کے بغیر ایک سال

تحریر محمد اظہر حفیظ

آج گیارہ اکتوبر میرے اباجی کی پہلی برسی ھے ,سب سے دعا کی درخواست ھے, اللہ سب والدین کے لیے بہت سی آسانیاں کریں امین, میری ساری عمر محبت امی جی سے رھی لیکن مس میں نے ابا جی کو بہت کیا, امی جی کی وفات کے بعد کبھی محسوس ھی نہیں ھوا کہہ امی فوت ھو گئی ھیں ابا جی نے دونوں ذمہ داریاں بہت احسن طریقے سے نبھائیں , امی ھمیشہ محبت کا سمندر رھیں اور ابا جی رعب دبدبہ کا ایک پہاڑ, لیکن امی جی کی وفات کے بعد ابا جی کو دونوں کا مجموعہ پایا, جملے ھی بدل گئے تھے, یار تینوں کننی واری سمجھایا جلدی گھر آیا کر, یار حالات ٹھیک نہیں, مینوں نیند نہیں آندی, یار بیٹیاں نال نہیں رسی دا, چل اس نال صلح کر لے, معاف کردے میری من لے, جس دن ابا جی فوت ھوئے اصل میں اسی دن محسوس ھوا کہہ ھماری امی جی بھی دنیا میں نہیں رھیں, میرے ابا جی کی وفات کے بعد میرے سب سے قریبی دوست نے مجھے ایک دن شکوہ کیا آپ بہت بدل گئے ھیں, میں صاف مکر گیا, اسے کیا بتاتا میرا سب کچھ ھی بدل گیا ھے, میری ذمہ داریاں میری وفاداریاں سب کچھ,
کل عشاء کی نماز بہت دنوں بعد پڑھی نہیں چاھتا تھا کسی کو پتہ چلے سفید بالوں والے بھی روتے ھیں ماں باپ کو یاد کر کے,
میں میں نہیں رھا, اللہ کی قسم نہیں رھا مجھے اب پتہ چلا یتیم اور مسکین کیا ھوتے ھیں انکی زندگی کچھ نہیں ھوتی,
بہت دفعہ آواز بھر آتی ھے جذبات قابو میں نہیں رھتے لیکن کس کو بتاؤں ھوا کیا ھے جن کو بتاتا تھا وہ ھی کھو گئے ھیں,
ابا جی میری سب کی ذمہ داریاں میرے ذمہ لگا کر گئے میں سب سے چھوٹا بیٹا ھوں بڑے بھائی سے کچھ نہیں کہا, مجھے بتایا بہن کا کیسے خیال رکھنا ھے, اس کے بچے کیسے پڑھیں گے بھائی کا خیال رکھنا, دونوں چچا کا خیال رکھنا انکے بچوں کی نوکریاں پھوپھو کا خیال تایا کے بچوں کا خیال, روتے ھوئے ایک دن کہنے لگے یار تینوں نئی پتہ میرا طاھرہ اور طلعت نال کننا پیار اے (میری تایازاد بہنیں ) او راولپنڈی آئیاں تے مینوں ملے بغیر کس طرح چلیاں گییاں, جی کوئی مجبوری ھونی, یار کیسی مجبوری مینوں نئ ملیاں, چل کوئی گل نئ زمانے او نہیں رھے سب دا خیال کریں, ظفر دے منڈیاں دا ویاہ اے اسدا خیال رکھیں, جی ابا جی, یار ملک فیض صاحب حج تے نے اوتھے حادثہ ھوگیا اننا دا پتہ کرو , یار مسجد وچ, اعلان کروا دیتا کس چیز دا ابا جی میت دا ھور کس چیز دا, یار اتفاق نال رھنا, یار نماز پڑھیا کر, اننے کیمرے کی کرنے نے, گل سن اننے کیمرے دے بیگ تے کسے دوکان وچ وی نہیں ھونے کجھ اپنیاں بیٹاں دا سوچیا کر, فضول خرچی نہ کریا کر, تہاڈی امی جی دی برسی اے کی پروگرام اے جو حکم ابا جی, یار او اڈیکدے ھون گے کننے دن ھو گئے قبرستان نہیں گئے, ابا جی تہاڈی طبیعت ٹھیک نہیں یار تہاڈی تے ٹھیک اے تسی ھو آؤ,
مدرسے کھانا بھجوا دینا اننا نو دس آو او اپنا نا بنا لین جی اچھا, یار کوئی گل من وی لیا کر جی اچھا کی جواب ھویا,
یار تیری گڈی بڑی ودھیا اے, یار تیری بیوی توں میں بڑا خوش آں میرا بہت خیال رکھدی اے دھیاں نالوں ودھکے,
میری شروع سے عادت ھے جب بھی اپنے لیے کچھ لینا تو ابا جی کے لیے بھی لے لینا, کپڑے, جرابیں, بنیانیں, ٹوتھ برش اب بھی جب کچھ خریدتا ھوں ساتھ ھی انکی بھی خرید لیتا ھوں اکثر پھر پتہ نہیں کیوں بھرے بازار میں کھڑا رو پڑتا ھوں,

 

 

 

Prev فوٹوگرافرز کے جذبات
Next عمرانیات

Comments are closed.