بڑا آدمی

تحریر فوٹوگرافر محمد اظہر حفیظ
مجھے میری امی جی بڑا آدمی بنانا چاھتی تھی اور اللہ کی طرف سے میں بہن بھائیوں میں بھی چھوٹا ھی پیدا ھوا اور امی جی بہت محنت کرواتی تھی وقت پر جگانا,تھکی ھاری سکول سے آتی سخت گرمیاں لائلپور کی سردائی بنا کر پلانا خواہش تھی میرا بیٹا لائق ھو ذھین ھو,بڑا آدمی بنے,جب بھی کوئی تعریف کرتا, کوئی ایوارڈ, میڈل ملتا تو رو دیتیں پر کہاں,
ھم تھے کوئی اثر ھی نہیں لیتے تھے وھی چھوٹے کے چھوٹے ایک دن مجھے کہنے لگیں محمد اظہر حفیظ تیرے لیے میں نے نوکری چھوڑ دی لائلپور چھوڑ دیا میرے دانت نکل گئے تیرے لیے دعائیں کر کرکے پر تو کب بڑا آدمی بنے گا میں بھی ھمیشہ کی طرح انکے گلے لگ کر رونے لگا کہنے لگی اب کیا ھوا امی سچ کہوں اگر ناراض نہ ھوں تو جی بولو تو میں نے روتے ھوئے کہا جب اللہ نے مجھے پیدا ھی چھوٹا کیا ھے تو بڑا کیسے بنوں اللہ کی ترتیب کو کیسے بدلوں, مسکرا کر کہنے لگیں اچھا نہ بن بڑا آدمی رونا تو بند کر اس دن سے انکی وفات تک دوبارہ انھوں نے مجھے بڑا آدمی دیکھنے کی آرزو نہیں کی بس ایک ھی دعا دیتی تھیں” کالو کرے قولیاں رب سدھیاں پاوے” اور اللہ نے ھمیشہ میری لاج رکھی میری سب بیوقوفیوں کو بھی سیدھا کرتے رھے اور زمانہ مجھے عزت دیتا رھا,
مختلف زندگی کے راستوں سے ھوتا ھوا میں ایک دن پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن میں آگیا میرا انٹرویو میجر جمیل صاحب,فخر حمید صاحب,اختر وقار عظیم صاحب نے کیا مختلف سوالوں کے بعد اختر صاحب گویا ھوئے آپ کا پروفائل بتاتا ھے آپ بہت جلد نوکری بدل لیتے ھیں اور ھمارا دوبارہ نوکری کا طریقہ بہت طویل ھے اس کے علاوہ آپ سب سے موزوں امیدوار ھیں میں نے کہا سر سرکاری نوکری میری بیوی کی خواہش ھے اس نے اس کے علاوہ کبھی کوئی خواہش نہیں کی جب تک شادی ھے انشاء اللہ نوکری نہیں چھوڑتا سب مسکرانے لگے جب بھی اختر صاحب ملے ھاں بھئی نوکری کیسی جا رھی ھے میں کہتا الحمداللہ مسکرا کر کہتے مطلب ھے گھریلو حالات بھی ٹھیک ھیں الحمداللہ آج اٹھارہ سال سے زائد ھو گئے پی ٹی وی کی نوکری کو,
وھاں ھمارے صاحب فخر حمید جو ڈپٹی کنٹرولر تھے اس وقت سن 1999 اور انکی ماں بھی انکو بڑا آدمی دیکھنا چاھتی تھیں اورانھوں نے بن کر دکھایا مجھے یاد ھے جب انھوں نے پہلی نئی گاڑی لی تو کچھ دن بعد انکی والدہ کا انتقال ھو گیا کہنے لگے یار دکھ ھےامی میری گاڑی میں نہ بیٹھ سکیں,ماں سے محبت کا اظہار میں نے فخر حمید صاحب سے زیادہ اپنی زندگی میں شاید ھی دیکھا ھوں امی کی وفات کے بعد انکے ھر طرف امی ھی تھیں انکی تصاویر,انکی باتیں,یادیں, بلکہ کہہ سکتے ھیں وہ اپنی وفات تک انکی وفات کے دکھ سے نکل ھی نہیں سکے,وقت کا پابند,ھر چیز ترتیب میں,کوئی املاء کی غلطی نہیں ھر چیز میں سیلیکٹو, صفائی پسند,محتاط, بار بار,ھر چیز کو چیک کرنا اور ایک نئے ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد رکھنا سینکڑوں لوگوں کو روزگار کے مواقع دینا,ٹیلی ویژن کی سکرین کا بدلنے کا نام ھی فخر حمید تھا,ھر بندے کا نام,کام,رابطہ نمبر انکو یاد تھا پتہ نہیں کب سوتے تھے اور کب جاگتے تھے رات کے کسی پہر بھی ایک املاء غلطی ھوگئی ساتھ ھی فون بج جاتا تھا یار یہ کیا ھو رھا ھے سکرین پر دیکھو اور یوں سلسلے چلتے رھے اور فخر حمید ماں کے خواب پورے کرتے کرتے ڈائریکٹر بن گئے, اور امیدوار تھے پی ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر بننے کے لیکن وقت نے مہلت نہ دی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے, یار قرآن کو ویژیولائز کرنا ھے اور کام شروع,یار ھم اپنے سوفٹ ویر بنائیں گے کام شروع, یار ویب سائٹ بناو,موبائل ایپ بناو,اکاونٹس کا سافٹ ویئر, میڈیکل کا سافٹ ویئر, ٹریننگ, گرافکس,گرافکس لیب,الیکشن ,ایوارڈز سب انکو یاد رھتا جب کوئی سوچنا شروع کرتا وہ کر چکے ھوتے,میرا ان سے کئی باتوں پر اختلاف تھا لیکن وہ ایک بڑا آدمی تھا اس میں کوئی شک نہیں تھی,ان کے ماں باپ خوش نصیب تھے کہ انھوں نے ایک بڑے آدمی کو جنم دیا انھوں نے جو سوچا اس کو عملی جامہ پہنایا ان کوششوں نے انکی صحت کو بہت نقصان پہنچایا مسلسل کام سفر بے آرامی ایک کام ختم اس سے پہلے اور شروع انکو سب یاد تھا سب کی فکر تھی ھر ھفتے ماں باپ کی قبر پر جانا,دعا کرنا صدقہ خیرات کرنا,ھنسنا,مذاق کرنا,غصہ کرنا,چھیڑنا,سب انکے مزاج کا حصہ تھا کسی کام میں دیر اور رکاوٹ انکو سیخ پا کر دیتی تھی,بھابھی حمیرا جب بیمار ھوئیں تو انکو وقت دینا شروع کیا وہ کمال عورت تھی انکی کامیابی کے پیچھے بھابھی حمیرا ھی تھیں انکے کبھی کسی کام میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں آئی اور رکاوٹ انکے مزاج کے برعکس تھی پھر ایک دن انکی ٹرانسفر پی ٹی وی اکیڈمی کر دی گئی بیوی کی بیماری کی وجہ سے
انھوں نے چھٹی لے لی مجھے امید واثق تھی جب وہ اکیڈمی آئیں گے تو اس کو بھی ایک ادارہ بنا دیں گے کیونکہ انکو فارغ بٹھانا ناممکن تھا 19 دسمبر 2017 دوپہر تین بجے مجھے اپنے دفتر سے فون آتا ھے فورا فخر حمید صاحب کے گھر پہنچیں اچھی خبر نہیں ھے میں جب پہنچا تو رونا بھول گیا یہ کیا دونوں میاں بیوی ایک ساتھ فوت ھو گئے میری زندگی کا یہ سب سے بڑا حادثہ تھا دوجنازے ساتھ ساتھ ,کوئی نہیں تھا پیچھے ایک بیٹی کے سوا, کہتے ھیں ان پر نیب میں کیس تھے, اور دکھ کی بات ھے قبر اور تدفین کے پیسے پی ٹی وی نے دیئے,یہ کیسا کرپٹ انسان تھا اپنا کفن,اور قبر تک کے پیسے چھوڑ کر نہ گیا مانا کہ وہ ایک بڑا انسان تھا وقت کا پابند تھا وقت پر چلا گیا,لیکن مجھے ایک بات سمجھا گیا شکر کرو تم چھوٹے آدمی ھو اور اللہ نے چھوٹا پیدا کیا ورنہ نوکری بھی سرکاری اور الزام بھی سرکاری,کفن بھی سرکاری,قبر بھی سرکاری,
فخر حمید صاحب ھم سب انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کے ساتھی آپکے شکر گزار ھیں کے آپ نے ھمیں نئی دنیا دیکھنے کے مواقع دیے اللہ آپ اور آپکی اھلیہ کے لیے اگلا جہاں آسان کریں امین اور آپ کی ٹیم کو آپ کے جلائے ھوئے دیئے روشن رکھنے کی ھمت دیں امین جن ساتھیوں کی فخر حمید صاحب کی کسی بات سے دل آزاری ھوئی ھو ھم سب آپ سے انکی طرف سے معافی کے طلبگار ھیں معاف کر دیجئے, جزاک اللہ خیر
اتنا بڑا جنازہ قسمت والوں کو نصیب ھوتا ھے اور آپ ھمیشہ کے خوش نصیب فخر حمید آپ والدین کے ھی نہیں ھمارے بھی فخر ھیں

Prev میں نہیں لکھنا چاھتا
Next شکر پڑیاں

Comments are closed.