زندگی

زندگی
تحریر محمد اظہر حفیظ

زندگی گزار دی ہم نے ۔ زندگی نے بہت سبق سکھائے اور بلآخر زندگی کو میں نے استاد مان لیا۔
پچاس سال زندگی کے بہت صحت مند گزرے یہاں تک کہ جسم پر کسی چوٹ کی شناختی علامت بھی نہ تھی۔ زیادہ سے زیادہ بخار ہوگیا یا پھر پیٹ خراب ہوگیا باقی سب بہترین تھا۔ والدہ محترمہ کے ساتھ زندگی کے اکتالیس حسین سال گزارے اور والد محترم کے ساتھ زندگی کے پینتالیس سال بہترین سال گزارے۔ زندگی میں ان دونوں نے اللہ کے فضل سے کبھی کسی محرومی کا شکار نہیں ہونے دیا، ہر چیز بروقت مہیا ہوئی الحمدللہ ۔گیارہ سال زندگی کے گاؤں میں گزارے وہ بھی بہترین تھے اور چوالیس سال اسلام آباد میں گزار لیے لیکن میں گاؤں سے نہیں نکل پایا ۔ جتنا میرا گاؤں بہترین تھا شاید اتنا اچھا اسلام آباد نہیں ہے۔ میرے گاؤں بہت پر امن تھا کبھی کوئی راستہ بند نہیں ہوا کبھی کوئی کنٹینر نہیں دیکھا تھا۔ نہ ہی میرے گاؤں میں سیلاب آتے تھے۔ بہت زیادہ بارشیں ہو جائیں تو سکول کے پلاٹ جن میں بیٹھ کر پڑھتے تھے پانی سے بھر جاتے تھے۔ کچھ ماہ میں وہ بھی خشک ہو جاتے تھے۔ خالہ سرداراں کے گھر سے لسی لیکر آتے تو وہ اس میں مکھن کا پیڑا بھی رکھ دیتیں تھی۔ یہ صرف گاؤں میں ہوتا ہے۔ پراٹھے کے ساتھ مکھن اور اس پر چینی دنیا کا بہترین کھانا تھا۔ آج بھی اتنا ہی پسند ہے ۔ پر کیا کریں تینوں چیزیں اکٹھی تو کیا الگ الگ بھی بند ہیں ، پراٹھا،مکھن اور چینی۔
لیکن اگر یہ تینوں چیزیں ایک جگہ دستیاب ہوں تو اس بندش کو توڑا بھی جاسکتا ہے۔ میری زندگی پر ڈاکٹروں نے بہت سے تجربے کیئے۔ کبھی کھیرے اور کوار کا جوس تو کبھی کدو کا سلش ، کبھی ابلے ہوئے ٹینڈے، تو کبھی سلاد تین وقت، سب الحمدللہ پڑھ کر کھا گئے ۔ کبھی شکوہ نہیں کیا پھر میرے رب نے دنیا کی تمام بہترین حلال اشیاء کھانا بھی نصیب فرمائیں۔ پھر جگر کے مسائل کا سامنا کچھ ماہ رہا اور بڑی بیٹی نے جگر دیا اور الحمدللہ دوبارہ سے صحتمند زندگی شروع۔
گاؤں سے پنجم تک پڑھا راولپنڈی سے میٹرک کیا اسلام آباد سے آئی کام کیا پھر لاہور سے ماسٹرز کیا اور پھر ایم فل اسلام آباد سے کیا یوں سولہ سال کی تعلیم مکمل کی ۔ ڈاکٹریٹ بھی ہو جانا تھا پر جگر راستے میں حائل ہوگیا۔ بہت سے اچھے لوگوں سے واسطہ رہا اور کچھ سے اب بھی ہے۔ پہلی دفعہ فلٹر کیمرے کے لینس پر لگایا اور پھر دوستوں پر بھی لگایا اب چند گنتی کے دوست ہیں شکر الحمدللہ ۔ زیادہ تر خود ہی چھوڑ گئے۔ شاید میرے اندر ہی کوئی کوتاہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ انکا بھلا کرے۔ کبھی زندگی کے بارے میں منفی نہیں سوچا ۔ ہنستے ہنستے گزار دی۔ زیادہ خوش ہوں تو رو پڑتا ہوں ۔ شاید یہ سہولت اب بڑے بھائی کے ساتھ ہی ہے۔ یا کبھی کبھار بیوی بچوں کے ساتھ بھی۔ الحمدللہ میرے رب نے کبھی پریشان نہیں ہونے دیا ۔ ہر چیز کا مصرف سکھایا ۔ زندگی کے پینتیس سال روزانہ اٹھارہ سے بیس گھنٹے کام کیا۔ صرف طبعیت کی خرابی کی صورت میں چھٹی کی۔ پہلی دفعہ دفتر سے تین ماہ کی چھٹی لی بغیر کسی وجہ کے ۔ آرام کرتا ہوں ، واک کرتا ہوں دو وقت مختصر کھانا کھاتا ہوں اور دو آم روزانہ کھاتا ہوں ۔ پہلی دفعہ پتہ چلا یہ بھی زندگی ہے۔ روزانہ ایک نئی جگہ واک کیلئے جاتا ہوں بغیر کیمرے کے۔ واک کرتا ہوں اور مناظر دیکھ کر انکا مزا لیتا ہوں۔ ساتھ ساتھ اللہ کی شان بیان کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں اور دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تفہیم القرآن ایپ نے اس سلسلے میں میری بہت راہنمائی کی ۔ اللہ تعالیٰ تفہیم القرآن لکھنے والوں اور اس ایپ کے بنانے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین۔ تقریباً ایک ماہ گزر گیا ہے دو ماہ ابھی باقی ہیں۔ مجھے اب احساس ہوا کہ ہم صرف کام کرنے کیلئے پیدا نہیں ہوئے۔ آرام کرنا بھی ایک اچھی مصروفیت ہے۔ اللہ بھلا کرے ان سب کا جنہوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھانے میں میری مدد کی۔ میری مجھ سے ملاقات کروادی۔ جگر کی پیوندکاری سے میرے رب نے بہت آسانی سے گزار دیا بیچارے انسانوں نے کیا تکلیف دینی۔ جب بھی لوگ تعارف کرواتے ہیں یہ منسٹر کا بندہ ہے ۔ یہ ادارے کا بندہ ہے۔ یہ اپنی بیوی کا بندہ ہے۔ میں بھی بڑے فخر سے بتاتا ہوں میں رب کا بندہ ہوں ۔

‏واجب تھی جس بات پہ حیرانی بہت
ہم “لڑکھڑائے “مسکرائے اور چل دیئے

Prev بے بسی
Next گاڑی

Comments are closed.