گاڑی
گاڑی
تحریر محمد اظہر حفیظ
گاڑی ضروریات زندگی کا اہم جزو بن چکی ہے۔ کچھ عرصے سے سوچ رہا تھا کہ گاڑی تبدیل کر لوں حالانکہ اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔ اپنے بجٹ اور سہولت کے مطابق مختلف گاڑیاں دیکھنا اور پڑھنا شروع کیں۔ کس میں کیا خصوصیات ہیں اور کیا خامیاں ہیں۔ کیا سپورٹیج پیٹرول ایوریج کم ہے، ہنڈا بی آر وی پیٹرول ایوریج اچھی ہے کمفرٹ کم ہے اور اندر سے سب کچھ نظر آتا ہے، ہنڈا سوک اچھی گاڑی ہے پر بہت نیچے ہے۔ ٹیوٹا جو ایک دفعہ ہونڈا استعمال کرلے وہ کسی اور گاڑی کا نہیں رہتا۔ ہیول گاڑی بہت اچھی ہے پر اون پر ملتی ہے۔ اس طرح ہر طرح کی گاڑی کو سٹڈی کیا۔ میں گاڑی لینے کیلئے تیار بیٹھا تھا کہ وسیم احمد بھائی لاہور سے آگئے ان سے بات ہوئی تو کہنے لگے یار اگر تو فالتو پیسے ہیں تو لے لو اگر تنگ ہوکر لینی ہے تو ہرگز یہ قدم نہ اٹھا۔ ان کی ہر بات سر آنکھوں پر۔ وہ گئے تو کچھ دن بعد اسلام آباد کی مشہور ژالہ باری ہوگئی۔ بہت زیادہ گاڑیوں کا نقصان ہوا کچھ ڈینٹ ہماری گاڑی کو بھی پڑ گئے۔ نقصان تو ہوا پر تکلیف کوئی نہیں ہوئی۔ میرے دوست ہیں تیمور ہنڈا کے ماہر ہیں ان سے بات ہوئی بھائی یہ ڈینٹ نکلوا دیں کہنے لگے اظہر بھائی نکلتے نہیں ہیں بہتر ہے اسی طرح چلائیں جب بیچنی ہوئی تو ڈینٹر کے پیسے مائنس کرکے لاکھ سستی بیچ دیجئے گا۔ مشورہ اچھا تھا عمل کیا گاڑی بہترین چل رہی ہے۔
کچھ دوستوں کابہت زیادہ نقصان ہوا۔
ابھی ژالہ باری کا دکھ کم نہیں ہوا تھا کہ مزید بارشوں نے آلیا ۔ پھر جو منظر دیکھے وہ سب برابر تھے پانی ہر گاڑی کو اسی سپیڈ سے بہارہا تھا۔
وہ شعر یاد آگیا
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ بندہ نواز
سب گاڑیاں ایک ہی صف میں بہہ رہیں تھیں۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے سوات میں ایک ہی فیملی کی بے بسی کی اموات سے جو سیلاب میں بہہ گئے۔ ان کی اموات پر آسمان وہ رویا کہ سب کچھ ہی بہی جارہا ہے۔ کبھی بابو سر ٹاپ کے پاس گاڑیاں سیلاب میں بہہ رہی ہیں اور کہیں سید پور ویلج میں گاڑیاں بہہ رہی ہیں۔ کہیں ڈی ایچ اے میں باپ اور بیٹی گاڑی میں بہہ جاتے ہیں اور کہیں شفٹ کی گاڑی چلانے والا جواںن ایک ٹیچر کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔
بادل پہلے بھی پھٹتے تھے پر کئی کئی سال کے بعد سننے کو ملتاتھا۔ اب تو یہ روز کا معمول بن گیاہے۔
راول ڈیم جو مکمل خشک ہونے کے قریب تھا چندبارشوں سے ہی مکمل بھر گیا ہے۔ اس کے سپل ویز کھولے جارہے ہیں۔ دریائے سواں کو بھی پہلی دفعہ غصے میں بپھرے دیکھا گیاہے۔ اب لوگوں کو سواں پر ڈیم کا آئیڈیا بھی یاد آگیا ہے۔ خشک دریاؤں نے اپنے پرانے راستے بحال کرلیے ہیں راستے میں آنے والی تمام رکاوٹیں ہٹا دی ہیں۔ سب سوسائٹیاں ایک برابر ہیں ۔ بحریہ ٹاون، ڈی ایچ اے، سید پور ویلج ایک برابر ہیں۔
سب شہر ایک برابر راولپنڈی ، اسلام آباد ، لاہور، کراچی، چکوال اور حافظ آباد ۔
کچھ دوست پانی کو محفوظ کرنے والے کنوئیں بنا رہے ہیں کچھ لوگ گرے ہوئے درخت اٹھا رہے ہیں اور کچھ لوگ میتیں اٹھا رہے ہیں ہر ایک کی مشکل الگ ہے۔
گاڑی والا آئیڈیا تو اب نہیں رہا کیونکہ اب سب گاڑیاں بھی ایک برابر ہیں ۔ گاڑی جو بھی ہو۔ بہہ ہی جانی ہے۔
اگر ہم ایک کام کریں اللہ کی رضا میں راضی ہوجائیں اور اپنے دماغ لڑانے بند کر دیں۔ تب ہی ممکن ہے کہ سہولت ہو جائے۔
بہت چھوٹے تھے برسات کے
موسم میں اکثر لوگ چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیتے تھے کہ یہ مشکل ٹل جائے۔ آجکل دعا سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود ہے۔
ہم سمجھتے ہیں پاکستان ایک پسماندہ ملک اور امریکہ ایک سپر پاور دونوں ممالک میں پانی ایک برابر ہی کھڑا ہے۔ اس لیے یاد رکھیں اللہ ہی سب سے بڑا اور طاقت والا ہے۔ اس کے آگے سب سر بسجود ہو جائیں تو بات بنے ۔
azhar
October 14, 2025
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020