پانچ منٹ
پانچ منٹ
تحریر محمد اظہر حفیظ
ماں باپ کے جانے سے جہاں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ وہاں نیند کا وہ مزا بھی ختم ہو جاتا ہے کہ پانچ منٹ بعد اٹھتا ہوں بس تھوڑی دیر اور۔
میری والدہ سکول میں ہیڈ مسٹریس تھیں۔ وقت کی بہت پابند تھیں۔ اور میری اس عادت سے بہت تنگ تھیں جب بھی سکول جانے کیلئے اٹھاتیں تو میری آواز آتی امی جی اٹھتا ہوں بس پانچ منٹ اور سونے دیں ۔ وہ میری اس عادت سے بے انتہا تنگ تھیں کئی دفعہ روہانسی ہو کر کہتیں محمد اظہر حفیظ تمھاری اس پانچ منٹ کی نیند کے پیچھے میری نوکری چلی جانی ہے۔ شاید چلی بھی گئی جب راولپنڈی شفٹ ہوئے تو امی جی کو نوکری چھوڑنی پڑی اور مجھے پانچ منٹ اور والی نیند۔
کل صبح اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ دل کر رہا تھا کہ پانچ منٹ اور سو لوں ۔ پھر خیال آیا کہ سسٹم میں یہ سہولت اب میسر نہیں ہے امی جی تو 2011 میں اللہ تعالیٰ پاس چلیں گئیں تھیں۔ میں گیلی آنکھوں کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور احساس ہوا کہ یہ سہولت تو صرف والدین کی زندگی میں ہی ہوتی ہے۔ میری چھوٹی بیٹی کو جب اس کی ماں اٹھاتی ہے عبیرہ بیٹے اٹھو سکول جانے کا وقت ہوگیا ہے تو آواز آتی ہے بس پانچ منٹ اور۔ تو میرا دل کرتا ہے کہ اپنی بیگم سے کہوں چل سولینے دے اس کی تو ماں زندہ ہے۔ سکول تو روز ہی جاتے ہیں۔ کون سے بورڈ کے پرچے مس ہو جانے ہیں ۔
ابھی بچوں سے پوچھا اجکل میٹرک میں پاسنگ مارکس کتنے ہوتے ہیں تو سب بچوں کی آواز آئی 33فیصد۔ جتنا بچوں کو پڑھایا جاتا ہے سارا دن عبیرہ پڑھ لو، عبیرہ سکول کا وقت ہوگیا، عبیرہ اکیڈمی کا وقت ہوگیا، عبیرہ ہوم ورک کرلو۔ مجھے محسوس ہونا شروع ہوگیا تھا کہ شاید اب پاسنگ مارکس 100فیصد ہوگئے ہیں۔
کیونکہ جب رزلٹ آتا ہے تو اخبار میں خبر آتی ہے اس دفعہ 1100میں سے 1100، سو سے زائد بچوں نے حاصل کئے۔
جبکہ ہمارے دور میں جیت اسکی ہوتی تھی جو 850 میں سے 281 نمبر لیکر پرانے میڑک کی ڈگری حاصل کرلیتے تھے۔ ساری زندگی لوگوں کی زندگی یہ سنا سنا کر برباد کر دیتے ہیں کہ سی ایس ایس کرنے والے بھی چھٹی کی درخواست میرے سے انگریزی میں لکھوانے آتے ہیں۔ کیا بات تھی پرانے میٹرک کی۔ یوں لائق لوگوں سے ہمیشہ فاصلہ ہی رکھا۔ کہ ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی پڑھائیوں کے بعد۔
او پی ایف کالج میں پڑھاتے تھے۔ ایک صاحب اپنے کاغذ دے گئے جاب کیلئے ۔ فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی پڑھانا چاہتے تھے ۔ کراچی سے میٹرک سائنس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بی ایس کے سٹوڈنٹس کو پڑھانے کیلئے بی ایس یا ایم ایس کی شرط نئی نئی رکھی تھی۔ میں نے ان سے معذرت کی کہ سر آپ ہمارے سینئر ہیں پر ہماری مجبوری ہے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اصولوں کے مطابق چلنا۔ اب وہ اجازت نہیں دیتے کہ میٹرک پاس بی ایس کو نہیں پڑھا سکتے۔ تو غصے سے گویا ہوئے ارے میاں ان جاہل ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لوگوں کو بتاؤ کہ ہم نے کراچی سے میٹرک سائنس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ پرانے میٹرک کی قدر وہ جانتے ہوں گے۔ میں نے پوچھا سر ناراض نہ ہوں کیا پہلے میٹرک بی اے کے بعد ہوتا تھا کیا۔ اور وہ ناراض ہوکر چلے گئے۔اج تک واپس نہیں آئے مجھے بھی بہت شرم محسوس ہوئی پرانے میٹرک کو چیلنج کرکے۔
کبھی کبھی دل کرتا ہے ایک دفعہ پرانا میٹرک بھی کرہی لیا جائے۔ تاکہ پتہ چل سکے وہ کیا پڑھتے تھے۔
ہم نے میٹرک تک پانچ سال عریبک پڑھی۔ پر جنہوں نے فارسی پڑھیں جب بھی انکا دل کرتا علمیت جھاڑنے کو وہ کوئی نہ کوئی فارسی کا شعر سنا کر علم کے جھنڈے گاڑ دیتے تھے۔ ہمیں سمجھ تو شعر کبھی نہیں آیا بس واہ واہ ضرور کی۔ اظہر نیاز بڑے بھائی ہیں اکثر شعر ٹھیک کرتے رہتے ہیں یار اس کی گرامر غلط ہے یہ وزن میں نہیں ہے میں بس اتنا ہی کہتا ہوں بھائی جان شوق شاعری کا ہے پر شعر کسی اور کا ہے۔ کل کہنے لگے اس نے شاید ٹھیک ہی لکھا ہوگا نقل کرنے والوں نے تبدیل کردیا ہوگا ۔ وہ ایک محقق ہیں یقیناً انکی بات درست ہوگی۔ کل دفتر سے چھٹی ہے پکا ارادہ کیا ہے صبح پانچ منٹ اور سوؤں گا ۔ اپنی امی جی کی یاد میں ۔ سنا ہے دریا خشک بھی ہو جائیں پر ریت سے ٹھنڈک نہیں جاتی۔
سب ماؤں کیلئے ڈھیروں دعائیں ۔ جو زندہ ہیں انکی سلامتی کی اور جو اللہ تعالیٰ پاس ہیں ان کی کامل مغفرت کی آمین
azhar
October 14, 2025
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020