ھندوستان
ھندوستان
مجھے لگتا ھے کوئی جنگ کے حالات ھیں انڈیا اور پاکستان کے اور اسکی تصدیق بھی ھوگئ جب دفتر سے گھر آیا تو بیگم نے کارتوس کے ڈبے الماری سے نکال کر باھر رکھے ھوئےتھے اور گن بھی میں سمجھ گیا اب انڈیا کی خیر نہیں ابھی بھائی سے پوچھا کوئی جنگ کا ماحول ھے کیا ,اس کا سوال تھا کیوں کیا ھوا میں نے بتایا تو وہ مسکرایا اور بولا اب انڈیا کی خیر نہیں بیس سال بعد یہ سب الماری سے باھر دیکھا ھے, انٍڈیا تیار ھوجا تیری ھن خیر نہیں, مجھے یاد ھے اچھی طرح ,جب پہلی دفعہ اندراگاندھی صاحبہ کی تصویر ھمارے ھاتھ لگی میں اور ناصر بھائی اس تصویر کو اس وقت تک چھتر مارتے رھے جب تک ھماری دلی اور ذھنی تسکین نہ ھوگئی اور بعد میں پتہ چلا پتلے جلانے اور چھتر مارنے سے انکو کوئی فرق نہیں پڑھتا یہ بے حس اور بے شرم لوگ ھیں, پھر ایک دن خبر آئی انکے سکھ گارڈ نے انکو ھلاک کردیا اس دن سے سکھ اچھے لگنا شروع ھوئے کم از کم ھم سے سکھ اچھے ھیں جو با عمل تو ھیں جو سوچتے ھیں کر گزرتے ھیں, یہ نفرت تب شروع ھوتی ھے جب میری ماں مجھے ھوش سنبھالنے سے بتانا شروع کرتی ھے کہ پاکستان کیسے بنا, مجھے یاد ھے ماں جی کیسے سکھ اور ھندو حملہ کرتے تھے عورتوں اور بچوں کو شہید کرتے تھے عورتوں کو اغوا کرتے تھے, کیسے مائیں جوان بیٹیوں کے منہ کالے کر کے ھجرت کر رھے تھے کسی کو نظر نہ آجائیں امی اکثر سناتے ہوئے رو پڑتی تھیں جب بھی سکھ نیزہ مارتے ایک خاتون نواز بھائی جو بہت چھوٹے تھے میرے خالہ زاد بھائی انکو کیسے ڈال کے طور پر اگے کرتیں تھیں اور اللہ نے انکو سب حملوں سے محفوظ رکھا, جب ھم لاھور پہنچے تو سر پر ڈوپٹہ بھی نہیں تھا اور پاؤں میں جوتا بھی نہیں وھاں بہت سے جوتے پڑے تھے ایک آدمی بیٹا جو جوتا پورا آئے پہن لو میں بہت روئی اور ایک جوتا پہن لیا اس دن ھم سب بہنیں بہت روئیں اور ھمیں سمجھ نہیں آرھی تھی یہ کیسی مشکل آزادی ھے, میں فوراً حوصلہ دیتا امی ھن دیکھو تہاڈے کول کنیاں جوتیاں نے وہ پھر رونے لگ جاتی امی ھن کی ھویا باؤ او ویلا نہیں بھلدا ساڈی تے ماں وی نہیں سی سانوں تے بہت ساریاں گلاں دا وی نہیں پتہ سی, میں نے ھمیشہ امی جی کو اس وقت کو یاد کرتے روتے ھی دیکھا پتہ نہیں کتنا گہرا دکھ تھا جو عمر بھر میری ماں کو رولاتا رھا, بہت مشکل ھوتا ھے اپنی ماں بہن بیٹی اور بیوی کو روتے دیکھنا, اللہ سب کے لیے آسانیاں کریں امین, اور خوش رکھیں امین, میری امی ساری زندگی پڑھاتی رھیں علم بانٹتی رھیں بہت با حوصلہ خاتون تھیں لیکن نانا ابو جنہیں سب میاں جی کہتے تھے ,ھجرت کا وقت اور اولاد کی کوئی تعریف کرتا ان تین چیزوں پر امی رو دیتیں ایک دفعہ پی ٹی وی اکیڈمی سے ایک ساتھی ٹیچر امی سے ملنے گھر آگیئں, بس انھوں نے کہا سر اظہر بہت اچھے ٹیچر ھیں اور امی رونا شروع وہ بیچاری عجیب صورتحال لا شکار آنٹی میری کوئی بات بری لگی ھے تو معاف کر دیں امی نہیں بیٹے کوئی بات نہی ںبس ایسے ھی رونا آگیا جب انکو واپس چھوڑنے گیا تو وہ بہت شرمندہ تھیں سر میری کوئی بات آنٹی کو بری لگی اور وہ رونے لگیں میں مسکرادیا وہ اور پریشان ھو گئیں سر میں پریشان ھوں اور آپ ھنس رھے ھیں جی ضرور آپ نے میری کوئی تعریف کی ھوگی , وہ بولیں جی سر آپ ھیں ھی بہت اچھے ٹیچر, اچھا یہ بات امی کو رلانے کے لیے کافی ھے اور وہ خوشی سے روئی تھیں پریشان نہ ھوں, امی جی کو اپنی کلاس فیلو اور محلے کے لوگ یاد تھے جو ھندوستان میں انکے ساتھ تھے, انکو لارڈ نے تقریر کرنے پر انعام بھی دیا تھا اور انکی زمینوں کے ساتھ جو کنواں تھا اور جو باغ تھا وہ سب یاد تھا لیکن انکو تکلیف اس سفر کی تھی جو جالندھر انڈیا سے لاھور آتے ھوئے ھندؤ اور سکھوں کے سلوک روا رکھا کیسے کسی کا گلا کاٹ دیا وہ نہیں بھولیں اور ساتھ ھمیں بھی یاد کراتی رھتی تھی ھندؤ مذمت سے نہیں مرمت سے ٹھیک ھوگا,
لیکن دسمبر 2010 امی سماء ٹی وی دیکھ رھیں تھیں اس پر کوئی رپورٹ چل رہی تھی گوجرانوالہ میں ساڑھے تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا امی رونا شروع ھوگیئں ھم کہاں آگئے ھم سے کیا ھوگیا اور امی جی کا دل سنک ھوگیا پانچ دن کومہ میں رھنے کے بعد امی ھوش میں آئیں جب تھوڑی ھمت آئی تو سب سے ملنے کی خواھش کی میں انکو آخری دفعہ فیصل آباد ,سمندری ,گاؤں سب جگہ لے کر گیا واپس آکر 12 جون 2011 کو وہ وفات پاگئیں لیکن وہ سوال کرتی رھیں کیا پاکستان ھم نے اس لئے بنایا تھا اس لیئے اتنی قربانیاں دی تھیں کہہ ھماری اولاد ھماری بیٹیاں محفوظ نہ رھیں, مجھے تو حالات دیکھ کر لگ رھا ھے ھم سفر ھجرت پر ھی ھیں اور ڈر ھے کوئی نیزہ باز نیزہ نہ مار دے کوئی اغوا نہ کرلے کوئی عزت پر ھاتھ نہ ڈال دے پتہ نہیں یہ ھجرت کب ختم ھوگی کب اسلامی جمہوریہ پاکستان بنے گا, کب سفر منزل تک پہنچے گا, میرے پاس انکے سوالوں کے جواب نہیں تھے اگر آپ کے پاس ھیں تو راھنمائی کریں
azhar
February 13, 2018
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020