قیصر رضوان

قیصر رضوان

قیصر رضوان آرکیٹیکچر کا ھم سے سینئر طالبعلم تھا ایک علیحدہ ھی فنکار انتہائی اعلیٰ فوک گلوکار اور رنگ باز مجھے یاد ھے میں موٹر سائیکل کی پیٹرول ٹینکی فل کرا کر ھاسٹل میں داخل ھوا موٹر سائیکل لاک کیا اپنے کمرے میں داخل ھوا ھی تھا دروازہ کھٹکا جی کون یار جی قیصر رضوان,
دروازہ کھولا خیر, ھے یار جی وہ ھسپتال جانا, ھے فوراً بڑے بھائی کا حادثہ ھوگیا ھے سواری دے دیں معاملہ ھی کچھ ایسا, تھا, فورا چابی حوالے کی,
کوئی پانچ دن گزرگئے قیصر رضوان کی کوئی خیر خبر نہیں میں بھی پریشان رکشے میں کالج آنا جانا اور سمجھ نہ آئے کیا کروں سب سے پوچھا غصہ بھی بہت اور پریشانی بھی آخر رات کو قیصر آگیا, سجن یار موٹر سائیکل میں پیٹرول نہیں تھا بتاتے تو سہی کیا مطلب ٹینکی فل تھی یار جب میئو ھسپتال پہنچا تو پتہ چلا بھائی کا حادثہ ساھیوال میں ھوا ھے اور وہاں کے ھسپتال میں ھے میں سیدھا ساھیوال چلا گیا بڑے فائدے ھیں اپنی سواری کے بھی اب بھائی گھر شفٹ ھوا تو واپسی ھوئی ساھیوال سے نکلتے ھی پیٹرول ختم ھوگیا بڑا غصہ آیا تم پر کہ یار بندہ پیٹرول ھی ڈالوا لیتا, ھے وہیں ایک پیٹرول پمپ پر موٹر سائیکل کھڑی کی اور بس میں ذلیل ھوتا ھوا, آیا ھوں تیری وجہ سے,
یہ پکڑ کاغذ اور چابی ساھیوال سے پہلے آئے, گا پمپ وہاں سے لے لینا اپنا بائیک ناراض نہ ھوئیں پیٹرول ڈالوکے رکھا کر جگر,
میں اور ایک دوست ساھیوال جا کر موٹرسائیکل لے کر آئے بہت غصہ آیا اسکے بعد قیصر بڑی کہانیاں سنائیں پر مجھ پر کوئی اثر نہیں ھوا,
فیئر ویل کی تیاری تھی ھم بھی ڈرامہ پرفارم کر رہے تھے اور کالج کے حالات بھی کچھ کشیدہ تھے سب ھی لوڈڈ تھے دوران ریہرسل قیصر نے اپنی گن نکال کر آڈیٹوریم کے بینچ پر رکھ دی کچھ واہیات سی حرکت تھی راؤ دلشاد یار, پیا, اسنو سمجھا میں نے جیکٹ کی جیب میں ھاتھ ڈالا اور پانچ یا چھ گولیاں قیصر کے ھاتھ میں پکڑائیں یہ پستول میں ڈال لیں خالی اچھا نہیں لگ رھااور قیصر کی شکل دیکھنے والی تھی, یعنی کہ آپ بھی,
جواب تھا ھاں جی خیال کریں اور جیکٹ کے اندر رکھیں,
اس طرح کی نوک جوک قیصر سے لگی رھتی,
تھرڈ ائیر میں آئے تو نئی فرسٹ کی شیپ چیک کرنا شروع کی تو ایک نیا لڑکا اوئے ادھر آ کدھر کی تیاری ھے تمیز سے بات کرو فائنل ائیر آرکیٹیکچر کا ھوں,
اچھا پتر جی ساڈے نال چالاکیاں دس سید اختر صاحب دا کمرہ کتھے,
کیوں دساں دفعہ ھو,
جواد بشیر اور احسن رحیم اینڈ پارٹی چھت پر تیار تھی اشارہ کیا اور بھائی جان کو نہلا دیا, تھوڑی دیر میں ظہور الکریم, سید محمد جعفر, قیصر رضوان یار پیا جی اے کی کیتا اے, اے کون اے ظہور بھائی ساڈہ کلاس فیلو اے بہت پڑھاکو اے ھر ویلے لائبریری وچ ھوندا اے تسی کدی جاؤ تے پتہ ھوئے چل سوری کر جی اچھا ویسے میں نے ان سے سوال پوچھا تھا کہ سید اختر کا کمرہ کدھر ھے جواب ھی نہیں دیا بلکہ بدتمیزی کی تو یہ غلطی ھوئی, سوری بھائی جی غلطی سے ھوگیا,
اگلے دن ھماری ساری کلاس تیار تھی وہ بھائی جیسے ھی آئے جواد بشیر کو اشارہ کیا جواد نے روک لیا سرکاراں کدھر جارھے ھو,
اوئے تمیز نال گل کر فائنل ایئر کا ھوں اچھا عسکری میاں ایرانی کا کمرہ کدھر ھے کیوں بتاؤں تیرے باپ کا کالج ھے اور گیٹ کراس کیا اور ساتھ ھی ھم نے نہلا دیا وہ غصے میں ساری اپنی کلاس لے کی آگیا جواد نے بھی سوری کر لیا اچھا تو آپ ھیں جن کے ساتھ کل غلط فہمی ھوئی تھی سوری جناب اپکو کبھی کالج میں دیکھا ھی نہیں معاف کر دیں معافیاں ھیں سرعام معافیاں اور معاملہ ختم ھوا جب تیسرے دن وہ کالج داخل ھوئے ھماری ایک کلاس فیلو نے روکا اوئے جگر کدھر کی تیاری ھے کدھر, کا دھیان ھے اس کو بھی سمجھ لگ گئی ھنسا اور یار بلاؤ سب کو ھم جہاں جہاں چھپے تھے حاضر ھو گئے یار میری جان چھڈ دیئو میں معافی چاھتا, ھوں او سامنے سید اختر صاحب دا کمرہ اے تے نکڑ والا عسکری صاحب دا ھن مینو بخش دیئو اس مذاق پر ماحول کافی بہتر ھوا,
ھاسٹل میں پنجابی پٹھان لڑائی ھو گئی بہت ٹینشن تھی رات کو دروازہ کھٹکا کون راجہ معظم پیا جی دروازہ کھولا دس کے قریب لڑکے تھے ھاتھوں میں پوسٹر کلر میرا منہ رنگا اپنے کلر لو اور خاموشی سے ساتھ ھو لو جناب پھر سب کمروں پر ایکشن ھوا, کوئی 110 لوگ رنگ برنگے منہ نہ کوئی پٹھان تھا نہ سندھی اور نہ پبجابی ماحول خوشگوار ھوگیا سب مولا کے ٹی سٹال پر, چائے پینے چلے گئے
ابھی چائے شروع کی تھی کہہ ایک بدقسمت پولیس وین آگئی اتنے زیادہ نیکروں میں ملبوس لڑکے اور ھر, ایک کے منہ پر نیا رنگ چار یا پانچ پولیس والے تھے اوئے اے کی ھوریا اتھے, میں جی جناب آو دسدے آں, بس پہلے پولیس والے کا منہ رنگا اور پھر سب نے بہت احترام سے رنگین پولیس والے بنا دئے جب چائے کی آفر کی ویر سانوں جان دیئو رات دے تین وجے کھلا پانی پتہ نہیں کتھوں لبھے گا منہ ھاتھ دھو کے تھانے وی جانا اے,
سید اختر صاحب انتہائی سخت مزاج استاد تھے میں پانی کا شاپر ھاتھ میں لیئے اپنی کمر کے پیچھے چھپائے کھڑا تھا اوئے سب نو منع کر پانی نہ سٹن جی سر اتنے میں کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز آئی کیا تکلیف ھے پانی کس نے پھینکا ھے سید صاحب ادھر متوجہ ھوئے پاس سے گزرتی ایک اور پر میں نے شاپر پھینک کر ھاتھ خالی کیا وہ بولی سر اس نے پانی پھینکا ھے جو اپکے ساتھ کھڑا ھے سید صاحب بی بی یہ تو میرے ساتھ ھے یہ کیسے پھینک سکتا ھے,

Prev این سی اے میں دوستیاں اور دشمنیاں
Next زینت جبار

Comments are closed.