پرانی انارکلی 

پرانی انارکلی
مجھے یاد ھے سال 1990 این سی اے میں پہلا سال اور مجھ سا بیوقوف عقل اور دانش کی باتیں سیکھنے اور سننے پرانی انارکلی مِیرا ٹی سٹال کے سامنے بیٹھتے یہ بیٹھک شام سے رات گئے تک جاری رھتی جس میں ایک بینکر, پنجابی رسالے کے ایڈیٹر, فائن آرٹ کے پروفیسر, نمبرولجی کے دو ماھر, ایک لوھے کے کاروباری اور کچھ اور دانشور تشریف لاتے, بہت عظیم دعوے اور علم کی باتیں ھوتیں یہ تقریباً سب وہ لوگ تھے جن کی بیویاں انکو گھروں میں دیکھنا پسند نہیں کرتی تھیں اور یہ پرانی انارکلی آکر نوجوانوں میں کیمونزم کا علم تقسیم کرتے تھے اور رات گئے انکے پاس چائے کے پیسے دینے کے وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھنا مجھے آج بھی یاد ھے,
یہ روز فیصلہ سناتے آج حکومت کی آخری رات ھے مارشل لاء کل لگ جائے گا آج قصور میں ریڈ الرٹ تھا آج تو بی بی کی حکومت بہت مشکل سے بچی اس طرح زندگی کے چھ ماہ میں نے یہ عقل کی باتیں سنیں صبح کالج میں نیند آتی لوگ ھمیں جگر یا کیمونسٹ کہتے آوازیں لگاتے اور جب کچھ نہ بدلا یہاں تک کہ چائے والی دوکان یا کرسیوں کی جگہ گفتگو کے عنوان کچھ بھی نہ بدلہ تو میں نے بدلنے کا سوچا اور وھاں جانا چھوڑ دیا الحمدللہ بچ گیا, آج جب فیس بک اور فیس بک کے دانشور دیکھتا ھوں تو پرانی انارکلی اور اسکے دانشور یاد آجاتے ھیں, جو روز ملک میں اب کیا ھوگا کا فیصلہ سنا دیتے ھیں نوازشریف کے فلیٹ اور دولت ,عمران خان کے نشے اور نئی شادی, طاھرالقادری کے دوست لڑکے اور چندے, الطاف حسین کی کھالوں اور حرام کاریوں, بلاول کی مردانہ کمزوری اور وجاھت, زرداری اور ایمان علی کی پردہ پوشیاں, مولانا طارق جمیل کے بیان, جنید جمشید کی لان اور پرفیوم, مصباح کی ٹک ٹک, سرفراز کبھی مایوس نہیں کرے گا ان کو سب پتہ ھے پر یہ نہیں پتہ ھوتا گھر میں پکا کیا ھے اور اگر پلاٹ سرکار نے دیا ھے تو تعمیر کیسے ھوا , میریٹ کی لابی میں بیٹھ کر کسی کا انتظار کرنا اور بعد میں آنے والے سیاستدان یا سیانے سے کھانا کھانا چائے پینا, اور عقل کی باتیں کرنا اور لکھنا, کیا یہ غیرت مند ھیں جو معاشرہ درست کریں گے, کیا یہ حال بدلیں گے یہ حال بتائینگے , ان دانشوروں سے تو وہ اچھا جو چوک میں بیٹھ کر مزدوری کا انتظار کرتا ھے شام کو بچوں کے لیے رزق حلال لے کے جاتا ھے میریٹ, سرینا کا بھوک منگا تو نہیں,
جن لوگوں کو کئی کئی ماہ تنخواہ نہیں ملتی ان کے گھر کیسے چلتے ھیں اور ان کے کھانے کے بل کون دیتے ھیں رب جانتا ھے انکی بیوی کو بھی نہیں پتہ ھوتا کہ وہ کس عظیم دانشور کی بیوی ھے, ھمیں ایسی دانش نہیں چاھیے ھم بیوقوف ھی اچھے, ایک دن ایک نئے جرنلسٹ دوست سے بات ھوئی کہنے لگے تمھارے جیسے بڈھے جب پھنستے ھیں تو ھمارے پاؤں آکر پکڑتے ھیں مجھے سمجھ نہیں آئی میں پھنسوں گا کیوں اور انکے پاؤں کیوں پڑوں گا, اللہ میری عزت شرم کی حفاظت کریں امین مجھے ان سے نہ ھی واسطہ پڑے اس لیے کم دانشوروں سے رابطہ ھے

Prev شکر الحمدللہ 
Next محافظ

Comments are closed.