چلتے چلتے

چلتے چلتے
تحریر محمد اظہر حفیظ

بچپن میں بچوں کیلئے لکھی گئی کہانیاں بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ اس میں لکھنے والے مختلف زندہ رہنے کے طریقے بتاتے تھے۔ جسمیں ایک فلسفہ یہ بھی تھا کہ انسان کے سانس گن کر اسکی زندگی کی طوالت لکھی گئی ہے۔ اور ایک کریکٹر سانس روکنے کی پریکٹس کرتا تھا اور کئی کئی دن سانس روک سکتا تھا جس سے اس کی عمر بڑھتی جارہی تھی اور وہ کئی سو سال کا ہو گیا تھا شاید اس سیریز کانام امبر، ناگ، ماریہ تھا۔
مجھے کبھی کبھی لگتا شاید اسی طرح کا فلسفہ چلنے کے ساتھ بھی منسلک ہو۔ رات کے پچھلے پہر جب میری ٹانگوں کے پٹھے کھینچتے ہیں تو مجھے کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید جتنا چلنے کی میری عمر تھی میری ٹانگیں وہ چل چکیں۔
اب جہاں دل کرتا ہے جواب دے جاتیں ہیں۔ میں زندگی میں اتنا چل چکا ہوں کہ خواب میں بھی چلتے چلتے ٹانگوں کے پٹھے کھینچ جاتے ہیں۔ اور میں سویا ہوا اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں یا پھر اٹھ کر چلنا شروع کردیتا ہوں ۔ میرے بچے فورا پوچھتے ہیں بابا ٹانگیں کھینچ گئیں ہیں کیا ۔ تکلیف اتنی ہوتی ہے کہ جواب دینا مشکل ہوجاتا ہے۔
میں نے بھی حد کردی ہر جگہ چلتے چلتے پہنچنے کی کوشش کی۔
شروع سے ہی مجھے پیدل چلنے کی بہت عادت تھی۔ اور میں چلتے چلتے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا۔ مجھے یاد ہے جب میں چائنہ گیا تو میں روزانہ کم از کم 25 کلومیٹر پیدل چلتا تھا مجھے اندازہ نہیں تھا کہ چائنہ کتنا بڑا ہے بس چلتا رہتا تھا۔ جب دیوارچین کا وہ حصہ جس کو پیدل کراس کرنے کی اجازت ہے وہاں جانا تھا تو انتظامیہ نے بتایا کہ کم سے کم سامان رکھیں آسانی ہوگی ۔ ہم ٹھہرے گاوں کے جوان انکی کیسے مانتے۔ اپنا 35 کلو کا کیمرہ بیگ بمعہ کیمرہ سٹینڈ کمر پر پہنا اور چل دئیے۔ کیبل کار میں بیٹھے اور دیوار چین کے پیدل چلنے والے حصے پر پہنچ گئے۔ الحمدللہ ہمارا زاد راہ سب سے زیادہ اور بھاری تھا۔ چلتے چلتے ہزاروں سیڑھیاں چڑھنی اور اترنی تھیں ۔ چل پڑے ۔ پھر پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ شاید ٹانگوں کے چلنے کی معیاد شاید ختم ہوگئی ہے اور اب چائنیز ٹانگیں ہی لگوانا پڑیں گی۔ تصاویر تو اچھی بن گئی پر ٹانگوں نے میرا کہنا ماننا چھوڑ دیا بلکل ناہنجار اولاد کی طرح۔ انکو جو کہوں وہ اس کا الٹ ہی کریں۔ رکنے کا کہوں تو وہ دوڑنے لگ جائیں۔ چلنے کا کہوں تو رک جائیں۔ عجیب صورتحال ہوگئی ۔ چائنیز دوستوں نے راہنمائی کی کہ اپنی ٹانگوں پر اپنے ہاتھوں سے مکے ماریں اور اس کا فائدہ یہ ہوا پھر چلنے لگ جاتیں۔ جس طرح بدتمیز بچوں کو مکے کروائے جاتے ہیں ۔ اللہ اللہ کرکے منزل پر پہنچے تو سب نے کہا سب زمین پر لیٹ جائیں ورنہ گر جائیں گے۔ اور ہم سب لیٹ گئے ۔ اب ہر تھوڑی دیر میں ایک چائنیز جوڑا آئے اور میری ترجمان سے کہے اس کے ساتھ تصویر بنوانی ہے فوٹوگرافر تو 12 تھے پوری دنیا سے پر ہیرو میں ہی تھا جس کے ساتھ سب تصاویر بنوا رہے تھے اچھا لگ رہا تھا وہ تھوڑا سا مڑ کر کھڑے ہونے کو کہتے اور میری بیگ سمیت اپنے ساتھ تصویر بنواتے۔ مجھے حیرانی ہوئی تو ترجمان سے پوچھا ماجرا کیا ہے تو کہنے لگی کہ دیوار چین کراس کرنے والے کو ہم ہیرو سمجھتے ہیں پر آپ معامل مختلف ہے اتنا وزن اٹھا کر دیوار چین کراس کرنے والا یقیننا سپر ہیرو ہوگا اس لیے جس جس نے آپ کو آتے دیکھا ہے وہ آپ کے ساتھ تصویر محفوظ کر رہا ہے ۔
سوچا تھا شاید یہ زندگی کا سب سے مشکل سفر کر لیا ہے پر پھر اڑنگ کیل جانے کا اتفاق ہوا وہ مشکل مگر مختصر ٹریک تھا۔
پھر جب فیری میڈوز گئے احتیاطاً بیگز تو پوٹرز اور دوستوں نے اٹھا لیے۔ پر اس ٹریک نے بھی دیوار چین یاد کروادی۔
سنا ہے چلتے رہنا زندگی ہے، زندگی پانے کیلئے میں مختلف راستوں پر چل پڑتا ہوں۔ میں ایک مسافر ہوں ۔ سویا ہوا بھی چلتا رہتا ہوں۔ چلتے چلتے جیسے منزل پر پہنچنا ایک عمل ہے اسی طرح ٹانگوں کا کھینچنا بھی ایک عمل ہے ۔
زندگی کے سفر میں چلتے چلتے بہت سے لوگ آپ کی ٹانگیں کھینچتے ہیں تاکہ آپ آگے نہ بڑھ پائیں۔ اس کا آسان سا حل ہے دوگلاس پانی کے پئیں اور پھر چل پڑیں۔ یاپھر اپنی ٹانگوں پر مکے ماریں ٹانگیں کھینچنے والے ڈر کر ہی پیچھے ہٹ جائیں گے کہ یہ ظالم اپنے آپ کو ایسے مارتا ہے تو ہمیں کیسے مارے گا۔
چلتے رہیں آگے بڑھتے رہیں۔ ٹانگیں کھیچنا اور ٹانگیں کھینچنے والے دونوں سے زندگی بھر آپ کا واسطہ پڑتا رہے گا۔
درست سمت میں چلنا شرط منزل پر اللہ باری تعالیٰ آپ کو پہنچا دیں گے۔ انشاء الله
بیٹھے رہنے والوں کو منزلیں نہیں ملا کرتیں۔
بقول شاعر
غم بہت دور تلک میرے ساتھ جو گئے
مجھ میں تھکن نہ پائی تو واپس لوٹ گئے

Prev اللہ کو تو پتہ ہے
Next ساونڈ سپیشلسٹ

Comments are closed.