بے بسی
بے بسی
تحریر محمد اظہر حفیظ
میں ہمیشہ سے بے بسی کی زندگی اور بے بسی کی موت سے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں۔
ابھی بارشوں میں بہت سی ایسی اموات دیکھنے کو ملیں جب سوچتا ہوں تو روح کانپ جاتی ہے۔
سوات میں ایک مکمل فیملی کی ہلاکت کس طرح وہ مدد کو پکارتے رہے۔ بچوں کو پانی سے بچانے کیلئے گود میں اٹھالیا ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لیے اللہ کانام لیتے رہے مدد کیلئے پکارتے رہے۔ سب ہلاک ہوگئے اور ہلاک ہونے والوں کی میتیں پتہ نہیں جس طرح اکٹھے سیر کیلئے آئے تھے ویسے ہی گئیں ہیں یاابھی بھی کچھ کی تلاش جاری ہے۔
ڈی ایچ اے میں بیٹی نے جب والد صاحب سے کہا ہوگا بابا بارش بہت ہے مجھے چھوڑ آئیں والد بیٹی کو بارش کے پانی سے محفوظ رکھنے کیلئے خود گاڑی پر ساتھ ہو لیے۔ بیٹیوں کا باپ ہوں تو یہ روزانہ کا معمول ہے بابا بارش ہے چھوڑ ائیں۔ سیلاب کی نظر ہوگئے والد آخری دم تک مدد کیلئے پکارتے رہے گاڑی سنبھالنے کی بھی کوشش کرتے رہے۔ والد صاحب کی میت تو مل گئی پر بیٹی کی تلاش ابھی جاری ہے ۔ گھر والوں پر جو گزر رہی ہے گھر والے ہی جانتے ہیں۔
مرنے والے تو مرگئے گھر والے روز جیتے اور مرتے ہیں۔سوچتا ہوں کیسے باپ بیٹی گاڑی میں بیٹی کو دلاسہ دیتا ہوگا انشاء اللہ کچھ نہیں ہوگا ہم نکل جائیں گے اللہ تعالیٰ ہماری مدد کریں گے میری بیٹی درود شریف پڑھو۔ استغفرُللہ پڑھو۔ بیٹے تم میرا ہاتھ پکڑ لو۔
اللہ کو یاد کرتے کرتے اللہ پاس چلے گئے۔
خیبر ٹی کی اینکر اور اسکی فیملی بابوسر کے نزدیک سیلاب میں گم ہوگئے کیسے وہ اس سیلاب میں بھی اپنے دونوں بچوں کو سنبھال رہے ہوں گے یااللہ خیر یااللہ خیر کہہ رہے ہیں گے بچے کھڑکی سے باہر نکل گئے اور گاڑی قلابازیاں لگانے لگ گئی ہوگی اور پھر سیلاب بھی ختم اور سب کچھ بھی ختم۔ میتیوں کی تلاش جاری ہے۔
لودھراں کی ڈاکٹر فیملی کیا سوچ کر سیر کے نکلے ہونگے کہ سب ساتھ چلتے ہیں اور ساتھ ہی چلتے گئے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اتنی بے بسی۔ یااللہ معاف فرما دے سب کی حفاظت فرما آمین ۔ کچھ لوگ اللہ پاس چلے گئے کچھ کی تلاش جاری ہے۔
ایک گاڑی میں ہلا گلا کرتے پانچ نوجوان دوست بھی تھے اس آفت نے انکو بھی چھپا لیا اور تلاش جاری ہے مائیں دعاگو ہیں یا اللہ تو اپنا فضل دکھا سب صحیح سلامت واپس آجائیں۔ تو سب کرسکتا ہے۔ کوئی معجزہ دکھادے۔
غزہ میں تو زندگی کی بے بسی کا حساب ہی نہیں کیونکہ گولی تو بڑا بچہ نہیں پہچانتی وہ تو بس ہلاک کرنا ہی جانتی ہے۔
ایسی آفتوں کا مقابلہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکتی بس دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ یااللہ ہم سب کو ایسی آفتوں سے محفوظ رکھ آمین۔
ہر سال بارشوں کے ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں اور کبھی دریاؤں کے بند ٹوٹ جاتے ہیں۔
ہم نے سیلابی بے بسی بھی دیکھی اور پانی کی کمی کی صورت میں آنے والی خشک سالی کی بے بسی بھی دیکھی۔
یاللہ ہم بہت کمزور ہیں تیرے فضل وکرم کے سہارے ہی زندگی گزارتے ہیں ہم تیرے ہر امتحان کے اگر بے بس ہیں ہم کسی امتحان میں مت ڈال آمین یا رب العالمین
جب بجلی گرجنے کی آواز آتی ہے یا زلزلہ آتا محسوس ہوتا ہے میری سب سے چھوٹی بیٹی دوڑ کر میرے گلے لگ جاتی ہے بابا جی ڈر لگ رہا ہے۔ بیٹے استفسار کرو اللہ کو یاد کرو۔
اور بے بس باپ کر بھی کیا سکتا ہے۔ رونے کو دل کرتا ہے تو رو بھی نہیں سکتا بچے پریشان ہو جائیں گے۔ پتہ نہیں کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے یہ مرنے والے سب میرے بچے تھے میں بہت بے بس ہوں انکی مدد نہیں کرسکا۔ یااللہ مجھے معاف کردینا۔ ہمارے پاس تیرے سوا کوئی سہارا نہیں ہے۔ تو ہی ہم سب کی مدد فرمانے والا ہے۔ آمین
azhar
October 14, 2025
Blogs
Comments are closed.
Copyright 2020